دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں
دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں چبھ گیا کانٹا دل حسرت زدہ کے پاؤں میں کم نہیں ہیں جب کہ شہروں میں بھی کچھ ویرانیاں کس توقع پر کوئی جائے گا اب صحراؤں میں کچی کلیاں پکی فصلیں سر چھپائیں گی کہاں آگ شہروں کی لپک کر آ رہی ہے گاؤں میں زخم نظارا ہیں جسموں کی برہنہ ...