شاعری

غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوں

غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوں بے چینیٔ ارباب وطن دیکھ رہا ہوں بگڑا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوں لپٹا ہوا شعلوں میں وطن دیکھ رہا ہوں کس فلسفۂ زیست کو سینے سے لگاؤں ہر لاش کو بے گور و کفن دیکھ رہا ہوں اب بار ہے احساس مسرت رگ جاں پر دیکھے نہیں جو رنج و محن دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے بزم خواب محبت سجاتے رہے چلتے چلتے ملے کتنے دشت جنوں گیت الفت کے ہم تو سناتے رہے خود تو جہد و عمل سے گریزاں رہے نقش قسمت مگر وہ بتاتے رہے یوں تو تاریک تھی اپنی راہ سفر خون دل سے دیے ہم جلاتے رہے ریگزاروں میں حسن وفا کا صلہ یار یاروں سے نظریں چراتے ...

مزید پڑھیے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر گر ربط نہیں دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے پہنچوں گا کشاکش میں جہاں تم نے بلایا تم حشر کے میداں ...

مزید پڑھیے

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے آرزو حسن زمیں کی گوشۂ غافل میں ہے ڈھونڈھتا ہے تو جسے وہ جستجو میری بھی ہے مقصد اہل نظر تو ایک ہی منزل میں ہے بندش کون و مکاں پرواز میں حائل نہیں حاصل جہد‌ و عمل تو جذبۂ کامل میں ہے ظلم کی تاریکیوں کو جنبش لب سیل نور بول کہ ہے وقت تیرا جو ...

مزید پڑھیے

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات یہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے بات کیوں بحر تمنا میں نہیں کوئی بھی ہلچل طوفان کوئی اس میں جگاؤ تو بنے بات جینے کے لئے ان کا تصور بھی بہت ہے بے آس ہمیں جی کے بتاؤ تو بنے بات جلنے کو تو یوں خون بھی جل جائے گا لیکن پانی میں ذرا آگ لگاؤ تو بنے ...

مزید پڑھیے

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور غیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اور احساس کی پلکوں میں تری یاد کا پرتو غمگین بنا دیتا ہے محفل کا سماں اور گزرے ہوئے حالات سے بنتی ہے کہانی گرتے ہوئے تاروں سے منور ہے مکاں اور مجھ کو نہ بتا زیست کے امکان بہت ہیں مٹی میں نمی ہو تو ابھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

درد دل میں مقیم کس کا ہے

درد دل میں مقیم کس کا ہے کام یہ ہے عظیم کس کا ہے دین و مذہب بجا سہی لیکن رونے والا یتیم کس کا ہے خون دیوار کی کتابوں پر حسن نقش قدیم کس کا ہے فیصلہ ہو چکا مریضوں کا منتظر اب حکیم کس کا ہے بانٹ دو گر ہوا تو ہم سمجھیں رام کس کا رحیم کس کا ہے

مزید پڑھیے

بتا منزل شوق کیا ہو گیا

بتا منزل شوق کیا ہو گیا مری کوششوں کا صلہ کھو گیا حوادث کی آندھی ہے زوروں پہ آج مرا راہبر آج کیوں سو گیا نہ پند و نصیحت نہ ذوق عمل یہ شیخ و برہمن کو کیا ہو گیا چمن سے گزرتی ہے منہ پھیر کر صبا کی اداؤں کو کیا ہو گیا تری دل نوازی کی کیا دے گا داد پلٹ کر وہ آیا نہیں جو گیا

مزید پڑھیے

کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سے

کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سے یہ پہلا تعارف ہے مرا تازہ ہوا سے پھر چوم گئیں پھول کے رخسار ہوائیں پھر پھول کے چہرے پہ لگا غازہ ہوا سے خوشبو کا سراپا ہے کہ پھولوں کی ہے ترکیب وہ آئے تو ہو جاتا ہے اندازہ ہوا سے رکھتے ہیں منڈیروں پہ دئے اپنے جلا کر ہم نے کبھی پوچھا نہیں خمیازہ ...

مزید پڑھیے

مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیں

مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیں آدمی موم بنیں اور پگھلنے لگ جائیں جیسے ماحول بدل دیتی ہے مسکان تری پیرہن دیکھ کے موسم نہ بدلنے لگ جائیں اس قدر بغض دلوں میں ہے کہ معلوم نہیں لوگ کب کس کے لیے زہر اگلنے لگ جائیں دیکھ کر رونق بازار میں بچوں کا صبر اب یہ خطرہ ہے کھلونے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4375 سے 5858