شاعری

یہ تیرہ بخت بیانوں میں قید رہتے ہیں

یہ تیرہ بخت بیانوں میں قید رہتے ہیں وطن ہمارے ترانوں میں قید رہتے ہیں خودی سے دور رگ ہائے سنگ میں ساکت مرے یقین گمانوں میں قید رہتے ہیں سڑک پہ خواہشیں بے نام و ننگ پھرتی ہیں زمیں کے خواب زمانوں میں قید رہتے ہیں کہا فلک نے یہ اڑتے ہوئے پرندوں سے زمیں پہ لوگ مکانوں میں قید رہتے ...

مزید پڑھیے

وصف جو آپ سے جڑا ہوگا

وصف جو آپ سے جڑا ہوگا ہو بہو حکم کبریا ہوگا آ کہ دکھلاؤں رقص پانی کا اک بھنور اب بھی ناچتا ہوگا کرگس عشق نوچتا ہے بدن حسن پامال ہو گیا ہوگا درد نے دل کی پرورش کی ہے درد ہی شعر سے ادا ہوگا حاجت فصل گل نہیں فیصلؔ دل یہ خود رو کہ پھر اگا ہوگا

مزید پڑھیے

ہمالہ کی داسیاں

ہمالہ کے نوکیلے بدن سے پھسلتی ہوئی چنچل بوندیں اس کے قدموں پہ جا گریں وہ ہمالہ کے پیروں کو چومتی رہیں اور المیہ گیت گاتی رہیں میرے محبوب ہم کہ بس تیری داسیاں بن کر ترے قدموں کو ہمیشہ چومتے رہنا چاہتی ہیں، یہ ڈھلوان ہمیں جنوب کی اور جتنا بھی آگے بہا لے جائے لیکن ایک دن ہم سمندر سے ...

مزید پڑھیے

تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگا

تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگا کھلی جو دھوپ تو پانی کا رنگ اڑنے لگا اشارا کرتی ہیں چہرے کی جھریاں چپ چاپ تو کیا بدن سے جوانی کا رنگ اڑنے لگا جدید رنگ میں آیا جو مصرع اولیٰ حسد سے مصرع ثانی کا رنگ اڑنے لگا کتاب زیست کے مفہوم کو سمجھتے ہی یہاں بڑے بڑے گیانی کا رنگ اڑنے لگا جو ...

مزید پڑھیے

بھنگ کھاتے ہیں نہ گانجا نہ چرس پیتے ہیں

بھنگ کھاتے ہیں نہ گانجا نہ چرس پیتے ہیں ہم وہ بھنورے ہیں جو احساس کا رس پیتے ہیں آپ اس ڈھنگ سے امرت بھی نہیں پی سکتے جس ہنر مندی سے ہم اشک نفس پیتے ہیں سب یہیں چھوڑ کے جانا ہے خبر ہے لیکن پھر یہ ہم کس لئے دنیا کی ہوس پیتے ہیں جو تری یاد کے کیڑے ہیں بدن کے اندر وہ مری روح کو کھاتے ...

مزید پڑھیے

جو فن سے فکر کی تدبیر گفتگو کرے گی

جو فن سے فکر کی تدبیر گفتگو کرے گی تو گونگی بہری بھی تصویر گفتگو کرے گی میں جیتے جی اسے ایسا ہنر سکھا دوں گا کہ میرے بعد یہ تحریر گفتگو کرے گی عدالتوں میں گواہی ہمیں ملے نہ ملے ہمارے پاؤں کی زنجیر گفتگو کرے گی اسی امید پہ آنکھوں کے خواب زندہ ہیں کہ ایک دن کوی تعبیر گفتگو کرے ...

مزید پڑھیے

لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھوا

لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھوا ہمارے ہاتھوں نے جب پھول سے بدن کو چھوا تمام جسم میں آسودگی سی پھیل گئی ترے دہن نے کبھی جب مرے دہن کو چھوا سمٹ کے آ گئی کاغذ پہ صورت اشعار ہماری فکر نے جب بھی کسی گھٹن کو چھوا کئی مقام پہ دونوں ملے ضرور مگر کشن نے رادھا کو رادھا نے کب کشن کو ...

مزید پڑھیے

لے کے اس گھاٹ سے اس گھاٹ گئی میرا وجود

لے کے اس گھاٹ سے اس گھاٹ گئی میرا وجود فکر دیمک کی طرح چاٹ گئی میرا وجود میری بربادی میں اک شاخ بھی شامل تھی مری خود کلہاڑی تو نہیں کاٹ گئی میرا وجود اپنے معیار کا بھی دام نہ مل پایا مجھے زندگی لے کے کئی ہاٹ گئی میرا وجود میں سکندر تھا مگر آخری منزل کی طرف لے کے اک ٹوٹی ہوئی ...

مزید پڑھیے

یوں پہنچنا ہے مجھے روح کی طغیانی تک

یوں پہنچنا ہے مجھے روح کی طغیانی تک جس طرح رسی سے جاتا ہے گھڑا پانی تک کاٹنی پڑتی ہے ناخن سے تکن کی زنجیر یوں ہی آتی نہیں مشکل کوئی آسانی تک زندگی تجھ سے بنائے ہوئے رشتے کی ہوس مجھ کو لے آئی ہے دنیا کی پریشانی تک ایسے جراحوں کا قبضہ ہے سخن پر افسوس کر نہیں سکتے جو لفظوں کی ...

مزید پڑھیے

پڑھ رہے تھے وہ لب حور ہمارا قصہ

پڑھ رہے تھے وہ لب حور ہمارا قصہ یوں ہی تھوڑی ہوا مشہور ہمارا قصہ صرف اک عیب نکالا تھا غلط فہمی نے ہو گیا ہم سے بہت دور ہمارا قصہ آگیں یادیں تری ہاتھ میں مرہم لے کر جب بھی بننے لگا ناسور ہمارا قصہ ہم وہ جگنوں ہیں کسی وقت کسی سے سن کر رو پڑی تھی شب دیجور ہمارا قصہ خامشی نے انہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4325 سے 5858