آواز
تمہاری زباں سے گرا ایک شوخ لفظ بارش یوں لگا کہ مجھے چھو گیا ہو جیسے کھڑکی کے باہر بوندوں کی ٹپٹپاہٹ کانوں سے ہوتی ہوئی دھڑکن تک آ پہونچی ایک سنگیت ایک راگ تھا دونوں میں پتوں پر پانی کی بوندیں یوں لگی مانو تم نے چمکتی سی کچھ خواہشیں رکھی ہوں گیلی گیلی یادوں کی کچھ پھوہاریں سفید ...