شاعری

مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ

مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ مرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھ میری مٹی کب سے قید ہے مجھ میں تو اک دن باہر آ جا اور بکھر کر دیکھ سولہ منزل کون چڑھے بتلانے کو نیچے کیا ہے اپنے آپ اتر کر دیکھ روز ڈراتا رہتا ہے تو لوگوں کو اپنے آپ سے اک دن خود بھی ڈر کر دیکھ مجھ کو پڑھنا آتا ...

مزید پڑھیے

تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئے

تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئے اصحاب عز و جاہ میں ہم بھی شمار ہو گئے ہم بھی چٹان تھے مگر ضرب شدید وقت سے ہر لمحہ ٹوٹتے رہے آخر غبار ہو گئے ترکش میں جس کے تیر تھے نہ ہاتھ میں کمان تھی شومئی بخت دیکھتے اس کا شکار ہو گئے منڈی میں لے تو آئے ہو لیکن وہ بک نہ پائیں گے موسم کی ...

مزید پڑھیے

حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک

حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک تم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تک سمندروں کی ریاستوں کو لٹا کے آوارہ پھرنے والو اب ایک قطرہ کی منتوں سے کرو گے خود کو ذلیل کب تک تو مرد مومن ہے اپنی منزل کو آسمانوں پہ دیکھ ناداں کہ راہ ظلمت میں ساتھ دے گا کوئی چراغ علیل ...

مزید پڑھیے

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں جو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیں وہ جو ہم میں تم میں تھا فاصلہ یہ کمال اس کے سبب ہوا وہ سنا گیا جو کہا نہیں جو کہا گیا وہ سنا نہیں وہی کبر ہے مری خاک میں وہی جہل ہے مری ذات میں جو شرار ہے وہ بجھا نہیں جو چراغ ...

مزید پڑھیے

آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنا

آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنا اس نے سیکھا ہی نہیں لفظ محبت پڑھنا سالہا سال گزر جاتے ہیں پڑھتے پڑھتے اتنا آسان کہاں درس صداقت پڑھنا پہلے اس جسم سے ہر خوف کے خلیے کو نکال تب کہیں آئے گا آداب بغاوت پڑھنا میری فرصت ہی بناتی ہے خد و خال مرے مجھ کو پڑھنا ہے تو پہلے مری فرصت ...

مزید پڑھیے

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا چراغ لینے گیا آفتاب لے آیا ابھی جلا کے اٹھا ہوں پرانے خوابوں کو وہ میرے واسطے پھر تازہ خواب لے آیا پھر آج بھاؤ سمندر کا آسمان پہ تھا پھر آج اپنے لئے میں سراب لے آیا فسردہ دیکھ کے اس کو بہت پشیماں ہوں میں ریگزار میں کیوں اک گلاب لے آیا تجھے تو ہاں ...

مزید پڑھیے

یاد ان کی دل میں آئی وہ آسودگی لئے

یاد ان کی دل میں آئی وہ آسودگی لئے ظلمت میں آئے جیسے کوئی روشنی لئے اے سعیٔ ضبط لوگوں کو کیا دوں ثبوت غم ڈر سے ہنسی کے میں نے تو آنسو بھی پی لئے ضدین کیفیات کو ہم نے سلا دیا جیتے رہے خوشی سے غم عاشقی لئے اے سنگ آستاں مرے سجدوں کی لاج رکھ آیا ہوں اعتراف شکست خودی لئے اعجازؔ کوئی ...

مزید پڑھیے

دل بجھ گیا تو گرمئ بازار بھی نہیں

دل بجھ گیا تو گرمئ بازار بھی نہیں اب ذکر بادہ و لب و رخسار بھی نہیں اپنا تھا خلوتوں میں کبھی پرتو جمال قسمت میں اب تو سایۂ دیوار بھی نہیں شکوہ زباں پہ پھول سے احباب کا غلط اے دوست مجھ کو تو گلۂ خار بھی نہیں آیا نہ راس آپ کو اے شیخ روز حشر اور لطف یہ ہے آپ گناہ گار بھی نہیں قائم ...

مزید پڑھیے

خون ناحق تھی فقط دنیائے آب و گل کی بات

خون ناحق تھی فقط دنیائے آب و گل کی بات یہ ہے محشر کیوں یہاں ہو دامن قاتل کی بات آج کیوں اشکوں میں ہے عکس تبسم جلوہ گر آ گئی کیا اپنی حد پر غم کے مستقبل کی بات ہر نظر رنگینیٔ رخ تک پہنچ کر رہ گئی پھول اب کس سے کہیں گلشن میں زخم دل کی بات دیکھتے ہی رہ گئے قانون قدرت اہل ضبط لے اڑی ...

مزید پڑھیے

کار خیر اتنا تو اے لغزش پا ہو جاتا

کار خیر اتنا تو اے لغزش پا ہو جاتا پائے ساقی پہ ہی اک سجدہ ادا ہو جاتا وہ تو یہ کہئے کہ مجبور ہے نظم ہستی ورنہ ہر بندۂ مغرور خدا ہو جاتا قافلے والے تھے محروم بصیرت ورنہ میرا ہر نقش قدم راہنما ہو جاتا غم کے ماروں پہ بھی اے داور حشر ایک نظر آج تو فیصلۂ اہل وفا ہو جاتا یوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4366 سے 5858