شاعری

کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے

کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے ہر اک میں ایک ہی مکھڑا دکھائی دیتا ہے اسی شجر پہ شفق کا کرم ہے شاید آج وہ اک شجر جو سنہرا دکھائی دیتا ہے ادھر وہ دیکھو کہ آکاش کتنا دل کش ہے جہاں وہ دھرتی سے ملتا دکھائی دیتا ہے دکھائیں تم کو غروب آفتاب کا منظر یہاں افق کا کنارہ دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے

دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے ترا شکار ہوں اچھی طرح سے جان مجھے ہوا نے ریت کی صورت زمیں پہ لکھ دی ہے دکھائی دیتی ہے پتھر کی داستان مجھے اک آسماں نے زمیں پر گرا دیا لیکن زمیں نے پھر سے بنا ڈالا آسمان مجھے میں اس ہوا کا نہیں پانیوں کا قیدی ہوں نہ جانے کیوں لئے پھرتا ہے ...

مزید پڑھیے

ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنا

ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنا مرے نصیب میں میرا زوال تھا کتنا تو جنگلوں کی طرح آگ مجھ میں پھیل گئی رگوں میں بہتا ہوا اشتعال تھا کتنا تبھی تو جلتی چٹانوں پہ لا کے پھینک دیا مرا وجود ہوا پر وبال تھا کتنا سبھی پرندے مرے پاس آتے ڈرتے تھے میں خشک پیڑ سہی بے مثال تھا کتنا مگر ...

مزید پڑھیے

دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئی

دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئی اب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئی اشک کی بے رنگ کھیتی مدتوں میں لہلہائی پہلے کتنا قحط تھا اب کچھ فراوانی ہوئی خود کو ہم پہچان پائے یہ بہت اچھا ہوا جسم کے ہیجان میں روحوں کی عریانی ہوئی میں تو اک خوشبو کا جھونکا تیرے دامن کا ہی ...

مزید پڑھیے

تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھی

تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھی ساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھی کون مجرم ہے کہ دوری ہے وہی پہلی سی پاس آ کر چلے جانے کی ادا کس کی تھی دل تو سلگا تھا مگر آنکھوں میں آنسو کیوں آئے مل گئی کس کو سزا اور خطا کس کی تھی شام آتے ہی اتر آئے مرے گاؤں میں رنگ جس کے یہ رنگ تھے جانے وہ ...

مزید پڑھیے

نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے

نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے پھر آئے یاد کہ اس رہ گزر کے ساتھی تھے کہوں بھی کیا مجھے پل بھر میں جو بکھیر گئے ہوا کے جھونکے مری عمر بھر کے ساتھی تھے ستارے ٹوٹ گئے اوس بھی بکھر سی گئی یہی تھے جو مری شام و سحر کے ساتھی تھے شفق کے ساتھ بہت دیر تک دکھائی دیئے وہ سارے لوگ جو بس ...

مزید پڑھیے

تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی

تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی اب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنی کہ برگ ہائے خزاں دیدہ جوں اڑائے ہوئے کشاں کشاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں اپنی سبھی کو شک ہے کہ خود ہم میں بے وفائی ہے کہاں کہاں نہ ہوئی ہیں شکایتیں اپنی چلے جہاں سے تھے اب آؤ لوٹ جائیں وہیں نکالیں راہوں نے ہم سے ...

مزید پڑھیے

میں نے کیا کام لا جواب کیا

میں نے کیا کام لا جواب کیا اس کو عالم میں انتخاب کیا کرم اس کے ستم سے بڑھ کر تھے آج جب بیٹھ کر حساب کیا کیسے موتی چھپائے آنکھوں میں ہائے کس فن کا اکتساب کیا کیسی مجبوریاں نصیب میں تھیں زندگی کی کہ اک عذاب کیا ساتھ جب گرد کوئے یار رہی ہر سفر ہم نے کامیاب کیا کچھ ہمارے لکھے گئے ...

مزید پڑھیے

ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہے

ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہے یہ کس نے تم سے کہہ دیا کہ زندگی خراب ہے نہ جانے آج ہم پہ پیاس کا یہ کیسا قہر ہے کہ جس طرف بھی دیکھیے سراب ہی سراب ہے ہر ایک راہ میں مٹے مۓ نقوش آرزو ہر اک طرف تھکی تھکی سی رہ گزار خواب ہے کبھی نہ دل کے ساگروں میں تم اتر سکے مگر مرے لیے مرا وجود اک ...

مزید پڑھیے

تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیں

تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیں کیا تھی وہ راہ گزر یاد نہیں یہ خیال آتا ہے میں خوش تھا بہت کس طرف تھا مرا گھر یاد نہیں کیا تھی وہ شکل پہ بھولی تھی بہت پیارا سا نام تھا پر یاد نہیں زخموں کے پھول ہیں دل میں اب بھی کس نے بخشے تھے مگر یاد نہیں اک گھنی چھاؤں میں دن بیتا ہے شب کہاں کی تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4368 سے 5858