شاعری

دل میں اک شام سی اتارتی ہے

دل میں اک شام سی اتارتی ہے خامشی اب مجھے پکارتی ہے کیسے ویران ساحلوں کی ہوا ریت پر زندگی گزارتی ہے تجھ سے ہم دور رہ نہیں سکتے کوئی بے چینی ہم کو مارتی ہے کھیلتی ہے مرے دکھوں کے ساتھ زندگی کس قدر شرارتی ہے ہے محبت تو بس محبت ہے جیت جاتی ہے اب یا ہارتی ہے روز اک نقش کو ابھارتی ...

مزید پڑھیے

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا اس طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں میں دی جس طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا بے بسی سی عجب زندگی ...

مزید پڑھیے

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لا علم چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد میں نے ایسے ہی گنہ تیری جدائی میں کئے جیسے طوفاں میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد شام سے پہلے وہ مست اپنی اڑانوں میں رہا جس کے ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے نت نئی بات چھوڑ جاتی ہے عشق چلتا ہے تا ابد لیکن زندگی ساتھ چھوڑ جاتی ہے دل بیابانی ساتھ رکھتا ہے آنکھ برسات چھوڑ جاتی ہے چاہ کی اک خصوصیت ہے کہ یہ مستقل مات چھوڑ جاتی ہے مرحلے اس طرح کے بھی ہیں کہ جب ذات کو ذات چھوڑ جاتی ہے ہجر کا کوئی نا کوئی پہلو ہر ...

مزید پڑھیے

پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی

پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی مختصر ہے کیوں وفا کی زندگی کس نے دیکھا ہے خدا کی موت کو کس نے دیکھی ہے خدا کی زندگی ہاتھ پاؤں مارنا بے کار ہے جی رہے ہیں ہم خلا کی زندگی بارہا بھی موت سے ہے سامنا آزما لی بارہا کی زندگی درد سہنے کا الگ انداز ہے جی رہے ہیں ہم ادا کی زندگی چاہے جنگل ...

مزید پڑھیے

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے یہ جو بے بسی ہے یہ کون ہے یہ تمہارے لمس کو کیا ہوا یہ جو بے حسی ہے یہ کون ہے وہ جو میرے جیسا تھا کون تھا یہ جو آپ سی ہے یہ کون ہے مرے چار سو مرے چار سو یہ جو بیکلی ہے یہ کون ہے مرے انگ انگ میں بس گئی یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے وہ جو تیرگی تھی وہ کون تھی یہ جو ...

مزید پڑھیے

اک یہی روشنی روشنی امکان میں ہے

اک یہی روشنی روشنی امکان میں ہے تو ابھی تک دل ویران میں ہے شور برپا ہے تری یادوں کا رونق ہجر بیابان میں ہے پیار اور زندگی سے لگتا ہے کوئی زندہ دلی بے جان میں ہے آج بھی تیرے بدن کی خوشبو تیرے بھیجے ہوئے گلدان میں ہے زندگی بھی ہے مری آنکھوں میں موت بھی دیدۂ حیران میں ہے دل ابھی ...

مزید پڑھیے

دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیا

دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیا درد میں دل ڈوب کر قطرے سے دریا بن گیا ان کے آغوش مشیت میں ہے ناکامی مری کام کچھ اس طرح بگڑا ہے کہ گویا بن گیا دل کی رت ایسی تو یاد یار نے بدلی نہ تھی یہ چمن اجڑا ہی اس ڈھب سے کہ صحرا بن گیا نقش موہوم حیات افسانہ در افسانہ تھا جب یہ نقش ابھرا ...

مزید پڑھیے

مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگ

مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگ محرم راز ناز ہیں ہم لوگ بزم دل میں دیا نہ عیش کو بار صاحب امتیاز ہیں ہم لوگ ہم سے ملتی ہے برق طور کو داد وہ تبسم نواز ہیں ہم لوگ عقل عاجز ہے بے خبر ہے ہوش چشم بد دور راز ہیں ہم لوگ حشر امید سے مراد ہیں ہم گلہ ہائے دراز ہیں ہم لوگ تیری ناز آفرینیاں ہیں ...

مزید پڑھیے

زباں مدعا آشنا چاہتا ہوں

زباں مدعا آشنا چاہتا ہوں دل اب زندگی سے خفا چاہتا ہوں ادا کو ادا آشنا چاہتا ہوں تجھی پر تجھے مبتلا چاہتا ہوں وفا چاہتے ہیں وفا چاہتا ہوں وہ کیا چاہتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں محبت کو رسوا کیا چاہتا ہوں نظر محرم التجا چاہتا ہوں تعین غم عشق کا چاہتا ہوں انہیں چاہتا ہوں یہ کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4281 سے 5858