شاعری

تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پر

تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پر فیصلہ ہوگا تمہارا آج کی بنیاد پر بات تیری مل ملا کر ٹھیک ہے نقاد پر شعر اچھا یا برا ہے منحصر ہے داد پر سب حفاظت کر رہیں ہیں مستقل دیوار کی جب کہ حملہ ہو رہا ہے مستقل بنیاد پر کیسے نکلو گے بھلا اپنے گنہ کے جال سے تم نے تو الزام سارا رکھ دیا صیاد ...

مزید پڑھیے

جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے

جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے زخم کی تہہ میں کئی زخم پرانے نکلے چین ملتا ہے ترے شوق کو پورا کر کے ورنہ اے لخت جگر کون کمانے نکلے وقت کی گرد میں پیوست تھے سب زخم مرے جب چلی تیز ہوا لاکھ فسانے نکلے یہ کسی طور بھی اللہ کو منظور نہیں کہ تو احسان کرے اور جتانے نکلے پہلے نفرت کی وہ ...

مزید پڑھیے

تجھے بھی حسن مطلق کا ابھی دیدار ہو جائے

تجھے بھی حسن مطلق کا ابھی دیدار ہو جائے مرے محبوب کے جو رو بہ رو اک بار ہو جائے سکون و چین مل جائے خدا بھی یار ہو جائے اگر انسان میں انسانیت بیدار ہو جائے لہو میں گرم جوشی رکھ قلم میں زور پیدا کر نہیں تو ہر قدم پر اک نئی دیوار ہو جائے قلندر ہوں مجھے شہرت کی چاہت ہی نہیں ورنہ میں ...

مزید پڑھیے

ذرا بتلا زماں کیا ہے مکاں کے اس طرف کیا ہے

ذرا بتلا زماں کیا ہے مکاں کے اس طرف کیا ہے اگر یہ سب گماں ہے تو گماں کے اس طرف کیا ہے اگر پتھر سے بکھرے ہیں تو آخر یہ چمک کیسی جو مخزن نور کا ہے کہکشاں کے اس طرف کیا ہے یہ کیا رستہ ہے آدم گامزن ہے کس مسافت میں نہیں منزل تو پھر اس کارواں کے اس طرف کیا ہے عجب پاتال ہے دروازہ و دیوار ...

مزید پڑھیے

چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہوا

چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہوا ایک سے دن رات کے چکر سے اکتایا ہوا بے دلی ہشیار پہنچی مجھ سے پہلے تھی وہاں میں گیا جس انجمن میں گھر سے اکتایا ہوا ہو نہیں پایا ہے سمجھوتہ کبھی دونوں کے بیچ جھوٹ اندر سے ہے سچ باہر سے اکتایا ہوا اب مزین ہے تلفظ سے عوام الناس کے شعر صرف و نحو ...

مزید پڑھیے

صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤں

صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤں اب تو فیصلہ ٹھہرا رات سے گزر جاؤں واہموں کے زنداں کا ذہن ذہن قیدی ہے بول فکر تابندہ میں کدھر کدھر جاؤں میری نارسائی سے قافلہ نہ رک جائے میں کہ پا شکستہ ہوں راستے میں مر جاؤں عشق کی صداقت پر جبکہ میرا ایماں ہے کیسے خودکشی کر لوں کیوں بکھر بکھر ...

مزید پڑھیے

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر روداد گزشتہ تو سنی کوزہ گری کی فردا کا بھی کر ذکر جو ہے چاک سے باہر خوش آیا عجب عشق کو یہ جامۂ زیبا نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر آتا نہیں ...

مزید پڑھیے

اسی جنت جہنم میں مروں گا

اسی جنت جہنم میں مروں گا گئے موسم کو آوازیں نہ دوں گا نئے جسموں سے مقتل جاگتے ہیں نئے لوگوں کے رستے پر چلوں گا مری آنکھیں سلامت ہیں تو پھر میں پرائے خواب لے کر کیا کروں گا لہو کی سرخیاں میرے علم ہیں خزاں کے زرد لشکر سے لڑوں گا کسی خطے میں قتل روشنی ہو میں اپنے شہر پر نوحہ کہوں ...

مزید پڑھیے

عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کا

عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کا ہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کا ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقت رخصت بھید سائے پہ کھلا شام کی عیاری کا جس قدر خرچ کیے سانس ہوئی ارزانی نرخ گرتا گیا رسم و رہ بازاری کا رات نے خواب سے وابستہ رفاقت کے عوض راستہ بند رکھا دن کی نموداری کا ایسا ویران ...

مزید پڑھیے

یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے

یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے ذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کے ہے کائنات معمہ جدا طریقے کا فقط سلجھتا ہے آپس میں گرہیں الجھا کے نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے مسافروں سے رہا ہے وہ راستا آباد پلٹ کے آئے نہیں جس سے پیش رو جا کے یہ ہجر زاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4356 سے 5858