شاعری

جب بھی شمع طرب جلائی ہے

جب بھی شمع طرب جلائی ہے آنچ محرومیوں کی آئی ہے راستے اتنے بے کراں تو نہ تھے جستجو کتنی دور لائی ہے زحمت جستجو سے کیا ہوگا بوئے گل کس کے ہاتھ آئی ہے کتنی رنگینیوں میں تیری یاد کس قدر سادگی سے آئی ہے کہہ کے جان غزل تجھے ہم نے اپنی کم‌ مائیگی چھپائی ہے جب بھی جاویدؔ چھیڑ دی ہے ...

مزید پڑھیے

نہ غرور ہے خرد کو نہ جنوں میں بانکپن ہے

نہ غرور ہے خرد کو نہ جنوں میں بانکپن ہے یہ مزاج زندگی تو بڑا حوصلہ شکن ہے جہاں مل سکیں نہ مل کے جہاں فاصلے ہوں دل کے اسے انجمن نہ سمجھو وہ فریب انجمن ہے یہ ہوا چلی ہے کیسی کہ دلوں کی دھڑکنوں میں نہ حدیث لالہ و گل نہ حکایت چمن ہے نہیں مصلحت کہ رہبر کوئی بات سچ بتا دے ذرا کارواں سے ...

مزید پڑھیے

کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے

کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے اے مرے بے قرار دل کس لیے بے قرار ہے سن تو رہے ہیں دیر سے شور بہت بہار کا جانے کہاں کھلے ہیں پھول جانے کہاں بہار ہے کیوں نہ ترے خیال میں زمزمہ خواں گزر چلیں یوں بھی ہماری راہ میں گردش روزگار ہے رات سے ہم نہیں اداس رات اداس ہی سہی رات تو صبح کے ...

مزید پڑھیے

میکدے کے سوا ملی ہے کہاں

میکدے کے سوا ملی ہے کہاں اور دنیا میں روشنی ہے کہاں آرزوؤں کا اک ہجوم سہی فرصت شوق کھو گئی ہے کہاں جتنے وارفتہ‌ٔ سفر ہیں ہم اتنی راہوں میں دل کشی ہے کہاں ساتھ آئے کوئی کہ رہ جائے زندگی مڑ کے دیکھتی ہے کہاں خوش ادا سب ہیں آشنا جاویدؔ اپنی آوارگی چھپی ہے کہاں

مزید پڑھیے

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا ابھی تو ہم نفسوں کو ہے وہم چارہ گری ہوئی نہ درد میں پھر بھی کمی تو کیا ہوگا یہ تیرگی تو بہر حال چھٹ ہی جائے گی نہ راس آئی ہمیں روشنی تو کیا ہوگا امید ہے کہ کبھی تو لبوں پہ آئے گی کبھی نہ آئی لبوں پر ہنسی تو کیا ...

مزید پڑھیے

دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے

دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے جیسے تمام کھوئے ہوئے خواب پا لیے جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے ایسی گھٹی فضاؤں میں کیسے جئیں گے وہ کچھ قافلے جو آئے ہیں تازہ ہوا لیے ان سر پھری ہواؤں سے کچھ آشنا تو ہوں گہرے سمندروں میں نہ کشتی کو ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر اس حسین پیکر کو

دیکھ کر اس حسین پیکر کو نشہ سا آ گیا سمندر کو ڈولتی ڈگمگاتی سی ناؤ پی گئی آ کے سارے ساگر کو خشک پیڑوں میں جان پڑنے لگی دیکھ کر روپ کے سمندر کو بحر پیاسے کی جستجو میں ہے ہے صدف کی تلاش گوہر کو کوئی تو نیم وا دریچوں سے دیکھے اس رتجگے کے منظر کو ایک دیوی ہے منتظر فارغؔ وا کئے پٹ ...

مزید پڑھیے

خواب تھا یا کہ جنوں خوب تھا بیکل مجھ میں

خواب تھا یا کہ جنوں خوب تھا بیکل مجھ میں برپا رکھتا تھا ہر اک حال میں ہلچل مجھ میں یہ جو آنکھوں سے چھلکتی ہے ہمہ وقت مرے رکھ گیا اپنی نشانی کوئی چھاگل مجھ میں یہ بتاتے ہیں مجھے ہونٹوں کے شکوے میرے آج بھی رہتی ہے لڑکی کوئی پاگل مجھ میں مجھ کو رونے ہی نہیں دیتے ارادے میرے کیا ...

مزید پڑھیے

اس کو تنہائی میں سوچوں تو مچل جاتا ہے

اس کو تنہائی میں سوچوں تو مچل جاتا ہے دل مرا کیسا ہے جو سوچوں سے جل جاتا ہے میری تنہائی سنا دے جو مجھے میری غزل میرا پیکر تری تصویر میں ڈھل جاتا ہے رعب خاموشی ہے یا اس میں ہے پوشیدہ جلال غم صدا دے کے ہی چپ چاپ نکل جاتا ہے میری خاموشی مجھے دیتی ہے قوت تب ہی ٹھوکریں کھا کے مرا دل ...

مزید پڑھیے

دیکھ تو کیا کمال رکھتی ہیں

دیکھ تو کیا کمال رکھتی ہیں تیری آنکھیں سوال رکھتی ہیں چلی آتی ہیں میری خلوت میں یادیں کتنا خیال رکھتی ہیں سامنے جس قدر بھی مشکل ہو سب دعائیں سنبھال رکھتی ہیں عشق میں ہیں صعوبتیں ایسی مجھ کو ہر پل نڈھال رکھتی ہیں شوخ چنچل ادائیں بھی تیری آپ اپنی مثال رکھتی ہیں تجھ سے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4250 سے 5858