شاعری

جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیا

جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیا دنیا کو اس فقیر نے ٹھوکر میں رکھ لیا اہل جنوں کو اپنے جنوں سے وہ عشق تھا دل نے جگہ نہ دی تو اسے سر میں رکھ لیا ننھا کوئی پرند اڑا جب تو یوں لگا ہمت نے آسمان کو شہ پر میں رکھ لیا آنکھوں نے آنسوؤں کو عجب اہتمام سے موتی بنا کے دل کے سمندر میں رکھ ...

مزید پڑھیے

دوستی میں نہ دشمنی میں ہم

دوستی میں نہ دشمنی میں ہم کیا نظر آئیں گے کسی میں ہم کیوں سجاتے ہیں خواب صدیوں کے چند لمحوں کی زندگی میں ہم سیر کرتے ہیں دونوں عالم کی اپنے خوابوں کی پالکی میں ہم جب تمہارا خیال آتا ہے ڈوب جاتے ہیں روشنی میں ہم کوئی آواز کیوں نہیں دیتا ڈگمگاتے ہیں تیرگی میں ہم پیاس ہم کو ...

مزید پڑھیے

یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانے

یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانے کون کیا دے کے گیا دست دعا کیا جانے آگ تن میں تو لگا لینا کوئی کھیل ہے کیا کتنے مجبور دیے ہوں گے ہوا کیا جانے اس کو کرنا ہے تہ خاک سو کرتی جائے کون ہے سیم بدن موج بلا کیا جانے وہ تو دریاؤں کو سیراب کئے جاتی ہے سوکھے کھیتوں کی ضرورت کو گھٹا کیا ...

مزید پڑھیے

غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سے

غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سے خانہ بربادوں کے آباد ہیں گھر صدیوں سے در بدر ان کا بھٹکنا تو نئی بات نہیں چاہنے والے تو ہیں خاک بسر صدیوں سے کوئی مشکل نہ مسافت ہے نہ رستے کی تھکن اصل زنجیر ہے سامان سفر صدیوں سے تجھ سے ملنے کے سوا ساری دعائیں گلشن اک یہی شاخ ہے بے برگ و ...

مزید پڑھیے

دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئے

دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئے آج چھن چھن کے اندھیروں سے اجالے آئے برہمن آئے ہیں زنار لیے ہاتھوں میں حضرت شیخ بھی دستار سنبھالے آئے ہم نے بے ساختہ کانٹوں کے دہن چوم لیے جب کبھی دشت میں پھولوں کے حوالے آئے ہجر کے درد بھی آنسو بھی ہے تنہائی بھی ترے جاتے ہی مرے چاہنے والے آئے اس ...

مزید پڑھیے

ایک نظم ۲

میں نے تمہیں تمہارے کنول جھیل چہرے کو فراموش کر دیا ہے پرانی ساعتوں کی شیرینیوں کو یکسر بھلا دیا ہے لفظوں کے مرمریں پیکر جملوں کی لطیف سوغاتیں ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا گیا چھیننے والے قزاق ہمارے اپنے عزیز تھے ہمارے اپنے رفیق تھے

مزید پڑھیے

مکالمہ

آداب آداب تسلیمات تسلیمات مزاج اقدس فضل ربی ہے نمازیں پڑھتے ہیں فراغتوں سے ڈرتے ہیں اللہ خیروبرکت دے سنا ہے آپ نے نئی گاڑی خرید لی جی ہاں مرسڈیز ہے اللہ کے فضل سے گرین کارڈ ہولڈر بھی ہیں مگر آپ کا وہ کمیونزم آپ تو خاصے ریڈیکل تھے شکر باریٔ تعالی کا جس نے اندھیروں میں روشنی ...

مزید پڑھیے

احتساب

جنہیں چاہتے ہو پسند کرتے ہو ان کی روحوں کو ٹٹولو سچائیوں کی گرہوں کو کھولو وہاں بھی اندھیرے کھنڈر ہیں وہاں بھی ویران منظر ہیں وہاں بھی زخموں کے بسیرے ہیں وہاں بھی تنہائیوں کے ڈیرے ہیں وہ بس ہنستے ہیں نمائش کے لئے ان کی زہر‌ خند ہنسی کو سمجھو گوشۂ عافیت انہیں ملا ہے نہ تمہیں ملے ...

مزید پڑھیے

بارش کا ایک گیت

جیون مایا ہریالی میں تم جوت جگاتی آئی ہو تم چاند چکوری چاند بنو تم پھولن پھول پھلار بنو تم درپن چھایا گیان بنو تم رات جگاتی پیار بنو تم روپ چمن سنسار بنو جب بارش موتی لٹتے ہیں جب مٹی سوندھی کھلتی ہے تب ہیریں سوانگ رچاتی ہیں تب رانجھے ڈھول بجاتے ہیں تب عاشق گیت سجاتے ہیں جب ...

مزید پڑھیے

اگرچہ تم سا بنایا نہیں گیا ہوں میں

اگرچہ تم سا بنایا نہیں گیا ہوں میں مگر بنا کے مٹایا نہیں گیا ہوں میں اسے یہ دکھ کہ زمیں تنگ قافیہ مشکل مجھے یہ دکھ کہ نبھایا نہیں گیا ہوں میں میں جس طرف سے مکمل دکھائی دیتا ہوں اسی طرف سے دکھایا نہیں گیا ہوں میں یہ انکساری ازل سے مرے خمیر میں ہے جھکا ہوا ہوں جھکایا نہیں گیا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4306 سے 5858