شاعری

پورواآنچل

مشرقی یوپی کرفیو میں یہ دھرتی کتنی سندر ہے یہ سندر اور دکھی دھرتی یہ دھانی آنچل پورب کا تیز رفتار ریل کے ساتھ ہوا میں اڑتا جاتا ہے پڑا جھل مل لہراتا ہے دور تک ہرے کھیت کھلیان یہ دھرتی عورت کوئی کسان سنبھالے سر پر بھاری بوجھ چلی ہے کھیت سے گھر کی اور وہی گھر جس کی چھت پر آج کرودھ کا ...

مزید پڑھیے

یہ جو تنہائی

یہ جو تنہائی ہے شاید مری تنہائی نہ ہو گونجنا ہو نہ سماعت میں سکوت اور شب و روز کی نعش میری دہلیز پہ ایام نے دفنائی نہ ہو انگنت پھول ہی کھلتے ہوں اک شجر مولری کا ہو کہیں جس کے تلے یار اغیار گلے ملتے ہوں آن پہنچے ہوں خوشی کے موسم راہ تکتے ہوں مری اور مجھ تک کسی باعث یہ خبر آئی نہ ہو ہو ...

مزید پڑھیے

خدا کے ذکر میں مشغول ہیں جو مست پہاڑ

خدا کے ذکر میں مشغول ہیں جو مست پہاڑ سمجھ گئے ہیں یقیناً ادائے وقت پہاڑ ہماری ذات تعجب کی ایک دنیا ہے کہیں پہ جھیل سمندر کہیں درخت پہاڑ تمہارے ساتھ دعائیں عطائیں زاد سفر ہمارے ساتھ مسلسل سراب دشت پہاڑ خبر ہوا سے ملی ہے تمہاری آمد کی مگر اسے بھی سمجھتے ہیں اوج بخت پہاڑ جو چل ...

مزید پڑھیے

مجھ دیے پر یہ اک عطا رہی ہے

مجھ دیے پر یہ اک عطا رہی ہے خود محافظ مری ہوا رہی ہے لوگ سہمے ہوئے ہیں ہجرت سے دھول چہروں پہ مسکرا رہی ہے تیرے ایمان کا خدا حافظ تو اسے نام سے بلا رہی ہے شور ہر گام کامیاب رہا خامشی غم میں مبتلا رہی ہے وقت پر کار بن گیا سو یہاں بے بسی دائرے بنا رہی ہے اس تعلق پہ موت واجب ...

مزید پڑھیے

خواہشیں انتظار اور یقین

خواہشیں انتظار اور یقین وسوسے بے شمار اور یقین تین ارکان آدمیت کے عاجزی انکسار اور یقین اذن رب العلیٰ و راز و نیاز آپ صدیق و غار اور یقین راہ دشوار لڑکھڑاتے قدم دشت حیرت غبار اور یقین جنگ میں جیت کی ضمانت ہیں حوصلہ اختیار اور یقین مستقل عشق کی حمایت میں لوگ ہم تین چار اور ...

مزید پڑھیے

سراب و دشت وہی ساربان تیسرا ہے

سراب و دشت وہی ساربان تیسرا ہے سفر کے ساتھ بندھا امتحان تیسرا ہے حضور فہم و فراست سے کام لیجئے گا سڑک کے مغربی جانب مکان تیسرا ہے یہ دو جہان سے آگے کی ایک منزل ہے عطائے عشق محمد جہان تیسرا ہے ازل ابد کے نشاں زندگی کے حامی ہیں تباہیوں کی عبارت نشان تیسرا ہے ہم اس سے پہلے بھی ...

مزید پڑھیے

زبانوں کا بوسہ

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے! یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے یہ کیسا نشہ ہے مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک ...

مزید پڑھیے

برف باری کی رت

یہیں تو کہیں پر تمہارے لبوں نے مرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھے اسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کر ہم اک دن کھڑے تھے یہیں برف باری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھے بہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائے ہم آغوشی جسم و جاں کے نشے میں گئی برف باری کی رت اور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سب یہاں ...

مزید پڑھیے

اقلیما

اقلیما جو ہابیل کی قابیل کی ماں جائی ہے ماں جائی مگر مختلف مختلف بیچ میں رانوں کے اور پستانوں کے ابھاروں میں اور اپنے پیٹ کے اندر اپنی کوکھ میں ان سب کی قسمت کیوں ہے اک فربہ بھیڑ کے بچے کی قربانی وہ اپنے بدن کی قیدی تپتی ہوئی دھوپ میں جلتے ٹیلے پر کھڑی ہوئی ہے پتھر پر نقش بنی ہے اس ...

مزید پڑھیے

پتھر کی زبان

اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا یہی بلندی ہے وصل تیرا یہی ہے پتھر مری وفا کا اجاڑ چٹیل اداس ویراں مگر میں صدیوں سے، اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں پھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے ہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامن سنبھالا لیتی ہوں پتھروں کو گلے لگا کر نکیلے پتھر جو وقت کے ساتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4309 سے 5858