تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھا
تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھا وہ آدمی جو مرا درد سر بنا ہوا تھا اسے تلاش رہی ہیں مری اداس آنکھیں جو خواب رات کے پچھلے پہر بنا ہوا تھا پہنچ کے کوچۂ جاناں میں آ گیا باہر مرے وجود کے اندر جو ڈر بنا ہوا تھا کمال عشق نے میرے کیا ہے زیر اسے کسی کا حسن جو کل تک زبر بنا ہوا تھا اترتی ...