شاعری

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں سکوت توڑنا ہو تو صدائیں لگتی ہیں بزرگ ایسے بھلائی کے پیڑ ہیں جن پر اگر ثمر نہ لگے تو دعائیں لگتی ہیں کہ ان کے ہونے سے گھر بھی چہکنے لگتا ہے مجھے تو بیٹیاں بھی فاختائیں لگتی ہیں بتایا جائے اگر دل کا درد روکنا ہو تو ایک ماہ میں کتنی دوائیں لگتی ...

مزید پڑھیے

پہلے بنتی ہی نہ تھی بات سو اب بنتی ہے

پہلے بنتی ہی نہ تھی بات سو اب بنتی ہے آج کل ان کے تصور سے غضب بنتی ہے چلئے چل کر کہیں ڈھونڈے کوئی اجڑی ہوئی رات اپنی ان چاند ستاروں سے تو کب بنتی ہے نفس جب روح پہ حاوی ہو تو پھر وحشت میں تشنگی دیکھیے قربت کا سبب بنتی ہے سرمئی شام میں سورج کا لہو مل جائے تب کہیں جا کے مری جان یہ شب ...

مزید پڑھیے

آج سن لی ہے مرے احباب نے میری غزل

آج سن لی ہے مرے احباب نے میری غزل آج اپنی منزل مقصود پر پہنچی غزل جب سنائی آپ نے تو با ادب سن لی غزل اور جب کوشاں ہوا تو بے دھڑک کہہ دی غزل یہ لب و رخسار یہ چہرا تیرا پر نور سا تجھ کو کیا دیکھا لگا جیسے کوئی دیکھی غزل کل جو دیکھی تھی غزل تو دل کی دھڑکن رک گئی آج جو دیکھی غزل تو بن ...

مزید پڑھیے

آگے جو ہوگا وہ ہوگا خیر کر آیا ہوں میں

آگے جو ہوگا وہ ہوگا خیر کر آیا ہوں میں جو زبر بنتے تھے ان کو زیر کر آیا ہوں میں ہاں بہت مشکل تو ہے لیکن یہ نا ممکن نہیں درد کی طغیانیوں میں تیر کر آیا ہوں میں مر گیا ہے کوئی مجھ میں اس پہ مٹی ڈالیے اپنی ساری خواہشوں کو ڈھیر کر آیا ہوں میں درد وحشت رنج و غم تنہائیاں شام الم جو مجھے ...

مزید پڑھیے

اک آفتاب کا رنگ ایک ماہتاب کا رنگ

اک آفتاب کا رنگ ایک ماہتاب کا رنگ ملا کے ڈھالا گیا ہے ترے شباب کا رنگ نمایاں جسم ہے اور شوخ ہے نقاب کا رنگ بدل رہا ہے زمانے میں اب حجاب کا رنگ ملی نظر جو مری دفعتاً سر محفل حیا سے رخ پہ تیرے آ گیا گلاب کا رنگ نکل پڑے ہیں جو جگنو لئے ہوئے قندیل اتر گیا ہے تبھی سے اس آفتاب کا ...

مزید پڑھیے

بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں

بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں قدم قدم پہ ہی فکر معاش ہے میں ہوں زمانے بھر میں تو یہ راز فاش ہے میں ہوں مگر مجھے تو مری ہی تلاش ہے میں ہوں ہر ایک ضرب نئے تجربے اکیرے ہے حیات ہے کہ کوئی سنگ تراش ہے میں ہوں لگیں گی بولیاں جنت کی اب سر بازار بکے گی خلد بریں اف وناش ہے میں ...

مزید پڑھیے

نئے مسیحا بنیں گے نئے لقب ہوں گے

نئے مسیحا بنیں گے نئے لقب ہوں گے ہمارے ملک میں پھر انتخاب اب ہوں گے سنا ہے پھر سے نئے خواب بیچے جائیں گے سنا ہے پھر سے نئے جملے زیر لب ہوں گے جو پانچ سال کبھی یاد تک نہیں آئے وہی غریب وہ لاچار پھر طلب ہوں گے لو پھر سے مندر و مسجد کا جن نکل آیا لو پھر سے رہنما اب خوں کے تشنہ لب ہوں ...

مزید پڑھیے

جسم خاموش سی تصویر ہوا جاتا ہے

جسم خاموش سی تصویر ہوا جاتا ہے اب ترا ہجر لے تعمیر ہوا جاتا ہے ربط جب ایک کی تقدیر سے ہو جائے تو پھر کیا کسی اور کی تقدیر ہوا جاتا ہے رخ اکیرے ہوئے ماضی کی کہانی کے نقوش اب غم ہجر کی تشہیر ہوا جاتا ہے عکس ابھرے شب فرقت میں جو دیواروں پر وقت میرے لئے شمشیر ہوا جاتا ہے تو بھی اب ...

مزید پڑھیے

دل میں پیغام محبت سا اتارا جاؤں

دل میں پیغام محبت سا اتارا جاؤں اس سے پہلے کہ کسی بھیڑ میں مارا جاؤں وصل کی چاہ میں یہ ہجر کمایا میں نے ہجر کو خرچ کروں زیست سے ہارا جاؤں روٹھی تقدیر ہوں تو مجھ کو منایا جائے اور گر بگڑا مقدر ہوں سنوارا جاؤں ایک عرصے سے خلاؤں سے صدا آتی ہے ایسا لگتا ہے مجھے اس نے پکارا جاؤں میں ...

مزید پڑھیے

ایک اک پل میں سنو سینکڑوں غم کاٹتے ہیں

ایک اک پل میں سنو سینکڑوں غم کاٹتے ہیں زندگی کٹتی کہاں ہے اسے ہم کاٹتے ہیں مل کے رہتے ہیں وطن میں سبھی ہمسائے مگر اس محبت کو سیاست کے ادھم کاٹتے ہیں گلشن دہر کے ہر گل سے مہکتا گلشن مل کے ہم آئیے نفرت کے الم کاٹتے ہیں عالم ہجر میں ہیں وصل کی یادوں کے چراغ انہیں یادوں سے ترے ہجر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4359 سے 5858