سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہم
سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہم جب یہ نظارے نہیں تھے تب نظر ہوتے تھے ہم تب نیا مٹی سے اٹھا تھا محبت کا خمیر ہر کسی کوزے میں دو اک گھونٹ بھر ہوتے تھے ہم جس پری پر مر مٹے تھے وہ پری زادی نہ تھی بعد میں جانا کہ اس کے دونوں پر ہوتے تھے ہم تب کسی دیوار سے کوئی تعارف تھا نہیں ان ...