شاعری

یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبو

یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبو ہر ایک سمت کو مہکائے گی مری خوشبو یہاں وہاں یہ اڑے گی پر اپنی مرضی سے ہوا کے رخ سے نہ گھبرائے گی مری خوشبو میں اپنے باغ میں جب پھول بن کے مہکوں گا تمہارے تک بھی پہنچ جائے گی مری خوشبو یہ تتلیاں کوئی طوفاں بکھیر دے ورنہ اسی قفس میں سمٹ جائے گی ...

مزید پڑھیے

بچپن

تھامے ہاتھ اپنے ابو کا کمسن بچہ بھولا بھالا گھر کے پاس ہی باغیچے میں صبح سویرے سیر کو آیا باغیچے میں ہریالی تھی غنچہ غنچہ مہک رہا تھا شاخوں پر گل جھوم اٹھتے تھے چھیڑتا تھا جب ہوا کا جھونکا دیکھ کے دل کش منظر بچہ دل ہی دل میں اپنے خوش تھا مخمل جیسی گھاس پہ اس نے موتیوں کو جب بکھرے ...

مزید پڑھیے

عقل سے لیتا نہ کام اگر

ٹوپیوں کی ایک گٹھری باندھ کر کر لیا ایک شخص نے عزم سفر راستہ اتنا نہ تھا دشوار تر تھک گیا وہ راہ میں پھر بھی مگر پیڑ دیکھا راستے میں سایہ دار سانس لینا چاہا اس نے لیٹ کر ساتھ ہی بہتی تھی اک ندی وہاں پانی جس میں تھا رواں شفاف تر لیٹتے ہی نیند اس کو آ گئی مال سے اپنے ہوا وہ بے خبر پیڑ ...

مزید پڑھیے

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے مگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتے مرے پروں میں اگر حوصلے نہیں ہوتے یہ آسماں میرے آگے جھکے نہیں ہوتے مرے صنم جو مجھے تم ملے نہیں ہوتے سکون دل سے مرے رابطے نہیں ہوتے زمین پانی ہوا دیکھ بھلا سب کچھ ہے نہ جانے کیوں میرے بوٹے ہرے نہیں ہوتے یہ ...

مزید پڑھیے

گاہے گاہے نہ مجھ کو غذا دیجئے

گاہے گاہے نہ مجھ کو غذا دیجئے بھوک کو مارنے کی دوا دیجئے میں ہوں سچا تو مجھ کو صلہ دیجئے اور جھوٹا ہوں تو پھر سزا دیجئے بول کر ہی بتانا ضروری نہیں آپ راضی ہیں تو مسکرا دیجئے وہ جو چہرے کے پیچھے بھی دکھلاتا ہو مجھ کو ایسا کوئی آئینہ دیجئے ہم بھی آئے ہیں جھکنے در یار پر ہم کو بھی ...

مزید پڑھیے

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں یہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میں یوں تو کہنے کو اک شجر ہوں میں لیکن افسوس بے ثمر ہوں میں کوئی اپنا ہے میری کمزوری ورنہ سچی بڑا نڈر ہوں میں آج بے فکر ہو کے سو جاؤ میرے گھر والو آج گھر ہوں میں ذہن میں لائنیں ہیں سڑکیں ہیں اب تو لگتا ہے خود سفر ہوں میں ہر ...

مزید پڑھیے

کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں

کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں میرے دل میں تو سبھی کے غم ہیں پیار کی ایک ہی رت ہوتی ہے نفرتوں کے تو کئی موسم ہیں ہم انہیں جھیل رہے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ بزدل ہم ہیں تیل بھی پورا ہے بتی بھی سہی جانے کیوں میرے دیے مدھم ہیں آپ کچھ اور نہ سمجھیں الفتؔ میری آنکھیں تو خوشی سے نم ...

مزید پڑھیے

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کر دیا ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

مزید پڑھیے
صفحہ 476 سے 5858