شاعری

یہ دنیا دائمی گھر ہے نہیں ہے

یہ دنیا دائمی گھر ہے نہیں ہے پھر اس کے بعد محشر ہے نہیں ہے نہیں سایہ سراپا نور یعنی تذبذب ہے وہ پیکر ہے نہیں ہے بصارت سے ضروری ہے بصیرت نگاہوں میں جو منظر ہے نہیں ہے مری گردش مرے اطراف ہی کیوں مرا بھی کوئی محور ہے نہیں ہے ہر اک سائے کے پیچھے بھاگتے ہیں کہو اپنا بھی رہبر ہے نہیں ...

مزید پڑھیے

آئینے میں چہرہ رکھ کر سوچوں گا

آئینے میں چہرہ رکھ کر سوچوں گا میں اب خود کو تنہا رکھ کر سوچوں گا دور فلک سے اک دن میں بھی ابھروں گا پھر ٹھوکر میں دنیا رکھ کر سوچوں گا کس منزل سے میرا رشتہ گہرا ہے پاؤں تلے ہر رستہ رکھ کر سوچوں گا میرا جزو بھی جیسے کل میں شامل ہو دریا میں ایک قطرہ رکھ کر سوچوں گا یکساں قدریں ...

مزید پڑھیے

عمومی سوچ سے بڑھ کر بھی کچھ فن کار رکھتا ہے

عمومی سوچ سے بڑھ کر بھی کچھ فن کار رکھتا ہے وسیلہ کوئی بھی ہو قوت اظہار رکھتا ہے مرا یہ دل بظاہر مصلحت اندیش ہے لیکن انا حاوی اگر ہو جرأت انکار رکھتا ہے رعایا خود کو کتنی بے اماں محسوس کرتی ہے عداوت شاہ سے جب بھی سپہ سالار رکھتا ہے تعجب ہے وفا کے باب میں بھی حد مقرر ہے وہ سب ...

مزید پڑھیے

زباں خموش نہ رکھتے تو اور کیا کرتے

زباں خموش نہ رکھتے تو اور کیا کرتے ہم ان سے کیسے بھلا عرض مدعا کرتے نہ دل کو درد محبت سے آشنا کرتے نہ زندگی کے لئے چارہ گر دوا کرتے یہ کوئی بھول نہیں ہے جفا کے بدلے ہم ہمارا فرض یہی تھا کہ ہم وفا کرتے نہ اب بہار سے مطلب نہ گلستاں سے غرض نہ ہم خزاں سے کوئی شکوہ و گلہ کرتے گلہ فضول ...

مزید پڑھیے

چلن اس دوغلی دنیا کا گر منظور ہو جاتا

چلن اس دوغلی دنیا کا گر منظور ہو جاتا وہ مجھ سے دور ہو جاتا میں اس سے دور ہو جاتا ہنر ہاتھوں سے چکنے کا بچا کر لے گیا مجھ کو بھروسے پاؤں کے رہتا تو میں معذور ہو جاتا زمانے بھر کی باتوں کو اگر دل سے لگا لیتا جہاں پہ دل دھڑکتا ہے وہاں ناسور ہو جاتا سفر کرتے ہوئے اپنا ہٹا کر آنکھ سے ...

مزید پڑھیے

کھوٹوں کو بھی کھرا بتانا پڑتا ہے

کھوٹوں کو بھی کھرا بتانا پڑتا ہے دنیا کا دستور نبھانا پڑتا ہے اثر وقت کا چہرے پہ دکھلانے کو آئنے کو آگے آنا پڑتا ہے اپنی آنکھیں مریں نہ بھوکی اس خاطر کچھ چہروں کو روز کمانا پڑتا ہے جسم نگر کے پار جو کچی بستی ہے اس کے آگے میرا ٹھکانا پڑتا ہے میں میرا میں نے مجھ سے کہ چنگل سے خود ...

مزید پڑھیے

فضا کہ ہاتھ میں رکھ کر اڑان کی خوشبو

فضا کہ ہاتھ میں رکھ کر اڑان کی خوشبو بدن پہ لے کہ میں اترا تھکان کی خوشبو میں مل رہا ہوں بہت دیر سے زمیں لیکن پروں سے جاتی نہیں آسمان کی خوشبو ادھر عبور کیا پچھلی آزمائش کو ادھر سے آئی نئے امتحان کی خوشبو اجڑنے والی ہے سبزے کی سلطنت ساری زمیں اگلنے لگی ہے مکان کی خوشبو خدارا ...

مزید پڑھیے

کوئی مکیں بھی نہ تھا اس مکاں سے لوٹا ہوں

کوئی مکیں بھی نہ تھا اس مکاں سے لوٹا ہوں خدا ہی جانتا ہے میں کہاں سے لوٹا ہوں حیات گزری تھی کردار جس کے گڑھنے میں ذلیل ہو کے اسی داستاں سے لوٹا ہوں نہ کوئی نقش نظر میں نہ دھول کپڑوں پہ سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہاں سے لوٹا ہوں جہاں پہ آ کے مکمل ہوئے وجود تمام ادھورا ہو کہ اکیلا ...

مزید پڑھیے

اک عمارت نئی تعمیر ہوئی جاتی ہے

اک عمارت نئی تعمیر ہوئی جاتی ہے شہر کی اک نئی تفسیر ہوئی جاتی ہے اے مرے عزم سفر کھینچ کہ لے جا مجھ کو اک قسم پاؤں کی زنجیر ہوئی جاتی ہے کھینچنے آئی ہے اب موت مرے دامن کو آپ کے خواب کی تعبیر ہوئی جاتی ہے حد تو یہ ہے کہ مری ذات کے اندر بھی اب جا بجا آپ کی جاگیر ہوئی جاتی ہے میں نے ...

مزید پڑھیے

دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں

دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں ہم تک چہرے عمر بدل کر آتے ہیں جمے ہیں جو چہرے آنکھوں کی کوروں پہ آؤ ان کو گیت غزل کر آتے ہیں جب کرنیں پانی پہ دستک دیتی ہیں لہروں پہ گرداب اچھل کر آتے ہیں تم جیسے ہم لگنے لگیں گے ٹھہرو تو ہم بھی اپنا خون بدل کر آتے ہیں گلشن سے مجھ تک آنے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4257 سے 5858