شاعری

سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہم

سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہم جب یہ نظارے نہیں تھے تب نظر ہوتے تھے ہم تب نیا مٹی سے اٹھا تھا محبت کا خمیر ہر کسی کوزے میں دو اک گھونٹ بھر ہوتے تھے ہم جس پری پر مر مٹے تھے وہ پری زادی نہ تھی بعد میں جانا کہ اس کے دونوں پر ہوتے تھے ہم تب کسی دیوار سے کوئی تعارف تھا نہیں ان ...

مزید پڑھیے

بہت سا کام تو پہلے ہی کر لیا میں نے

بہت سا کام تو پہلے ہی کر لیا میں نے جہاں جہاں مجھے ڈرنا تھا ڈر لیا میں نے خلا میں گروی رکھا اپنے سارے خوابوں کو اور اس زمین پہ چھوٹا سا گھر لیا میں نے بہت شدید توجہ کا سامنا تھا مجھے سو اک گلاس کو پانی سے بھر لیا میں نے خدا جہاز کے اندر سے رزق پھینکتا تھا خدا کا شکر ہے کچھ کیچ کر ...

مزید پڑھیے

آنکھیں بجھ جائیں گی شعلہ رہ جائے گا

آنکھیں بجھ جائیں گی شعلہ رہ جائے گا یعنی جو دیکھا تھا دیکھا رہ جائے گا اگلی ساعت شعر پورا کر پائے گی یا یہ مصرعہ میرے جیسا رہ جائے گا تیرا بوسہ ایسا پیالہ ہے جس میں سے پانی پینے والا پیاسا رہ جائے گا دونوں میں سے اس پہ دل کو رکنا ہوگا لمحوں میں سے جو زیادہ رہ جائے گا میری آہٹ ...

مزید پڑھیے

اپنے خلا میں لا کہ یہ تم کو دکھا رہا ہوں میں

اپنے خلا میں لا کہ یہ تم کو دکھا رہا ہوں میں وہ جو خلا نورد ہیں ان کے لیے خلا ہوں میں عشق ہوا نہیں مجھے عشق کو ہو گیا ہوں میں اتنا نہیں بچا ہوا جتنا پڑا ہوا ہوں میں بن تو گیا ہوں کوزہ گر گھوم کے تیرے چاک پر جیسا بنا رہا تھا تو ویسا نہیں بنا ہوں میں مٹی یہاں کی ٹھیک ہے مٹی سے کچھ ...

مزید پڑھیے

بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میں

بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میں یہ محبت ہے کوئی مر نہیں سکتا اس میں یہ بھی دروازہ ہے اس گھر میں اسے کھولیں تو رات کھل جاتی ہے کھلتا نہیں کمرہ اس میں پھول تو پھول میں پتی بھی نہیں توڑوں گا تجھ سے ثابت ہی نہ ہوگا مرا ہونا اس میں تو نے دو شخص اتارے تھے یہ میں جانتا ہوں میں نے ...

مزید پڑھیے

اے ہم سفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں

اے ہم سفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں اپنے ہی اصول اپنی ہی اقدار بنا لیں جن لوگوں نے اب تک مرے ہونٹوں کو سیا ہے سوزن سے مری سوچ کا کانٹا بھی نکالیں برفوں پہ الاؤ نہیں لگتے ہیں تو یارو بجھتی ہوئی قندیل سے قندیل جلا لیں کہنے کو تو بازار کی ہم جنس گراں ہیں لیکن ہمیں کوڑی پہ خریدار ...

مزید پڑھیے

بہادری جو نہیں ہے تو بزدلی بھی نہیں (ردیف .. ی)

بہادری جو نہیں ہے تو بزدلی بھی نہیں بہت ہی چاہا مگر ہم سے خودکشی نہ ہوئی کچھ اس طرح سے خیالوں نے روشنی بخشی تمہاری زلف بھی بکھری تو تیرگی نہ ہوئی کسی کے درد کو تم جانتے بھلا کیوں کر خود اپنے درد سے جب تم کو آگہی نہ ہوئی وہ تیرگی تھی مسلط فضائے عالم پر لہو کے دیپ جلے پھر بھی ...

مزید پڑھیے

کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے

کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے صد شکر کہ اس بزم سے شعلہ تو اٹھا ہے مانا کہ مرے لان کی پھر سبز ہوئی گھاس اس مینہ میں پڑوسی کا مکاں بھی تو گرا ہے سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی سورج ہے کہ مدت سے مرے سر پر کھڑا ہے ہر سمت خموشی ہے مگر کہتے ہیں کچھ لوگ اس شہر میں اک شور قیامت ...

مزید پڑھیے

جو رازدار تھے پہلے وہ دشمن جاں ہیں (ردیف .. ے)

جو رازدار تھے پہلے وہ دشمن جاں ہیں مگر جو دشمن جاں تھے وہ رازدار ہوئے گناہ خود ہی کیا خود کو پھر سزا دے لی ہم اپنے ہاتھوں کئی بار سنگسار ہوئے کبھی فسانہ سنا کر بھی آنکھ نم نہ ہوئی تمہارے ذکر پہ ہی آج اشک بار ہوئے ہر ایک چیز کی اس دور میں صفت بدلی پہاڑ شہر بنے شہر کوہسار ہوئے وہ ...

مزید پڑھیے

تری گلی سی کسی بھی گلی کی شان نہیں

تری گلی سی کسی بھی گلی کی شان نہیں کہ اس زمین پہ سنتے ہیں آسمان نہیں مژہ سے بڑھ کے نہیں ہے جو کوئی تیر حسیں تمہارے ابرو سے دل کش کوئی کمان نہیں سسک رہے ہیں جو سڑکوں پہ سینکڑوں انساں تمہارے شہر میں شاید کوئی مکان نہیں یہیں بہشت ہے یارو یہیں ہے دوزخ بھی کہ اس جہان سے آگے کوئی جہان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4327 سے 5858