جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیا
جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیا دنیا کو اس فقیر نے ٹھوکر میں رکھ لیا اہل جنوں کو اپنے جنوں سے وہ عشق تھا دل نے جگہ نہ دی تو اسے سر میں رکھ لیا ننھا کوئی پرند اڑا جب تو یوں لگا ہمت نے آسمان کو شہ پر میں رکھ لیا آنکھوں نے آنسوؤں کو عجب اہتمام سے موتی بنا کے دل کے سمندر میں رکھ ...