شاعری

اجالا کیسا اجالے کا خواب لا نہ سکے

اجالا کیسا اجالے کا خواب لا نہ سکے سحر سے مانگ کے ہم آفتاب لا نہ سکے ہم اپنے چہرۂ بے داغ کے لئے اے عقل تری دکان سے کوئی نقاب لا نہ سکے جو چاند پر بھی گئے ہم تو خاک ہی لائے زمیں کی نذر کو اک آفتاب لا نہ سکے گئے تو تھے ترے جلووں کو جانچنے لیکن بچا کے ہم نظر انتخاب لا نہ سکے زمیں کی ...

مزید پڑھیے

درس آرام میرے ذوق سفر نے نہ دیا

درس آرام میرے ذوق سفر نے نہ دیا مجھ کو منزل پہ بھی ظالم نے ٹھہرنے نہ دیا رقص کرتی رہی طوفان میں کشتی میری میری ہمت نے مجھے پار اترنے نہ دیا زندگی موت سے بد تر تھی پر اے وعدۂ دوست لذت کشمکش شوق نے مرنے نہ دیا ملتفت کل نظر آتی تھیں نگاہیں ان کی کہیں دھوکا تو مجھے میری نظر نے نہ ...

مزید پڑھیے

دلوں کے بیچ بدن کی فصیل اٹھا دی جائے

دلوں کے بیچ بدن کی فصیل اٹھا دی جائے سمٹ رہی ہے مسافت ذرا بڑھا دی جائے ہماری سمت کبھی زحمت سفر تو کرو تمہاری راہ میں بھی کہکشاں بچھا دی جائے بنی تو ہوگی کہیں سرحد گراں گوشی تمہیں بتاؤ کہاں سے تمہیں صدا دی جائے کسی کے کام تو آئے خلوص کی خوشبو مزاج میں نہ سہی جسم میں بسا دی ...

مزید پڑھیے

نگاہ باغباں کچھ مہرباں معلوم ہوتی ہے

نگاہ باغباں کچھ مہرباں معلوم ہوتی ہے زمیں پر آج شاخ آشیاں معلوم ہوتی ہے بلایا جا رہا ہے جانب دار و رسن ہم کو مقدر میں حیات جاوداں معلوم ہوتی ہے نگاہوں میں ہیں کس کے عارض گل رنگ کے جلوے کہ دنیا گلستاں در گلستاں معلوم ہوتی ہے مری کشتی کو شکوہ بحر بے پایاں کی تنگی کا تجھے ایک آب ...

مزید پڑھیے

اب سراب کے چشمے موجزن نہیں ہوتے

اب سراب کے چشمے موجزن نہیں ہوتے خشک ہو گئے شاید تشنگی کے سب سوتے نیند میں بھی چادر کا اتنا پاس ہے تم کو کچھ تو پاؤں پھیلاؤ اس طرح نہیں سوتے کیسی رات آئی ہے نیند اڑ گئی سب کی منزلیں تھپکتی ہیں قافلے نہیں سوتے خواب خود حقیقت ہیں آنکھ کھول کر دیکھو کس نے کہہ دیا تم سے خواب سچ نہیں ...

مزید پڑھیے

کیسے بناؤں ہاتھ پر تصویر خواب کی

کیسے بناؤں ہاتھ پر تصویر خواب کی مجھ کو ملی نہ آج تک تعبیر خواب کی آنکھوں سے نیند روٹھ کے جانے کدھر گئی کٹتی نہیں ہے رات بھر زنجیر خواب کی جس شہر میں ہو خواب چرانے کی واردات کیسے کروں وہاں پہ میں تشہیر خواب کی خوابوں نے ہر قدم پہ مجھے حوصلہ دیا دیکھی نہیں ہے تم نے کیا تاثیر ...

مزید پڑھیے

مرحبا دیدۂ مے نوش میں آنے والے

مرحبا دیدۂ مے نوش میں آنے والے اب ترے رند نہیں ہوش میں آ نے والے دیکھ ساقی رہے خالی نہ ترا کوئی سبو جام ہیں دست بلانوش میں آنے والے قتل اے زیست تری سیج پہ دھوکے سے ہوئے مر گئے سب تری آغوش میں آنے والے جا بجا دیکھ کے ہنستے ہوئے چہروں کے مزار رو پڑے کوچۂ خاموش میں آنے ...

مزید پڑھیے

عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پر

عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پر جہاں دیکھا وہاں تھے آپ ہی ساری نشستوں پر وہ جب اسٹیج پر آیا تو پیچھے بیٹھنے والے چلے آئے قطاریں توڑ کر اگلی نشستوں پر خبر ہی نہ ملی ان کو تماشا ختم ہونے کی تماشائی جھگڑتے رہ گئے خالی نشستوں پر گلے میں دل اچھل کر آ گیا سب اہل محفل کا جب اس ...

مزید پڑھیے

اے نقش گرو لوح تحریر ہمیں دے دو

اے نقش گرو لوح تحریر ہمیں دے دو ہم اپنے مصور ہیں تصویر ہمیں دے دو آغوش کماں اب تک افکار کا خالی ہے تم اپنی نگاہوں کے کچھ تیر ہمیں دے دو کیا تول رہے ہو تم ہاتھوں میں خرد مندو زیور یہ جنوں کا ہے زنجیر ہمیں دے دو اے خالی کٹوروں کے بے کیف نگہبانوں مے خانہ ہماری ہے جاگیر ہمیں دے ...

مزید پڑھیے

آنگن آنگن خانہ خرابی ہنستی ہے معماروں پر

آنگن آنگن خانہ خرابی ہنستی ہے معماروں پر پتھر کی چھت ڈھال رہے ہیں شیشے کی دیواروں پر زخم لگے تو بس یہ جانو چوٹ پڑی نقاروں پر آج لگا دو جان کی بازی ٹوٹ پڑو تلواروں پر اہل جنوں کی لالہ کاری موسم کی پابند نہیں فصل خزاں میں پھول کھلے ہیں زنداں کی دیواروں پر دل کے افق سے ٹوٹ گئے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4373 سے 5858