شاعری

تجھ بنا دل کو بے قراری ہے

تجھ بنا دل کو بے قراری ہے دم بدم مجھ کو آہ و زاری ہے ہاتھ تیرے جو دیکھی ہے تلوار آرزو دل کو جاں سپاری ہے مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام تجھ سے ہر دم امیدواری ہے ہم سے تجھ کو نہیں ملاپ کبھی یہ مگر جگ میں طور یاری ہے آہ کوں دل میں میں چھپاتا ہوں لازم عشق پردہ داری ہے گر رہا تیری ...

مزید پڑھیے

ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیں

ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیں تم کو نہیں یقین تو شک کی دوا نہیں وہ کہہ رہے ہیں ناز سے ہم بے وفا نہیں کس کا ہے منہ جو کہہ دے یہ دعویٰ بجا نہیں زلف رسا بھی یار کی اتنی رسا نہیں طول شب فراق کی کچھ انتہا نہیں آنے کو ہے وہ ہوش ربا ہو کے بے نقاب اے بے خودی جبھی تو پتا ہوش کا ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہے

اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہے اک محبت کی بدولت گھر کا گھر مشکل میں ہے جب نہ یہ دنیا تھی قائم تو ہمارے دل میں تھا جب سے یہ دنیا ہے قائم تو ہمارے دل میں ہے اضطراب تیغ مقتل میں کوئی دیکھے ذرا صاف ہوتا ہے گماں بجلی کف قاتل میں ہے آج ان کے جور کے شکوے ہیں کیا کیا حشر میں آج ...

مزید پڑھیے

تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والے

تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والے آ ادھر بھی کبھی او ناز و نزاکت والے شیخ و واعظ ہوں نہ کس طرح کرامت والے حضرت پیر مغاں کی ہیں یہ صحبت والے کب تک ایذائیں سہیں تیری محبت والے رحم کر رحم کر او ظلم کی عادت والے شیخ رندوں کو برا کہہ کے گنہ گار نہ بن ارے کمبخت یہی لوگ ہیں جنت ...

مزید پڑھیے

کیوں کہوں میں کہ ستم کا میں سزاوار نہ تھا

کیوں کہوں میں کہ ستم کا میں سزاوار نہ تھا دل دیا تھا تجھے کس طرح گنہ گار نہ تھا عمر بھر مجھ سے تھی ہر ایک کو بے وجہ خلش کیونکہ میں گلشن عالم میں کوئی خار نہ تھا کیا نہ کچھ ہو گیا اک غیرت یوسف کے لیے کب محبت میں میں رسوا سر بازار نہ تھا کیا یہ کرتا مرے زخم جگر و دل کا علاج چرخ بے ...

مزید پڑھیے

رہے ہمارے لئے شغل یاں کوئی نہ کوئی

رہے ہمارے لئے شغل یاں کوئی نہ کوئی دیا کرے ہمیں غم آسماں کوئی نہ کوئی اب اس میں حضرت زاہد ہوں یا برہمن ہو بتوں کی چومتا ہے آستاں کوئی نہ کوئی کبھی اٹھاتے ہیں دل پر کبھی جگر پر داغ کھلا ہی رکھتے ہیں ہم بوستاں کوئی نہ کوئی برا سمجھ مرے اعمال کو نہ اے واعظ ہے اس متاع کا بھی قدرداں ...

مزید پڑھیے

بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کی

بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کی ہے آخر انتہا ہر ابتدا کی جگہ کیا ہو ان آنکھوں میں حیا کی بھری ہو جن میں شوخی انتہا کی شب غم آنے میں کرتی ہے غمزے ادا بھاتی نہیں مجھ کو قضا کی مرا دل لے کے اب مجھ پر یہ ظلم آہ دغا کی تو نے او ظالم دغا کی مزا ہے مے کشی کا ابر میں آج فلک پرچھائی ہے رحمت ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے ان میں یہ باتیں تو ہاں ہیں

یہ سچ ہے ان میں یہ باتیں تو ہاں ہیں بڑے بد ظن نہایت بد گماں ہیں غلط ہے یہ وہ ہم پر مہرباں ہیں کہاں اپنی سمجھ ہے ہم کہاں ہیں نہ یہ پوچھیں نہ آئے ہجر میں موت خدا بھولا ہے بت نا مہرباں ہیں نہیں اٹھتے ہیں آ کر غیر ہرگز محبت میں یہی بار گراں ہیں ثبوت عشق ہے لب خشک سرد آہ چھپائیں کیا ...

مزید پڑھیے

شیدا مجھے بنایا گیسوئے عنبریں کا

شیدا مجھے بنایا گیسوئے عنبریں کا دل ہی مرا ہوا ہے لو سانپ آستیں کا اس کو خیال آیا پھر اس بت حسیں کا اللہ ہے نگہباں میرے دل حزیں کا گو پاس وہ نہیں ہیں پر دیکھتا ہوں ہر دم لیتا ہوں میں تصور سے کام دوربیں کا حوروں کے ذکر پر میں آیا نہیں ہوں واعظ مجھ کو خیال اس دم آیا ہے اک حسیں ...

مزید پڑھیے

کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے

کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے اب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئے ساقی کے در پہ آج بغاوت کے شور میں ہم جام جام جام پکارے چلے گئے روٹھا ہوا ہے چاند بہت آفتاب سے اور چاندنی کو ڈھونڈنے تارے چلے گئے اس دست اختیار میں اک جان ہی تو تھی ہم تم پہ اپنی جان کو وارے چلے گئے بے مہر زندگی کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4337 سے 5858