مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ
مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ مرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھ میری مٹی کب سے قید ہے مجھ میں تو اک دن باہر آ جا اور بکھر کر دیکھ سولہ منزل کون چڑھے بتلانے کو نیچے کیا ہے اپنے آپ اتر کر دیکھ روز ڈراتا رہتا ہے تو لوگوں کو اپنے آپ سے اک دن خود بھی ڈر کر دیکھ مجھ کو پڑھنا آتا ...