شاعری

آپ بے کار الجھ بیٹھے ہیں تقدیر کے ساتھ

آپ بے کار الجھ بیٹھے ہیں تقدیر کے ساتھ پہلے پڑھیے تو ذرا صبر کو تفسیر کے ساتھ مصلحت ہے کہ محبت ہے غضب ہے جو ہے دیکھ دیوار اتر آئی ہے تصویر کے ساتھ مفلسی آ گئی اس بار بھی آڑے ورنہ لازماً پھول بھی ملتے تجھے تحریر کے ساتھ کیا ہی اچھا تھا شہ وقت کہ ایسا ہوتا دکھ فلسطیں کا بھی ہوتا ...

مزید پڑھیے

زمین ہجر میں گردن تلک گڑا ہوا ہوں

زمین ہجر میں گردن تلک گڑا ہوا ہوں میں تجھ کو ہار کے اب سوچ میں پڑا ہوا ہوں ہر ایک سمت ہے شورش بلا کی وحشت ہے میں دشت زاد ہوں اور شہر میں کھڑا ہوا ہوں خدا کا شکر کہ زیبائشوں کا ہوں باعث یہ اور بات کہ پازیب میں جڑا ہوا ہوں یہ عشق موت کے اسباب پیدا کرتا ہے میں تیس سال سے اس بات پر اڑا ...

مزید پڑھیے

مجھ پر نشاں لگائیے پہلے سوالیے

مجھ پر نشاں لگائیے پہلے سوالیے پھر مسئلوں کو کھولیے اور حل نکالیے جذبات آ سکے ہیں کبھی اختیار میں آنکھوں کی فکر چھوڑیئے دل کو سنبھالیے وحشت نے میری نیند پہ پہرے لگا دئے کچھ خواب میری آنکھ کی جانب اچھالیے وہم و گماں اتار کے پھینکے ہیں اور پھر ہم نے یقیں کی اون سے خرقے سلا ...

مزید پڑھیے

کچھ سلیقے سے اگر چاک گھمایا جاتا

کچھ سلیقے سے اگر چاک گھمایا جاتا عین ممکن ہے کہ شہکار بنایا جاتا جانے والے نے غلط فہمی میں لوٹ آنا تھا بے خیالی میں بھی گر ہاتھ ہلایا جاتا عشق منصور کو خود دار تلک لے آیا اس سے پہلے کہ کوئی حشر اٹھایا جاتا لوٹنے والا اسی سوچ میں مر جائے گا کاش زنجیر کو دو بار ہلایا جاتا رنگ ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا ربط مسلسل رہا شعور سے بھی

کچھ ایسا ربط مسلسل رہا شعور سے بھی کہ خوف آنے لگا عشق کے وفور سے بھی وہ شش جہات سے یکساں دکھائی دیتا ہے اسے قریب سے دیکھا ہے اور دور سے بھی ہمارا عشق حقیقت میں غار ثور و حرا اگرچہ خاص عقیدت ہمیں ہے طور سے بھی سنا ہے خاص تعلق ہے خارجیت کا ہماری ذات کے کچھ داخلی امور سے بھی تبھی ...

مزید پڑھیے

یاد راتوں میں آ گیا کوئی

یاد راتوں میں آ گیا کوئی رات مجھ کو رلا گیا کوئی مجھ کو سینے سے مت لگا ساقی مجھ میں کانٹے بچھا گیا کوئی اے ہوا جا اسے خبر کر دے اپنا وعدہ نبھا گیا کوئی سب کو حصہ ملا تھا لیکن کیوں میرے حصے کو کھا گیا کوئی تیرے رونے کی ایک وجہ تو ہے مجھ کو یوں ہی رلا گیا کوئی میری غلطی نہیں ہے اے ...

مزید پڑھیے

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی خانۂ دل میں بسی چشم لہو مانگیں ہے سوچتا تھا کہ کھلونے سے بہل جائے گی شام جب ...

مزید پڑھیے

صبح لکھتی ہے ترا نام مری آنکھوں میں

صبح لکھتی ہے ترا نام مری آنکھوں میں قید تنہائی کی ہے شام میری آنکھوں میں نیند آتی ہے دعا دے کے چلی جاتی ہے اشک جب کرتا ہے آرام مری آنکھوں میں اب ترے نقش کف پا کو مٹانے خوشبو آئی ہے گردش ایام مری آنکھوں میں دو قدم ساتھ چلے تب تو بتاؤں اس کو ہے تری منزل گم نام مری آنکھوں میں تجھ ...

مزید پڑھیے

نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیں

نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیں دن سے بچ نکلے بدن رات میں مر جاتے ہیں کرتے ہیں اپنی زباں سے جو دلوں کو زخمی دب کے اک دن وہ اسی بات میں مر جاتے ہیں یاد آتی ہے تیری جب بھی گلابی باتیں ڈوب کر تیرے خیالات میں مر جاتا ہوں جب کبھی جاتے ہیں احباب کی شادی میں ہم جانیں کیوں جاتے ہی ...

مزید پڑھیے

تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیں

تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیں کیا گزری ہے بات بتاؤ تو جانیں دادا کی پہچان بتانا آساں ہے اپنے دم پر نام کماؤ تو جانیں بستی میں تم خوب سیاست کرتے ہو بستی کی آواز اٹھاؤ تو جانیں بچوں جیسا اشک بہا کر آئے ہو تم عاشق ہو درد چھپاؤ تو جانیں جسم سجا کر بیٹھ گئے ہو کیا سمجھوں پلکوں پر کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4307 سے 5858