شاعری

دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں چبھ گیا کانٹا دل حسرت زدہ کے پاؤں میں کم نہیں ہیں جب کہ شہروں میں بھی کچھ ویرانیاں کس توقع پر کوئی جائے گا اب صحراؤں میں کچی کلیاں پکی فصلیں سر چھپائیں گی کہاں آگ شہروں کی لپک کر آ رہی ہے گاؤں میں زخم نظارا ہیں جسموں کی برہنہ ...

مزید پڑھیے

مسیح وقت سہی ہم کو اس سے کیا لینا

مسیح وقت سہی ہم کو اس سے کیا لینا کبھی ملے بھی تو کچھ درد دل بڑھا لینا ہزار ترک وفا کا خیال ہو لیکن جو روبرو ہوں تو بڑھ کر گلے لگا لینا کسی کو چوٹ لگے اپنے دل کو خوں کرنا زمانے بھر کے غموں کو گلے لگا لینا خمار ٹوٹے تو کیسے کہ ہم نے سیکھ لیا جو تو نہ ہو تو تری یاد سے نشہ لینا سفینہ ...

مزید پڑھیے

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے سویا ہوا درد جاگ اٹھا ہے مٹ بھی چکے نقش پا مگر دل مہکی ہوئی چاپ سن رہا ہے جلتی ہوئی منزلوں کا راہی اب اپنا ہی سایہ ڈھونڈھتا ہے دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن اندر سے مکان گر رہا ہے پوچھے ہے چٹک کے غنچۂ زخم اے اجنبی تیرا نام کیا ہے سوچوں کے اتھاہ پانیوں ...

مزید پڑھیے

غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج

غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج کھلی فضا میں کہیں دور جا کے رو لیں آج دیار غیر میں اب دور تک ہے تنہائی یہ اجنبی در و دیوار کچھ تو بولیں آج تمام عمر کی بیداریاں بھی سہہ لیں گے ملی ہے چھاؤں تو بس ایک نیند سو لیں آج طرب کا رنگ محبت کی لو نہیں دیتا طرب کے رنگ میں کچھ درد بھی سمو لیں ...

مزید پڑھیے

ہمارے سامنے بیگانہ وار آؤ نہیں

ہمارے سامنے بیگانہ وار آؤ نہیں نیاز اہل محبت کو آزماؤ نہیں ہمیں بھی اپنی تباہی پہ رنج ہوتا ہے ہمارے حال پریشاں پہ مسکراؤ نہیں جو تار ٹوٹ گئے ہیں وہ جڑ نہیں سکتے کرم کی آس نہ دو بات کو بڑھاؤ نہیں دیے خلوص و محبت کے بجھتے جاتے ہیں گراں نہ ہو تو ہمیں اس قدر ستاؤ نہیں دل و نگاہ کو ...

مزید پڑھیے

کیا بدل دو گے تم اک نظر سے

کیا بدل دو گے تم اک نظر سے بے قراری تو ہے عمر بھر سے دوستو شہر جاں جل رہا ہے اب کہاں جاؤ گے اور کدھر سے زخم ہیں دل پہ کیا کیا نہ دیکھو پھول چن لو لب نغمہ گر سے جاگ کر رات ہم نے گزاری پوچھ لو کاروان سحر سے ظلمت شب ہے جاویدؔ اور ہم چاند نکلے نہ جانے کدھر سے

مزید پڑھیے

کس اجالے کا نشاں ہیں ہم لوگ

کس اجالے کا نشاں ہیں ہم لوگ کن اندھیروں میں رواں ہیں ہم لوگ نور خورشید کو الزام نہ دو صبح کا خواب گراں ہیں ہم لوگ جیسے بھٹکا ہوا راہی ہو کوئی یوں ہی ہر سو نگراں ہیں ہم لوگ کبھی آوارگیٔ نکہت گل کبھی زنجیر گراں ہیں ہم لوگ دور تک دشت جنوں ہے جاویدؔ آبلہ پا گزراں ہیں ہم لوگ

مزید پڑھیے

ساز دے کے تاروں کو چھیڑ تو دیا تم نے (ردیف .. ی)

ساز دے کے تاروں کو چھیڑ تو دیا تم نے ساز دل کے تاروں کی بات بھی سنی ہوتی ہم جو شعلۂ جاں کی لو نہ تیز کر دیتے آج غم کی راہوں میں کتنی تیرگی ہوتی ان سے چھیڑ دیتے ہم رنگ و نور کی باتیں داستان شوق اپنی خود ہی چھڑ گئی ہوتی شکوۂ کرم کیوں ہے وہ اگر کرم کرتے اور بھی محبت کی پیاس بڑھ گئی ...

مزید پڑھیے

تلخ گزرے کہ شادماں گزرے

تلخ گزرے کہ شادماں گزرے زندگی ہو تو کیوں گراں گزرے تھا جہاں مدتوں سے سناٹا ہم وہاں سے بھی نغمہ خواں گزرے مرحلے سخت تھے مگر ہم لوگ صورت موجۂ رواں گزرے میرے ہی دل کی دھڑکنیں ہوں گی تم مرے پاس سے کہاں گزرے کیوں نہ ڈھل جائے میرے نغموں میں کیوں ترا حسن رائیگاں گزرے چند لمحے خیال ...

مزید پڑھیے

کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی

کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی کھلتی ہی نہیں اب دل کی کلی مرا چین گیا مری نیند گئی میں لاکھ رہوں یوں ہی خاک بسر شاداب رہیں ترے شام و سحر نہیں اس کا مجھے شکوہ بھی کوئی مرا چین گیا مری نیند گئی میں کب سے ہوں آس لگائے ہوئے اک شمع امید جلائے ہوئے کوئی لمحہ سکوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4249 سے 5858