شاعری

یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا

یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا جب آگ لگے گی تو کوئی گھر نہ بچے گا یا نقش ابھارو کوئی یا عکس کو پوجو شیشے کو بچاؤ گے تو پتھر نہ بچے گا احساس رقابت سے جبینوں کو بچاؤ ٹکرائیں گے سجدے تو کوئی در نہ بچے گا اے نیند چھپے رہنے دے دو چار نظارے جب آنکھ کھلے گی کوئی منظر نہ بچے گا مقتل ...

مزید پڑھیے

آج دل ہے کہ سر شام بجھا لگتا ہے

آج دل ہے کہ سر شام بجھا لگتا ہے یہ اندھیرے کا مسافر بھی تھکا لگتا ہے اپنے بہکے ہوئے دامن کی خبر لی نہ گئی جس کو دیکھو چراغوں سے خفا لگتا ہے باغ کا پھول نہیں لالۂ صحرا ہوں میں لو کا جھونکا بھی مجھے باد صبا لگتا ہے تنگئ ظرف نظر کثرت نظارۂ دہر پیاس کچی ہو تو ہر جام بھرا لگتا ہے کس ...

مزید پڑھیے

جام کھنکے تو سنبھالا نہ گیا دل تم سے

جام کھنکے تو سنبھالا نہ گیا دل تم سے ہے ابھی دور بہت ضبط کی منزل تم سے ہم تو دریا میں بہت دور نکل آئے ہیں لوٹ جاؤ ابھی نزدیک ہے ساحل تم سے جستجو سرحد ادراک سے آگے نہ بڑھی دو قدم طے نہ ہوا مرحلۂ دل تم سے خلوت شوق کے در بند کئے لیتا ہوں اب شکایت نہ کرے گی کوئی محفل تم سے سخت جانی ...

مزید پڑھیے

اجالے تیل چھڑکنے لگے اجالوں پر

اجالے تیل چھڑکنے لگے اجالوں پر عجیب وقت پڑا ہے چراغ والوں پر تمہارا عالم مستی ڈھکا چھپا ہی سہی مری نگاہ ہے ٹوٹے ہوئے پیالوں پر تمہارے ذہن میں جو آج چبھ رہے ہوں گے میں کل سے سوچ رہا ہوں انہیں سوالوں پر نہ اٹھ سکا ترے طرز خرام سے پردہ ہوائیں ڈال گئیں خاک پائمالوں پر محاکمہ نہ ...

مزید پڑھیے

رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا

رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا رندوں کو سلیقے سے بہکنا بھی نہ آیا وہ لوگ مری طرز سفر جانچ رہے ہیں منزل کی طرف جن کو ہمکنا بھی نہ آیا تھا جن میں سلیقہ وہ بھری بزم میں روئے ہم کو تو کہیں چھپ کے سسکنا بھی نہ آیا ہم ایسے بلانوش کہ چھلکاتے ہی گزری تم ایسے تنک ظرف چھلکنا بھی نہ ...

مزید پڑھیے

چلو کچھ تو راہ طے ہو نہ چلے تو بھول ہوگی

چلو کچھ تو راہ طے ہو نہ چلے تو بھول ہوگی ابھی بند ہر گلی ہے جو کھلے گی طول ہوگی ترے حسن کی ودیعت مری جرأت نظارہ ترے رو بہ رو جھکے گی تو نظر کی بھول ہوگی مرے ہم سفر بڑھیں گے مجھے راستہ بتا کر مرے پاؤں سے اڑی ہے مرے سر پہ دھول ہوگی مجھے قبلہ رو بٹھا کر مرے ہاتھ اٹھانے والو یہ یقین ...

مزید پڑھیے

ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے

ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے طوفانوں کے کس بل دیکھے اب ملاح کی باری ہے نیند رگوں میں دوڑ رہی ہے پور پور بیداری ہے جسم بہت حساس ہے لیکن دل جذبات سے عاری ہے آوازوں کے پیکر زخمی لفظوں کے بت لہولہان کرتے ہیں اظہار تفنن کہتے ہیں فن کاری ہے منزل منزل پاؤں جما کر ہم بھی چلے ...

مزید پڑھیے

دو گھڑی سائے میں جلنے کی اذیت اور ہے

دو گھڑی سائے میں جلنے کی اذیت اور ہے راستے میں ایک دیوار شرافت اور ہے اب بہت دوری نہیں وعدوں کی منزل آ چلی دو قدم بس موڑ تک چلنے کی زحمت اور ہے دامنوں پر ڈھونڈیئے اب کیوں چراغوں کا لہو ہم نہ کہتے تھے ہوا خواہوں کی نیت اور ہے پھر بصارت کا تعاقب پھر اجالے کا سفر ڈھل چکی ہے رات پل ...

مزید پڑھیے

لہو نے کیا ترے خنجر کو دل کشی دی ہے

لہو نے کیا ترے خنجر کو دل کشی دی ہے کہ ہم نے زخم بھی کھائے ہیں داد بھی دی ہے لباس چھین لیا ہے برہنگی دی ہے مگر مذاق تو دیکھو کہ آنکھ بھی دی ہے ہماری بات پہ کس کو یقین آئے گا خزاں میں ہم نے بشارت بہار کی دی ہے دھرا ہی کیا تھا ترے شہر بے ضمیر کے پاس مرے شعور نے خیرات آگہی دی ہے حیات ...

مزید پڑھیے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر گر ربط نہیں دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے تم پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے پہنچوں گا کشاکش میں جہاں تم نے بلایا تم حشر کے میداں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4374 سے 5858