شاعری

مداوائے جنوں سیر گلستاں سے نہیں ہوتا

مداوائے جنوں سیر گلستاں سے نہیں ہوتا رفوئے چاک دل تار گریباں سے نہیں ہوتا بجز منزل کہیں راحت نہیں ملتی مسافر کو علاج آبلہ پائی بیاباں سے نہیں ہوتا حجاب دوست نے بخشا ہے وہ لطف یقیں دل کو کہ یہ آسودہ اب حسن نمایاں سے نہیں ہوتا جلا ہوتی ہے ظرف زیست پر تنقید دانا سے مداوا نفس کا ...

مزید پڑھیے

کسی کے شکوہ ہائے جور سے واقف زباں کیوں ہو

کسی کے شکوہ ہائے جور سے واقف زباں کیوں ہو غم دل آگ تو لگ ہی چکی لیکن دھواں کیوں ہو محبت میں وصال و ہجر کی تمییز کیا معنی بساط عشق پر بازیچۂ سود و زیاں کیوں ہو جبیں سائل تھی نادم ہے مگر اے سجدۂ آخر مری محرومیوں سے بے تعلق آستاں کیوں ہو خداوندا چمن میں تو نشیمن ہی نشیمن ہیں نظر ...

مزید پڑھیے

مے خانہ ہے بنائے شر و خیر تو نہیں

مے خانہ ہے بنائے شر و خیر تو نہیں اے شیخ و برہمن حرم و دیر تو نہیں قاصد کو تک رہا ہوں بجائے جواب خط کمبخت یہ نہ کہہ دے کہیں خیر تو نہیں اپنوں کا شکوہ کس لئے آئے زبان پر احباب کے ستم ستم غیر تو نہیں آپس میں کیوں ہیں بر سر پیکار اہل شہر دیکھو یہاں کہیں حرم و دیر تو نہیں اے شیخ صرف ...

مزید پڑھیے

جس کو دیکھو بے وفا ہے آئنوں کے شہر میں

جس کو دیکھو بے وفا ہے آئنوں کے شہر میں پتھروں سے واسطہ ہے آئنوں کے شہر میں روز حرف آرزو پر ٹوٹتے رہتے ہیں دل روز عرض مدعا ہے آئنوں کے شہر میں قہقہے لگتے ہیں آواز شکست دل کے ساتھ کب کوئی درد آشنا ہے آئنوں کے شہر میں حسن والو کس لیے اعجازؔ سے یہ اجتناب اک وہی تو پارسا ہے آئنوں کے ...

مزید پڑھیے

راہ طلب میں اہل دل جب حد عام سے بڑھے

راہ طلب میں اہل دل جب حد عام سے بڑھے کشمکش حیات کے اور بھی حوصلے بڑھے کس سے یہ پوچھئے بھلا تشنہ لبوں کو کیا ملا کہنے کو یوں تو روز ہی سیکڑوں میکدے بڑھے کوشش پیہم آفریں منزل اب آ گئی قریب مژدہ ہو آرزوئے دل پاؤں کے آبلے بڑھے آتے ہی اس نے بزم میں رخ پہ نقاب ڈال لی ہائے وہ منظر حسیں ...

مزید پڑھیے

کہاں ثبات غم دل کہاں سراب سکوں

کہاں ثبات غم دل کہاں سراب سکوں وہ خوش نصیب ہے مل جائے جس کو سوز دروں خود آپ دیکھ لیں کیا حال دل زباں سے کہوں ابھی تو ہیں مری آنکھوں میں چند قطرۂ خوں یہ شہر ہم نفساں کتنی بار اجڑا ہے کبھی نہ ہو سکا لیکن سر حیات نگوں ابھی تو مصلحت وقت ہی پہ نازاں ہے ابھی خرد کو میسر کہاں مقام ...

مزید پڑھیے

طاری مرے شعور پہ وجدان ہی رہا

طاری مرے شعور پہ وجدان ہی رہا آیا خودی کو ہوش تو اک آن ہی رہا تھا حوصلہ کہ دامن حیراں کریں گے چاک ہاتھوں میں لیکن اپنا گریبان ہی رہا پھر تو وہی تھی دھوپ وہی دھوپ کا سفر زلفوں کی چھاؤں میں بھی تو مہمان ہی رہا احسان تیرے عشق کا کیا حق ادا کرے اس پہ تو اس کی عقل کا فیضان ہی ...

مزید پڑھیے

وہی ہے دست جنوں ہمارا بدلتا رہتا ہے گو قرینہ (ردیف .. ا)

وہی ہے دست جنوں ہمارا بدلتا رہتا ہے گو قرینہ اسی سے دامن کو چاک کرنا اسی سے دامن کے چاک سینا خدا بچائے تو بچ سکیں گے سوال اب ناخدا کا کیا ہے کنارا دور اور تھکے ہیں بازو گھرا ہے طوفان ہیں سفینہ جہاں نہیں خون کی ضرورت وہاں غلط ناز سرفروشی جو کشت محنت کو سینچتا ہو لہو سے بہتر ہے وہ ...

مزید پڑھیے

خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوں

خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوں ترے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوں میں سارے برباد کن خیالوں کو دل کا مہماں بنا رہا ہوں خرد کی محفل اجڑ چکی ہے جنوں کی محفل سجا رہا ہوں ادھر ہے آنکھوں میں اک شرارت ادھر ہے سینے میں اک چبھن سی نظر سے وہ مسکرا رہے ہیں جگر سے ...

مزید پڑھیے

دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئے

دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئے زلفوں سے کھیلتے تھے سر دار کیوں ہوئے چلمن میں اضطراب کی اک کیفیت تھی کیوں جلوے نظر کے ساتھ گناہ گار کیوں ہوئے دیوانہ اپنے آپ سے کرتا تھا کچھ کلام لیکن یہ زرد آپ کے رخسار کیوں ہوئے انگارے جس چمن میں کھلے تھے بجائے پھول اس کی خزاں کے آپ عزادار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4367 سے 5858