ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں
ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں میں اپنی خاک میں پنہاں تجھے بھی گر دیکھوں یہ کیا کہ ہات بڑھاؤں تو سنگ ریزے ملیں کہیں تو میں بھی دمکتے ہوئے گہر دیکھوں ہو آنکھ میں کسی چہرے کا ڈوبتا منظر میں پانیوں میں مقید کسی کا گھر دیکھوں تمام عمر اسی سائے کی تلاش کروں کہ جس کو دیکھنا ...