شاعری

دیکھا جو آئینہ تو مجھے سوچنا پڑا

دیکھا جو آئینہ تو مجھے سوچنا پڑا خود سے نہ مل سکا تو مجھے سوچنا پڑا اس کا جو خط ملا تو مجھے سوچنا پڑا اپنا سا وہ لگا تو مجھے سوچنا پڑا مجھ کو تھا یہ گماں کہ مجھی میں ہے اک انا دیکھی تری انا تو مجھے سوچنا پڑا دنیا سمجھ رہی تھی کہ ناراض مجھ سے ہے لیکن وہ جب ملا تو مجھے سوچنا پڑا سر ...

مزید پڑھیے

ہمارے ساتھ امید بہار تم بھی کرو

ہمارے ساتھ امید بہار تم بھی کرو اس انتظار کے دریا کو پار تم بھی کرو ہوا کا رخ تو کسی پل بدل بھی سکتا ہے اس ایک پل کا ذرا انتظار تم بھی کرو میں ایک جگنو اندھیرا مٹانے نکلا ہوں ردائے تیرہ شبی تار تار تم بھی کرو تمہارا چہرہ تمہیں ہو بہ ہو دکھاؤں گا میں آئنہ ہوں، مرا اعتبار تم بھی ...

مزید پڑھیے

کبھی نہ سوچا تھا میں نے اڑان بھرتے ہوئے

کبھی نہ سوچا تھا میں نے اڑان بھرتے ہوئے کہ رنج ہوگا زمیں پر مجھے اترتے ہوئے یہ شوق غوطہ زنی تو نیا نہیں پھر بھی اتر رہا ہوں میں گہرائیوں میں ڈرتے ہوئے ہوا کے رحم و کرم پر چراغ رہنے دو کہ ڈر رہا ہوں نئے تجربات کرتے ہوئے نہ جانے کیسا سمندر ہے عشق کا جس میں کسی کو دیکھا نہیں ڈوب کے ...

مزید پڑھیے

رقص وحشت کروں

میں امیدوں کی یہ بجھتی کرنیں لئے یوں اندھیروں میں کب تک بھٹکتی پھروں اپنے زخموں پہ پھیلاؤں میں کب تلک بے صدا خواہشوں کی سلگتی قبا اور پھر کب تلک تشنگی کے جو پیوند ہیں جا بجا اس جہاں کی نظر سے چھپاتی پھروں کب تلک میں سنوں نغمۂ زندگی ہر اکھڑتی ہوئی سانس کے ساز پر کب تلک یوں جمائے ...

مزید پڑھیے

میں خوش ہوا کہ بود میں رکھا گیا مجھے

میں خوش ہوا کہ بود میں رکھا گیا مجھے حالانکہ بس قیود میں رکھا گیا مجھے خدشات کی صلیب پہ کھینچی گئی حیات حالات کے جمود میں رکھا گیا مجھے جس سمت بھی گیا میں اجل میرے ساتھ تھی یعنی مری حدود میں رکھا گیا مجھے برفاب خواب جب مری آنکھوں میں آ بسے اک حشر کی نمود میں رکھا گیا مجھے دنیا ...

مزید پڑھیے

جسم میں گونجتا ہے روح پہ لکھا دکھ ہے

جسم میں گونجتا ہے روح پہ لکھا دکھ ہے تو مری آنکھ سے بہتا ہوا پہلا دکھ ہے کیا کروں بیچ بھی سکتا نہیں گنجینۂ زخم کیا کروں بانٹ بھی سکتا نہیں ایسا دکھ ہے یہ تب و تاب زمانے کی جو ہے نا یارو کیجیے غور تو لگتا ہے کہ سارا دکھ ہے تم مرے دکھ کے تناسب کو سمجھتے کب ہو جتنی خوشیاں ہیں ...

مزید پڑھیے

پھٹی مشکیں لیے دن رات دریا دیکھنے والے

پھٹی مشکیں لیے دن رات دریا دیکھنے والے بیاباں بن گئے پانی زیادہ دیکھنے والے یہاں کوئی مسلسل دیکھنے والا نہیں تجھ کو ہمارے ساتھ چل ہم ہیں ہمیشہ دیکھنے والے تمہارے حسن سے انصاف کرنے کا تقاضا ہے تمہیں دیکھیں زیادہ سے زیادہ دیکھنے والے عمارت عشق کی تنہا کھڑی ہوگی کہاں تم ...

مزید پڑھیے

کہیں تھی راکھ کہیں تھا دھواں کہیں تھی آگ

کہیں تھی راکھ کہیں تھا دھواں کہیں تھی آگ فلک ڈھکا تھا ستاروں سے جب زمیں تھی آگ جمے ہوئے لب و رخسار بھی دہک رہے تھے حصار موسم برفاب میں حسیں تھی آگ حدود جسم سے باہر نکل کے سرد لگی قیود جسم میں تھی جب تک تھی بر تریں تھی آگ عداوتوں میں نئے رنگ بھر رہا تھا وہ بغل میں سانپ تھے اور زیر ...

مزید پڑھیے

ہجر میں جو لی گئی تصویر ہے

ہجر میں جو لی گئی تصویر ہے یہ ہماری آخری تصویر ہے موت بھرتی جا رہی ہے اپنے رنگ زندگی مٹتی ہوئی تصویر ہے تم جسے کہتے ہو جسموں کی قطار اصل میں دیوار کی تصویر ہے یار لوگوں سے گلے ملنا بھی کیا کوئی پتھر ہے کوئی تصویر ہے مٹ گئی تصویر پہلے عشق کی سامنے اب دوسری تصویر ہے جتنی ...

مزید پڑھیے

منظوم واقعہ

پہلے عادت ہوئی آدھے لفظ کہنے کی پھر سناٹے پھیلے جملوں میں دھیرے دھیرے حرف مٹے مری ڈائری سے اور ایک دن بھول گئی میں خود کو آنکھ کی ریت کے ساحل پر اس رات پھیل گیا سمندر دور کے خشک جزیروں پر

مزید پڑھیے
صفحہ 4237 سے 5858