شاعری

قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے

قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے کہ آ رہی ہے خزاں اپنا انتظام لیے کسی فقیر کا جس نے نہ احترام کیا وہ مسجدوں میں ملا مجھ کو احترام لیے ترے عذاب میں مر کر ترے دریچے سے میں جا رہا ہوں محبت کا انتقام لیے مجھے گلی میں دکھی ہے فقط ضیا یعنی چلی گئی ہے سیاست دعا سلام لیے مجھے بھی یاد کے ...

مزید پڑھیے

دل میں تجھ کو شمار کر لوں میں

دل میں تجھ کو شمار کر لوں میں ہو اجازت تو پیار کر لوں میں اس خزاں کو سمیٹ لو تم تو موسم خوش گوار کر لوں میں عشق اگر جرم ہے تو جرم صنم بے سبب بے شمار کر لوں میں تم نے وعدہ کیا ہے آنے کا دو گھڑی انتظار کر لوں میں ساری دنیا کو جیت لوں پل میں تجھ پہ گر افتخار کر لوں میں ہاتھ حاصل سے ...

مزید پڑھیے

غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں

غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں لگانا چاہتا تھا تشنگی کی آگ پانی میں ہر اک شے اڑ گئی میری ہواؤں کی روانی سے سمٹ کے رہ گئی خواہش وفاؤں کی جوانی میں ہمیشہ چشم میں رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا میں رہنا چاہتا ہوں اے سمندر تیرے پانی میں تری بستی کے مجرے سے تری اوقات کیا ...

مزید پڑھیے

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا چھو کے میرا بدن اپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنو ناف کے اس طرف اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تم بس یہیں چھوڑ دو تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دو میرے بے کل نفس کو قرار آ گیا میرے عیسیٰ مرے درد کے چارہ گر میرا ہر موئے تن اس ہتھیلی سے تسکین پانے ...

مزید پڑھیے

سوچ

رات اک رنگ ہے اک راگ ہے اک خوشبو ہے مہرباں رات مرے پاس چلی آئے گی رات کا نرم تنفس مجھے چھو جائے گا دودھیا پھول چنبیلی کے مہک اٹھیں گے رات کے ساتھ مرا غم بھی چلا آئے گا اب مرے خانۂ دل میں بھی چراغاں ہوگا یونہی ہر شب جو پگھلتی ہے سیاہی شب کی اک لرزتا ہوا سایہ سا چلا آتا ہے جس کے ...

مزید پڑھیے

مہمان

اس کو اک دن تو جانا تھا مجھ سے کیا رشتہ کیا ناتا بس پل دو پل کو ٹھہرا تھا پل دو پل ہنستے گزرا تھا میں تب بھی سوچا کرتی تھی یہ ساتھ بڑا لمحاتی ہے جذبے کی تھوڑی سی گرمی جلتے چھالے بن جاتی ہے اس بات کو بیتے سال ہوئے پھر دنیا ہے پہلے جیسی سب رنگ وہی رعنائی وہی سب حسن وہی پر کیا ...

مزید پڑھیے

آنکھیں

جن پر میرا دل دھڑکا تھا وہ سب باتیں دہراتے ہو وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو مجھ سے کہتے تھے بن کاجل اچھی لگتی ہیں میری آنکھیں تم اب جس کے گھر جاتے ہو کیسی ہوں گی اس کی آنکھیں تنہائی میں کھوئی کھوئی نازک سپنے بنتی ہوگی تم اب جس کے گھر جاتے ہو کیا وہ مجھ سے اچھی ہوگی

مزید پڑھیے

شاعری

انسانوں کے دل میں بچوں اک پیار کا دریا بہتا ہے جو آنکھ سے اوجھل رہتا ہے لیکن دنیا میں کبھی کبھی لگتا ہے کچھ اتنا اچھا وہ چاند کی جھلمل کرنیں ہوں یا رم جھم پانی بارش کا یا ایسا ہو انسان کوئی جو اتنا پیارا ہمیں لگے ہم بول نہیں کچھ پاتے ہیں چپ چاپ کھڑے رہ جاتے ہیں تب ایک انوکھے جادو ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ

دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیں لیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں ایسے ہی سفر کرتے کرتے اک شخص ملا ہم کو بھی کہیں دنیا میں اچھے لوگ بہت لیکن اس کی سی بات ...

مزید پڑھیے

قطرہ قطرہ

قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں اک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہے اک آنسو اس نام کا جو ہم لے نہ سکے اک آنسو اس دعا کا جو پوری نہ ہوئی ایک فضول سی بات کہ جو بے سود کہی آنسو میرا خواب میں جس سے گھبراؤں آنسو میری مراد جسے میں بھلاؤں اک آنسو اس چہرے کا جو یاد رہے آنکھوں کے رستے جو دل میں اتر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4308 سے 5858