سکندر ہوں تلاش آب حیواں روز کرتا ہوں
سکندر ہوں تلاش آب حیواں روز کرتا ہوں ابھی نقش و نگار زندگی میں رنگ بھرتا ہوں لگا کر سب لہو آخر ہوئے داخل شہیدوں میں میں اپنی لاش رستے سے ہٹانے تک سے ڈرتا ہوں پرائی آگ گر ہوتی تو کب کی جل بجھی ہوتی میں ہنستے کھیلتے موج حوادث سے گزرتا ہوں یقیناً موت کے ہر عکس پر وہ خاک ڈالے گا دعا ...