شاعری

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے ہمارے ساتھ ہوں دو چار بھی جو ہم جیسے کسے دماغ جنوں کی مزاج پرسی کا سنے گا کون گزرتی ہے شام غم جیسے بھلا ہوا کہ ترا نقش پا نظر آیا خرد کو راستہ سمجھے ہوئے تھے ہم جیسے مری مثال تو ایسی ہے جیسے خواب کوئی مرا وجود سمجھ لیجئے عدم جیسے اب آپ خود ...

مزید پڑھیے

ان کو اپنے قریب دیکھا ہے

ان کو اپنے قریب دیکھا ہے خواب میں نے عجیب دیکھا ہے میری آنکھوں سے جتنا دور ہے وہ اتنا دل کے قریب دیکھا ہے عشق کو کچھ نہ دے سکا خیرات حسن کو بھی غریب دیکھا ہے پستی‌ٔ حال پر نہ ہو مایوس کس نے اپنا نصیب دیکھا ہے دل گیا دیکھتے ہیں اس بت کو سانحہ یہ عجیب دیکھا ہے

مزید پڑھیے

ہم جہاں رہتے ہیں خوابوں کا نگر ہے کوئی

ہم جہاں رہتے ہیں خوابوں کا نگر ہے کوئی اس خرابے میں نہ دیوار نہ در ہے کوئی جا بسا تھا جو کسی ہجر کے صحرا میں کبھی اے ہواؤ کہو اس دل کی خبر ہے کوئی صورت موج صبا لوگ ادھر سے گزرے یہ تو انجانی ہواؤں کی ڈگر ہے کوئی ہجر دیدار بھی محرومیٔ دیدار بھی ہجر جو کبھی ختم نہ ہو ایسا سفر ہے ...

مزید پڑھیے

یہ ستم اک خواہش موہوم پر

یہ ستم اک خواہش موہوم پر لطف فرما خاطر مغموم پر اے مسرت میرے غم خانے سے دور یہ گرانی اور مرے مقسوم پر پرسش حالات غم سے درگزر رحم فرما اب دل مرحوم پر بندہ پرور صرف اتنی عرض تھی فرض کچھ خادم کے ہیں مخدوم پر صبر کرتی ہی رہی بے چارگی ظلم ہوتا ہی رہا مظلوم پر کیا مبصر دیدۂ خوں بار ...

مزید پڑھیے

اکیلی روح اکیلا مرا بدن بھی ہے

اکیلی روح اکیلا مرا بدن بھی ہے اکیلے پن کا یہ صحرا مرا چمن بھی ہے کشود ذات کا منکر تھا کب خبر تھی مجھے برہنگی ہی مری میرا پیرہن بھی ہے خود اپنے قرب کی تنہائیوں میں گزرا ہے وہ ایک لمحہ کہ خلوت بھی انجمن بھی ہے کچھ اتنا سہل نہیں میرا فاش ہو جانا مرے بدن پہ تو خوابوں کا پیرہن بھی ...

مزید پڑھیے

دشت زار غم میں آتش زیر پا ہم بھی رہے

دشت زار غم میں آتش زیر پا ہم بھی رہے اک سلگتی تشنگی سے آشنا ہم بھی رہے انتظار اپنے لیے تھا انتشار اپنے لیے یاس کا صحرا سمندر آس کا ہم بھی رہے تلخ ترش اور تیز مثل زہر دنیا ہی نہ تھی گرد سرد اور تند مانند ہوا ہم بھی رہے جم گئیں ہم پر بھی نظریں زہرہ و مریخ کی وقت کے دل کے دھڑکنے کی ...

مزید پڑھیے

آہ اے سودائے خام آرزو

آہ اے سودائے خام آرزو تا بہ کے آخر نظام آرزو ضبط آہ دل شکن اور میں حزیں کر رہا ہوں احترام آرزو ہوشیار اے انفعال کیف زا حسن تک پہنچا پیام آرزو چشم لطف آگیں نئے انداز سے لے رہی ہے انتقام آرزو اہل دل زندہ ہیں کس امید پر نظم دنیا ہے نظام آرزو یاس کی گنجائشیں کس دل میں ہیں لے رہا ...

مزید پڑھیے

سر ٹکرائیں جس سے وہ دیوار کہاں

سر ٹکرائیں جس سے وہ دیوار کہاں جسم کہاں اور روح کا یہ آزار کہاں تنہائی کا کب یہ عالم تھا پہلے چھوٹ گئے ہیں مجھ سے میرے یار کہاں اندھے شہر کے سب آئینے اندھے ہیں ایسے میں خود اپنا بھی دیدار کہاں ٹوٹی ٹوٹی چند شبیہیں باقی ہیں دل میں اب یادوں کا وہ انبار کہاں میرے اندر مجھ سے لڑتا ...

مزید پڑھیے

نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں

نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں کہ اب کی بار میں رستہ بدل کے آیا ہوں وہ اور ہوں گے جو کار ہوس پہ زندہ ہیں میں اس کی دھوپ سے سایہ بدل کے آیا ہوں ذرا بھی فرق نہ پڑتا مکاں بدلنے سے وہ بام و در وہ دریچہ بدل کے آیا ہوں مجھے خبر ہے کہ دنیا بدل نہیں سکتی اسی لیے تو میں چشمہ بدل کے آیا ...

مزید پڑھیے

یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھی

یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھی اس جگہ پر کوئی پری تھی ابھی سربسر رنگ و نور سے لبریز اک صراحی یہاں دھری تھی ابھی خاک کیسی ہے میرے پاؤں تلے سات رنگوں کی اک دری تھی ابھی اس خرابے میں کوئی اور بھی ہے آہ کس نے یہاں بھری تھی ابھی سانحہ کوئی یاں سے گزرا ہے یہ فضا کیوں ڈری ڈری تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5416 سے 5858