شاعری

ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں

ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں میں اپنی خاک میں پنہاں تجھے بھی گر دیکھوں یہ کیا کہ ہات بڑھاؤں تو سنگ ریزے ملیں کہیں تو میں بھی دمکتے ہوئے گہر دیکھوں ہو آنکھ میں کسی چہرے کا ڈوبتا منظر میں پانیوں میں مقید کسی کا گھر دیکھوں تمام عمر اسی سائے کی تلاش کروں کہ جس کو دیکھنا ...

مزید پڑھیے

زندہ رکھنی ہے مجھے عجز کے معیار کی دھن

زندہ رکھنی ہے مجھے عجز کے معیار کی دھن ایک سندیسہ ہے یہ حکم سے انکار کی دھن تو پلٹ آ کہ تجھے میری ضرورت پڑے گی تجھ کو زندہ نہیں چھوڑے گی یہ بیکار کی دھن دوست منصور سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی حق کی آواز پہ ڈٹ جاتے ہوئے دار کی دھن آپ آتے ہیں چلے جاتے ہیں ملتے ہی نہیں دل میں رہ جاتی ہے ...

مزید پڑھیے

لوٹ آئے گا دیکھنا مرے دوست

لوٹ آئے گا دیکھنا مرے دوست جگمگائے گا راستہ مرے دوست حضرت داغؔ کے میں سائے میں ہوں حضرت جون ایلیاؔ مرے دوست کچھ گنہ گار بھی ہیں یار مرے اور ہیں چند پارسا مرے دوست میں تجھے چھوڑ کر نہ جاتا مگر آڑے آئی مری انا مرے دوست میں مرا کمرہ میری وحشت تو خامشی شور اک خلا مرے دوست کبھی ...

مزید پڑھیے

اس دشت بے اماں میں اترنا مجھے بھی ہے

اس دشت بے اماں میں اترنا مجھے بھی ہے پاس اس دل حزیں کا تو ورنہ مجھے بھی ہے دنیا حسین تر ہے مگر اے مرے خدا بھیجا ہے تو نے اور گزرنا مجھے بھی ہے فرصت ملی تو ترک کروں گا تعلقات یہ کام ایک بار تو کرنا مجھے بھی ہے اس نے بھی ایک آن نظر آنا ہے ضرور اس بھیڑ میں کہیں سے ابھرنا مجھے بھی ...

مزید پڑھیے

تپتی زمیں پہ پاؤں نہ دھر اب بھی لوٹ جا

تپتی زمیں پہ پاؤں نہ دھر اب بھی لوٹ جا کیوں ہو رہا ہے خاک بہ سر اب بھی لوٹ جا اب تک کھلے ہوئے ہیں صداقت کے راستے بند ہو نہ جائیں وقت کے در اب بھی لوٹ جا اترا نہ تو نوشتۂ دیوار پڑھ بھی لے دار و رسن کی بات نہ کر اب بھی لوٹ جا آنکھوں کے بادبان سے ویرانیاں بھی دیکھ کس درجہ لٹ چکا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

تب ہزاروں اندھیروں سے

اک روشنی کی کرن پھوٹ کر سرد ویران کمرے کے تاریک دیوار و در سے الجھنے لگی اور کمرے میں پھرتے ہوئے سینکڑوں زرد ذرے بلبلاتے سسکتے ہوئے میری جانب بڑھے میں نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی زرد ذروں سے گویا ہوا دوستو آؤ بڑھتے چلیں روشنی کی طرح روشنی کی طرف روشنی جو ہماری تمناؤں کی پیاس ...

مزید پڑھیے

سوال سوال سیاہ کشکول

مدتوں سے خموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میں کھڑا وہ میری پتلیوں میں سوالوں کا نیزہ اتارے ہوئے پوچھتا ہے میں تیری تمنا میں اپنے لیے درد کے اک سیہ رو سمندر سے تنہائیوں کے سیہ سیپ لایا سکھ کے سارے دیئے اور مسرت کی مالاؤں کو توڑ کر دکھ کا ور میں نے مانگا کہ تو میری رکھشا کو ...

مزید پڑھیے

کالے موسموں کی آخری رات

تب ہزاروں اندھیروں سے اک روشنی کی کرن پھوٹ کر سرد ویران کمرے کے تاریک دیوار و در سے الجھنے لگی اور کمرے میں پھرتے ہوئے سیکڑوں زرد ذرے صداؤں کے آغوش پر بلبلاتے سسکتے ہوئے میری جانب بڑھے میں نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی زرد ذروں سے گویا ہوا دوستو آؤ بڑھتے چلیں روشنی کی طرف روشنی ...

مزید پڑھیے

سوال سوال سیاہ کشکول

مدتوں سے خموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میں کھڑا وہ مری پتلیوں میں سوالوں کا نیزہ اتارے ہوئے پوچھتا ہے میں تیری تمنا میں اپنے لیے درد کے اک سیہ رو سمندر سے تنہائیوں کے سیہ سیپ لایا سکھ کے سارے دئے اور مسرت کی مالاؤں کو توڑ کر دکھ کا ور میں نے مانگا کہ تو میری رکھشا کو آئے مگر ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کا اسم اعظم

پھر صدا تنگ و تاریک غاروں سے ابھری تا بہ حد نظر نیلگوں آسمانوں سے الجھی پھر صداؤں کے بے نور سے شامیانے مقید فضاؤں کا حصہ بنے اور بگولوں میں الجھا ہوا اک مسافر گرا زردیوں نے صداؤں کا پیچھا کیا پھر صداؤں کے اندھے کنویں سے زبانوں کے پر شور رہٹوں کی اک اک کڑی سامنے آ گئی تب کسی نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4397 سے 5858