تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا
تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا دل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا شب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئی ترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا نگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دے مرے منہ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا کہاں تک کچھ نہ کہیے اب تو نوبت جان تک ...