شاعری

لالچ سے اور جور و جفا سے نہیں بنی

لالچ سے اور جور و جفا سے نہیں بنی اپنی زمین والے خدا سے نہیں بنی خوشیوں کے ساتھ رہ نہ سکے ایک پل کبھی یعنی چراغیوں کی ہوا سے نہیں بنی سننے کی حد تلک اسے اک بار کیا سنا کانوں کی پھر کسی بھی صدا سے نہیں بنی اپنی انا کی ریت پہ اپنے اصول پہ پالا وہ درد جس کی دوا سے نہیں بنی ہم نے اسی ...

مزید پڑھیے

بہت سنا تھا کہ کھلتا ہے پر نہیں کھلتا

بہت سنا تھا کہ کھلتا ہے پر نہیں کھلتا خدا کے واسطے بندے کا گھر نہیں کھلتا وہ ایک شعر جو کھلتا ہے ساری محفل پہ وہ جس پہ کھلنا ہے اس پہ مگر نہیں کھلتا ہمارے قد کے مطابق جسے بنایا تھا وہی وہ در ہے جو بالشت بھر نہیں کھلتا بنے ہوئے ہیں عجایب گھروں کی زینت ہم پر اپنے واسطے اپنا ہی در ...

مزید پڑھیے

خوشی کہ چہرے پہ غم کا جلال ساتھ لئے

خوشی کہ چہرے پہ غم کا جلال ساتھ لئے حیات ملتی ہے پر انتقال ساتھ لئے بلندیوں پہ سبھی آ کے بھول جاتے ہیں عروج آتا ہے لیکن زوال ساتھ لئے وہ خون آنکھوں سے رونا عمل پرانا ہے اب اشک بہتے ہیں آنکھوں کی کھال ساتھ لئے کئی جمی ہوئی پرتیں ادھیڑ ڈالے گا یہ مجھ میں کون ہے اترا کدال ساتھ ...

مزید پڑھیے

یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف

یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف تراب میری طرف اور آب اس کی طرف نہ جانے کس نے بنائی ہے دوغلی تصویر ہیں خار میری طرف اور گلاب اس کی طرف زبان میری ہے الفاظ ہیں مرے لیکن ہے بات چیت کا لب و لباب اس کی طرف مری غزل کے مقدر میں پیاس آئی ہے کشید کی ہوئی عمدہ شراب اس کی طرف کوئی معمہ ...

مزید پڑھیے

ایک میں اور اک قمر جاگے

ایک میں اور اک قمر جاگے کیا ضروری تھا ہر پہر جاگے آسمانی بلائیں نازل کر اے خدا دل میں تیرا ڈر جاگے نیند آ جائے بیتے قصوں کو ہر سحر اک نئی خبر جاگے کون ہے وہ جو خواب بن بن کر میری آنکھوں میں رات بھر جاگے اک سفر ہے محبتوں کا جہاں پاؤں سو جائیں رہ گزر جاگے جب ذرا ماند ہو تھکن تو ...

مزید پڑھیے

خود اپنی ذات کے شہ پر میں ہوں میں

خود اپنی ذات کے شہ پر میں ہوں میں کبھی مرکز کبھی محور میں ہوں میں ابھی مجھ میں بہت ہمت ہے لیکن کسی ہارے ہوئے لشکر میں ہوں میں بہادر ہے اماں سڑکوں پہ لیکن ڈرا سہما ہوا سا گھر میں ہوں میں یقیں ساحل پہ ہونے کا تو ہوگا ابھی تشکیک کے ساگر میں ہوں میں وہ آنکھوں سے اتر آیا ہے دل ...

مزید پڑھیے

شبنم شبنم روتا ہے

شبنم شبنم روتا ہے دریا ہو کر پیاسا ہے دل کی بنجر دھرتی پر یار کا موسم آیا ہے نفرت کا احساس ہوا جب جب شیشہ دیکھا ہے میں بھی کم کم ملتا ہوں وہ بھی کٹ کٹ جاتا ہے میرے گھر آ دیکھ ذرا ہر سو تو ہی بکھرا ہے راتوں کو رونا اس کا بے خوابی کا قصہ ہے جتنا جی چاہے ہنس لو سب کو اک دن رونا ...

مزید پڑھیے

لمحے کی بات

یہ اس لمحے کی بات ہے جب آنکھ جھپکنے سے ڈر لگتا اور اس ڈر میں لپٹی ہوئی ادھورا ہونے کی خواہش ٹہلتے ٹہلتے جھوٹ کی اس دیوار کے پاس پہنچ جاتی جس کی بنیادوں میں نوزائیدہ سچ دفن تھے تب میں خاموشی کے چٹئیل میدان میں تن کے کھڑا ہو جاتا اور انجانی منزلوں سے آتی ہوئی ہوا لفظوں کے پیراہن سے ...

مزید پڑھیے

ہے وہی ایک میرے سوا اور میں

ہے وہی ایک میرے سوا اور میں دونوں تنہا ہیں میرا خدا اور میں ہے خلاصہ مری زندگی کا یہی ایک ناکام حرف دعا اور میں تیرگی ختم کرنے کی امید پر رات بھر ہی جلا اک دیا اور میں کون جیتے گا اس جنگ میں دیکھیے ہو گئے ہیں مقابل ہوا اور میں آئی برکھا کی رت میرے دکھ بانٹنے روئے پھر ساتھ مل کر ...

مزید پڑھیے

نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں

نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں ہم اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں قبول ترک تعلق نہیں ہے لیکن ہم تمہارے حکم کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں غموں کے فیل نہ ڈھا دیں کہیں یہ کعبۂ دل سو ہم دعائے ابابیل کرنا چاہتے ہیں ہمارے جلنے سے ملتی ہے روشنی تم کو تو روشن اب یہی قندیل کرنا چاہتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4258 سے 5858