شاعری

تخت طاؤس مرا تخت ہزارہ تم ہو

تخت طاؤس مرا تخت ہزارہ تم ہو میرے شہزادے مری آنکھ کا تارا تم ہو میں ترے عشق میں لیلیٰ تو کبھی ہیر بنی تم ہو مجنوں یا ہو فرہاد گوارا تم ہو میں نے کاٹی ہے ترے پیار میں یہ عمر رواں جس کے خوابوں میں سدا وقت گزارا تم ہو زیست تو تیری امانت تھی ترے ساتھ رہی اور پھر کھیل سمجھ کر جسے ہارا ...

مزید پڑھیے

صیاد آ گئے ہیں سبھی ایک گھات پر

صیاد آ گئے ہیں سبھی ایک گھات پر اٹھنے لگی ہیں انگلیاں اب میری ذات پر موسم کا لہجہ سرد ہے یادیں بھی تلخ ہیں تنہائیوں کا بوجھ ہے ہر سمت رات پر کیوں آج میری یاد بھی آئی نہیں تجھے کل تک تو میرا تذکرہ تھا بات بات پر گھٹتے تھے ساتھ ساتھ کبھی تتلیوں کے پر اب کیوں خفا خفا سے ہو اک میرے ...

مزید پڑھیے

خودکشی

کل میری لکھی اک نظم نے خودکشی کر لی جسے عرصے پہلے میں نے لکھا تھا نہ جانے کیوں شاید ناراض تھی مجھ سے کئی عرصے سے قید تھی ڈایری کے صفحوں میں کہیں گمنام سی ہو چکی تھی وہ مجھے بھی اس بات کا غم ہے میں نے اس کا خیال کیوں نہیں کیا کئی مرتبہ سوچتا تو تھا ذکر بھی کرتا تھا اپنوں سے پھر اگلی ...

مزید پڑھیے

وہ بے جان شجر

آج سویرے آفتاب آنے کے بعد مجھے میرے کل کے پہنے پینٹ کی جیب پر اک خون سے لت پت رومال ملا ساتھ ملی کچھ سوکھی ہوئی نظمیں جو کل شب میں نے لکھی تھی ان سوکھی نظموں کو تکیے تلے رکھ کر میں نے کل کا واقعہ یاد کیا کچھ دھندھلی سی تھی اس واقعے کی تصویر میرے ذہن پر یا یوں کہوں میں اس واقعے کو صاف ...

مزید پڑھیے

کون گنہ گار

آج صبح جب آسماں پر کالے گھنیرے ابروں کا بسیرا تھا میں اپنے بام پر رکھی میز پر کل کے اخبار کے ورق پلٹ رہا تھا اک خبر دکھی اس میں جو اتر نہیں رہی تھی ذہن سے کئی مرتبہ دھیان بھٹکانے کی جد و جہد بھی کی پر کامیاب نہ ہوا اخبار بھی مرجھا گیا تھا اس خبر سے شاید عذاب تھا اسے بھی کیسے کوئی ...

مزید پڑھیے

اروشی آسماں سے آ جائے

اروشی آسماں سے آ جائے کوئی ارجن سا روپ دکھلائے کوئی بس جائے جو تصور میں موت بھی زندگی سے شرمائے چاند بکھرا رہا ہے کرنوں کو کون آتا ہے سر کو نہوڑائے بادلوں کے سجیلے ڈولے پر کوئی دلہن پیا کے گھر جائے کوئی پھر دل میں چٹکیاں لے لے کوئی پھر من کو آ کے بہلائے

مزید پڑھیے

دل سے جب لو لگی نہیں ہوتی

دل سے جب لو لگی نہیں ہوتی آنکھ بھی شبنمی نہیں ہوتی جس کو غم نے حیات بخشی ہو ہر خوشی وہ خوشی نہیں ہوتی کانٹے جب تک جواں نہیں ہوتے شاخ گل کی ہری نہیں ہوتی خاص انداز جب سخن کا نہ ہو شاعری شاعری نہیں ہوتی لب پہ جبراً ہنسی بھی لاتے ہیں درد میں کچھ کمی نہیں ہوتی

مزید پڑھیے

وجہ جینے کی تمہارا ساتھ ہے

وجہ جینے کی تمہارا ساتھ ہے زندگی گویا تمہارے ہاتھ ہے میری بدنامی مری تقدیر تھی لوگ کہتے ہیں تمہارا ہاتھ ہے جانتے ہیں ہم کہ تم ایسے نہیں توڑ نہ دینا بھرم جو ساتھ ہے موہ لینے کا یہ فن جو تجھ میں ہے میری الفت کا بھی اس میں ہاتھ ہے کیا کریں ہم بس میں اپنے کچھ نہیں پھر بھی جینے کی ...

مزید پڑھیے

گھنی رات

چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہم یہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہے سیاہ رات کی تاریکیاں بتاتی ہیں کہ سب اجالے گھنی رات کے مسافر ہیں جو دن کے ساتھ سفر کے لئے نکلتے ہیں

مزید پڑھیے

زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھ

زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھ جیسے اک نائکہ بیٹھی ہو گنہ گار کے ساتھ مجھ سے ملنا ہے تو یہ قید نہیں مجھ کو پسند ہر ملاقات مقید رہے اتوار کے ساتھ ایک ہی وار میں مرنے سے کہیں بہتر ہے ایک اک سر وہ جو کٹتا رہے تلوار کے ساتھ میں نے ہر گام پہ ان لوگوں کو مرتے دیکھا وہ جو جیتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 460 سے 5858