شاعری

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے پوری دل کی یہی جستجو کیجیے آپ کی دشمنی کا میں ہوں معترف وار کیجے مگر دو بدو کیجیے دامن دل کی لاکھوں ہوئیں دھجیاں کیجیے کیجیے اب رفو کیجیے پھول موسم میں کانٹوں کے بیوپار سے جسم و جان و جگر مت لہو کیجیے زندگی ہو مگر درد ہجراں نہ ہو ایسے جینے کی کیا ...

مزید پڑھیے

رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے

رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے تیرا تو اے ستمگر ارمان رہ نہ جائے جو دل کی حسرتیں ہیں سب دل میں ہوں تو بہتر اس گھر سے کوئی باہر مہمان رہ نہ جائے اقرار وصل تو ہے ایسا نہ ہو نہ آئیں مشکل ہماری ہو کر آسان رہ نہ جائے اے سوز غم جلا دے اے درد خوں رلا دے کچھ ان کی دل لگی کا سامان رہ نہ ...

مزید پڑھیے

جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے

جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے اب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہے گم ہیں رہ تسلیم میں طالب بھی طلب بھی سجدہ ہی در یار ہے سجدہ ہی جبیں ہے کچھ مظہر باطن ہوں تو کچھ محرم ظاہر میری ہی وہ ہستی ہے کہ ہے اور نہیں ہے ایذا کے سوا لذت ایذا بھی ملے گی کیوں جلوہ گہ ہوش یہاں دل بھی ...

مزید پڑھیے

شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیا

شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیا ساری امیدیں ٹوٹ گئیں دل بیٹھ گیا جی چھوٹ گیا ​ فصل گل آئی یا اجل آئی کیوں در زنداں کھلتا ہے کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا ​ لیجیے کیا دامن کی خبر اور دست جنوں کو کیا کہئے اپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گزری چھوٹ ...

مزید پڑھیے

مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ

مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ بھڑک اٹھی ہے شمع زندگانی دیکھتے جاؤ چلے بھی آؤ وہ ہے قبر فانیؔ دیکھتے جاؤ تم اپنے مرنے والے کی نشانی دیکھتے جاؤ ابھی کیا ہے کسی دن خوں رلا دے گی یہ خاموشی زبان حال کی جادو بیانی دیکھتے جاؤ غرور حسن کا صدقہ کوئی جاتا ہے دنیا سے کسی کی خاک ...

مزید پڑھیے

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم دعا تو خیر دعا سے امید خیر بھی ہے یہ مدعا ہے تو انجام مدعا معلوم ہوا نہ راز رضا فاش وہ تو یہ کہیے مرے نصیب میں تھی ورنہ سعیٔ نا معلوم مری وفا کے سوا غایت جفا کیوں ہو تری جفا کے سوا حاصل وفا معلوم کچھ ان کے ...

مزید پڑھیے

وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا

وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا عیسیٰ کو ہو نوید کہ بیمار مر گیا آزاد کچھ ہوئے ہیں اسیران زندگی یعنی جمال یار کا صدقہ اتر گیا دنیا میں حال آمد و رفت بشر نہ پوچھ بے اختیار آ کے رہا بے خبر گیا شاید کہ شام ہجر کے مارے بھی جی اٹھیں صبح بہار حشر کا چہرہ اتر گیا آیا کہ دل گیا کوئی ...

مزید پڑھیے

سنگ در دیکھ کے سر یاد آیا

سنگ در دیکھ کے سر یاد آیا کوئی دیوانہ مگر یاد آیا پھر وہ انداز نظر یاد آیا چاک دل تا بہ جگر یاد آیا ذوق ارباب نظر یاد آیا سجدہ بے منت سر یاد آیا ہر تبسم پہ یہ کھاتا ہوں فریب کہ انہیں دیدۂ تر یاد آیا پھر ترا نقش قدم ہے درکار سجدۂ راہ گزر یاد آیا جمع کرتا ہوں غبار رہ دوست سر ...

مزید پڑھیے

لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں

لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں دل پہ خدا کی مار کہ پھر بھی چین نہیں آرام نہیں جتنے منہ ہیں اتنی باتیں دل کا پتہ کیا خاک چلے جس نے دل کی چوری کی ہے ایک اسی کا نام نہیں جلوہ و دل میں فرق نہیں جلوے کو ہی اب دل کہتے ہیں یعنی عشق کی ہستی کا آغاز تو ہے انجام نہیں رک کے جو ...

مزید پڑھیے

دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں

دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں وہ میری بے خبری کی بھی خبر رکھتے ہیں درد میں لطف خلش کیف کشش پاتا ہوں کیا وہ پھر عزم تماشائے جگر رکھتے ہیں جس طرف دیکھ لیا پھونک دیا طور مجاز یہ ترے دیکھنے والے وہ نظر رکھتے ہیں خود تغافل نے دیا مژدۂ بیداد مجھے اللہ اللہ مرے نالے بھی اثر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4283 سے 5858