شاعری

سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہا

سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہا جواب تیرا ہواؤں میں مجھ کو ملتا رہا فلک پہ چاند ستاروں کا کارواں بھی بجھا تمہاری یاد کا لیکن چراغ جلتا رہا قریب مرگ جو دیکھا تو پاس کوئی نہ تھا تمام عمر یہ پھر کون ساتھ چلتا رہا بلا کے حبس میں ساری زمین سوکھ گئی مگر یہ پیار کا پودا تھا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئے

چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئے پڑے ہیں رستے میں تیرے مگر دعا کے لئے مبادا شب کی سیاہی زمیں کو کھا جائے نقاب رخ سے اٹھا دو ذرا خدا کے لئے کوئی چراغ تو آندھی سے بچ کے نکلے گا جلا دیئے ہیں بہت سے دیئے ہوا کے لئے یہاں تو روز نئی آفتوں سے پالا ہے حسینؔ کتنے اب آئیں گے کربلا کے ...

مزید پڑھیے

خوابوں کے صنم خانے جب ڈھائے گئے ہوں گے

خوابوں کے صنم خانے جب ڈھائے گئے ہوں گے اس دور کے سب آزر بلوائے گئے ہوں گے تو بھی نہ بچی ہوگی اے عافیت اندیشی ہر سمت سے جب پتھر برسائے گئے ہوں گے پھر اس نے مسائل کا حل ڈھونڈ لیا ہوگا پھر لوگ مسائل میں الجھائے گئے ہوں گے ہم گزرے کہ تم گزرے یہ دیکھنے کون آتا تھے جتنے تماشائی سب ...

مزید پڑھیے

جسم ہی پامال ہو جائے تو سر کیا کیجئے

جسم ہی پامال ہو جائے تو سر کیا کیجئے جان تو ہم کو بھی پیاری ہے مگر کیا کیجئے دیکھتے رہیے سحر کے خواب جھوٹے ہی سہی مشغلہ یہ بھی نہ ہو تو رات بھر کیا کیجئے گفتگو سے رفتہ رفتہ خامشی تک آ گئے اور حرف مدعا کو مختصر کیا کیجئے ہر نظر طرفہ تماشا ہر قدم منزل نئی سیر سے فرصت نہیں ملتی سفر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک گام پہ آسودگی کھڑی ہوگی

ہر ایک گام پہ آسودگی کھڑی ہوگی سفر کی آخری منزل بہت کڑی ہوگی یہ اپنے خون کی لہروں میں ڈوبتی کشتی بھنور سے بھاگ کے ساحل پہ جا پڑی ہوگی مسافرو یہ خلش نوک خار کی تو نہیں ضرور پاؤں تلے کوئی پنکھڑی ہوگی ترے خلوص تحفظ میں شک نہیں لیکن ہوا میں ریت کی دیوار گر پڑی ہوگی نظام قید مسلسل ...

مزید پڑھیے

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی وہ نظر جرم رسائی کی سزا پائے گی چشم ساقی نہ کہیں اپنا بھرم کھو بیٹھے اور کب تک یہ مری پیاس کو بہلائے گی جو نظر گزری ہے تپتے ہوئے نظاروں سے کیا تصور کی گھنی چھاؤں میں سو جائے گی کیوں رہیں شہر بھی فیضان جنوں سے محروم عقل دیوانوں پہ پتھر ہی تو برسائے ...

مزید پڑھیے

جب پھیل کے ویرانوں سے ویرانے ملیں گے

جب پھیل کے ویرانوں سے ویرانے ملیں گے دل کھول کے دیوانوں سے دیوانے ملیں گے اے کوئے خموشی کی طرف بھاگنے والو ہر گام پہ افسانے ہی افسانے ملیں گے زنجیر لئے ہاتھوں میں کچھ سوچ رہے ہیں زنداں میں بہت ایسے بھی دیوانے ملیں گے جو گرمئ محفل سے جلا لیتے ہیں شمعیں پروانوں میں کچھ ایسے بھی ...

مزید پڑھیے

سلیقہ اتنا تو اے شوق خوش کلام آئے

سلیقہ اتنا تو اے شوق خوش کلام آئے انہیں کی بات ہو لیکن نہ ان کا نام آئے خرد بھی گوش بر آواز وقت تھی لیکن پیام جتنے بھی آئے جنوں کے نام آئے نہ چل سکا کوئی میری نگاہ شوق کے ساتھ تمہارے جلوے بھی آئے تو چند گام آئے نہ جانے حسن حقیقت کی جلوہ گاہ سے کیوں فسانے جتنے بھی آئے وہ ناتمام ...

مزید پڑھیے

کس قدر مسئلۂ شام و سحر بدلا ہے

کس قدر مسئلۂ شام و سحر بدلا ہے جب ذرا زاویۂ فکر و نظر بدلا ہے سمت منزل کا تعین نہیں دو گام کی بات کتنے موڑ آئے ہیں جب طرز سفر بدلا ہے اپنی آواز پہ ہم چونک اٹھے ہیں خود بھی اک ذرا لہجۂ احساس اگر بدلا ہے دشت میں بھی کبھی اس طرح نہ جی لگتا تھا اب کے دیوانگی بدلی ہے کہ گھر بدلا ...

مزید پڑھیے

ہم نے میخانے کی تقدیس بچا لی ہوتی

ہم نے میخانے کی تقدیس بچا لی ہوتی کوئی بوتل تو یہاں خون سے خالی ہوتی اس کی بنیاد اگر زہد نے ڈالی ہوتی دین کی طرح یہ دنیا بھی خیالی ہوتی انجمن داغ جگر کی متحمل نہ ہوئی کاش ہم نے بھی کوئی شمع جلا لی ہوتی سچ تو یہ ہے کہا گر جرم نہ ثابت ہوتا ہم نے خود مانگ کے جینے کی سزا لی ہوتی آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4372 سے 5858