خط لفافے میں غیر کا نکلا
خط لفافے میں غیر کا نکلا اس کا قاصد بھی بے وفا نکلا جان میں جان آ گئی یارو وہ کسی اور سے خفا نکلا شعر ناظم نے جب پڑھا میرا پہلا مصرعہ ہی دوسرا نکلا پھر اسی قبر کے برابر سے زندہ رہنے کا راستہ نکلا
خط لفافے میں غیر کا نکلا اس کا قاصد بھی بے وفا نکلا جان میں جان آ گئی یارو وہ کسی اور سے خفا نکلا شعر ناظم نے جب پڑھا میرا پہلا مصرعہ ہی دوسرا نکلا پھر اسی قبر کے برابر سے زندہ رہنے کا راستہ نکلا
پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا کتنا آسان تھا علاج مرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج مرا میں تو رہتا ہوں دشت میں مصروف قیس کرتا ہے کام کاج مرا کوئی کاسہ مدد کو بھیج اللہ میرے بس میں نہیں ہے تاج مرا میں محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج مرا
سہارے جانے پہچانے بنا لوں ستونوں پر ترے شانے بنا لوں اجازت ہو تو اپنی شاعری سے ترے دو چار دیوانے بنا لوں ترا سایہ پڑا تھا جس جگہ پر میں اس کے نیچے تہہ خانے بنا لوں ترے موزے یہیں پر رہ گئے ہیں میں ان سے اپنے دستانے بنا لوں ابھی خالی نہ کر خود کو ٹھہر جا میں اپنی روح میں خانے بنا ...
صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی بنیادیں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر کس کس نیم کی جڑ میں کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچہ کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی
چلتی سانسوں کو جام کرنے لگا وہ نظر سے کلام کرنے لگا رات فرہاد خواب میں آیا اور فرشی سلام کرنے لگا پھر میں زہریلے کارخانوں میں زندہ رہنے کا کام کرنے لگا صاف انکار کر نہیں پایا وہ مرا احترام کرنے لگا لیلیٰ گھر میں سلائی کرنے لگی قیس دلی میں کام کرنے لگا ہجر کے مال سے دل ...
تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں کیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیں گھر کے ملبے سے گھر بنا ہی نہیں زلزلے کا اثر گیا ہی نہیں مجھ پہ ہو کر گزر گئی دنیا میں تری راہ سے ہٹا ہی نہیں کل سے مصروف خیریت میں ہوں شعر تازہ کوئی ہوا ہی نہیں رات بھی ہم نے ہی صدارت کی بزم میں اور کوئی تھا ہی نہیں یار تم ...
جب ریتیلے ہو جاتے ہیں پربت ٹیلے ہو جاتے ہیں توڑے جاتے ہیں جو شیشے وہ نوکیلے ہو جاتے ہیں باغ دھوئیں میں رہتا ہے تو پھل زہریلے ہو جاتے ہیں ناداری میں آغوشوں کے بندھن ڈھیلے ہو جاتے ہیں پھولوں کو سرخی دینے میں پتے پیلے ہو جاتے ہیں
موت کی سمت جان چلتی رہی زندگی کی دکان چلتی رہی سارے کردار سو گئے تھک کر بس تری داستان چلتی رہی میں لرزتا رہا ہدف بن کر مشق تیر و کمان چلتی رہی الٹی سیدھی چراغ سنتے رہے اور ہوا کی زبان چلتی رہی دو ہی موسم تھے دھوپ یا بارش چھتریوں کی دکان چلتی رہی جسم لمبے تھے چادریں چھوٹی رات ...
پرندے سہمے سہمے اڑ رہے ہیں برابر میں فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں تانے ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا میں اڑ رہا ہے تعاقب میں لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ...
نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے شہر میں کرفیو لگا ہے مرے سائے میں اس کا نقش پا ہے بڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے کوئی برباد ہو کر جا چکا ہے کوئی برباد ہونا چاہتا ہے لہو آنکھوں میں آ کر چھپ گیا ہے نہ جانے شہر دل میں کیا ہوا ہے کٹی ہے عمر بس یہ سوچنے میں مرے بارے میں وہ کیا سوچتا ...