شاعری

یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہے

یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہے اسے افلاک سے لایا گیا ہے چمن پہ رنگ آتا ہی نہیں تھا تری پوشاک سے لایا گیا ہے یہ دل جس سے میں شرمندہ بہت ہوں اسی بے باک سے لایا گیا ہے اجالا ہے جو یہ کون و مکاں میں ہماری خاک سے لایا گیا ہے یہ جو کچھ بھی ہے آیا ہے کہاں سے دل صد چاک سے لایا گیا ہے یہاں ...

مزید پڑھیے

اس خوش ادا کے آئنہ خانے میں جاؤں گا

اس خوش ادا کے آئنہ خانے میں جاؤں گا پھر لوٹ کر میں اپنے زمانے میں جاؤں گا رہ جائے گی یہ ساری کہانی یہیں دھری اک روز جب میں اپنے فسانے میں جاؤں گا یہ صبح و شام یوں ہی رہیں گے مرے چراغ بس میں تجھے جلانے بجھانے میں جاؤں گا یہ کھیل ہے تو خوب مگر تیرے ہاتھ سے اس ٹوٹنے بگڑنے بنانے میں ...

مزید پڑھیے

یہ ساری دھول مری ہے یہ سب غبار مرا

یہ ساری دھول مری ہے یہ سب غبار مرا گزر ہے تیرے خرابے سے بار بار مرا خزاں تو کیا نہیں جس کی بہار کو بھی خبر اک ایسے باغ کے اندر ہے برگ و بار مرا ہے دل کے نغمہ و نالہ سے اب گریز مجھے ملا ہوا ہے کسی اور لے سے تار مرا میں خوش ہوں نان و نمک پر تو اس کی داد نہ دے کہ بھیک مانگتا پھرتا ہے ...

مزید پڑھیے

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہے

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہے میرے بستر میں اذیت کی فراوانی ہے مجھ کو تو وہ بھی ہے معلوم جو معلوم نہیں یہ سمجھ بوجھ نہیں ہے مری نادانی ہے کچھ اسے سوچنے دیتا ہی نہیں اپنے سوا میرا محبوب تو میرے لیے زندانی ہے ہے مصیبت میں گرفتار مصیبت میری جو بھی مشکل ہے وہ میرے لیے آسانی ...

مزید پڑھیے

سن! ہجر اور وصال کا جادو کہاں گیا

سن! ہجر اور وصال کا جادو کہاں گیا میں تو کہیں نہیں تھا مگر تو کہاں گیا جب خیمۂ خیال میں تصویر ہے وہی وہ دشت نا مراد وہ آہو کہاں گیا بستر پہ گر رہی ہے سیہ آسماں سے راکھ وہ چاندنی کہاں ہے وہ مہ رو کہاں گیا جس کے بغیر جی نہیں سکتے تھے جا چکا پر دل سے درد آنکھ سے آنسو کہاں گیا پھر ...

مزید پڑھیے

نیند میں گنگنا رہا ہوں میں

نیند میں گنگنا رہا ہوں میں خواب کی دھن بنا رہا ہوں میں ایک مدت سے باغ دنیا کا اپنے دل میں لگا رہا ہوں میں کیا بتاؤں تمہیں وہ شہر تھا کیا جس کی آب و ہوا رہا ہوں میں اب تجھے میرا نام یاد نہیں جب کہ تیرا پتا رہا ہوں میں آج کل تو کسی سدا کی طرح اپنے اندر سے آ رہا ہوں میں ایسا مردہ ...

مزید پڑھیے

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا بس اور کپڑا نہ سل سکے گا جو تن پہ ہے تار تار ہوگا تلاش گندم کو گھر سے نکلے گا قافلہ مور ناتواں کا پلٹ کے آیا تو سب کے پہلو میں اک دل دغدار ہوگا قصائی بکرے کا گوشت لے کر سبھی ہمالہ پہ جا چڑھیں گے جو ان کا پیچھا کرے گا گھس پس کے ایک مشت غبار ...

مزید پڑھیے

نہ شہرت ہے نہ رسوائی مرے پیچھے

نہ شہرت ہے نہ رسوائی مرے پیچھے مگر ہے میری تنہائی مرے پیچھے سپاہی میرے لشکر میں بہت کم ہیں ہزاروں ہیں تماشائی مرے پیچھے میں تنہا تھا مگر جب آئنہ دیکھا تری صورت نظر آئی مرے پیچھے مہک آنے لگی پردیس میں اس کی چلی کچھ ایسی پروائی مرے پیچھے کوئی خوش ہو گیا مجھ سے الگ ہو کر کسی کی ...

مزید پڑھیے

اس کو شاید بری لگے سگریٹ

اس کو شاید بری لگے سگریٹ مت جلا اس کے سامنے سگریٹ میرا محبوب آنے والا ہے اور کچھ دیر ساتھ دے سگریٹ میرے سینے میں آگ ہے ایسی پھونک ماروں تو جل پڑے سگریٹ مت بڑھاؤ مری طرف ساغر چھین لو میرے ہاتھ سے سگریٹ میری بھی کیوں خراب کی مٹی جاتے جاتے بتا تو دے سگریٹ سانس لیتی ہے آخری ...

مزید پڑھیے

دور ہی سے نہار لیں گے ہم

دور ہی سے نہار لیں گے ہم تم کو شرمندہ کیا کریں گے ہم صوفیوں کی طرح جئیں گے ہم درد میں رقص بھی کریں گے ہم مسکرا کر کرو ہمیں رخصت تم بھی روئے تو کیا کریں گے ہم دے کے جاتے ہو زندگی کی دعا کیا تمہارے بنا جئیں گے ہم اپنے گھر میں بھلے لڑیں جھگڑیں ایک ہی چھت تلے رہیں گے ہم پہلے ماں باپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5417 سے 5858