شاعری

کھل کر آخر جہل کا اعلان ہونا چاہئے

کھل کر آخر جہل کا اعلان ہونا چاہئے حق پرستوں کے لئے زندان ہونا چاہئے اس وطن میں مقتدر ہونے کی پہلی شرط ہے آدمی کے روپ میں شیطان ہونا چاہئے آپ جیسوں کو رعایا جھیلتی ہے کس طرح آپ کو تو سوچ کر حیران ہونا چاہئے نیم ملا خطرۂ ایمان ہوتا ہے اگر پورا ملا غاصب ایمان ہونا چاہئے دل سے ...

مزید پڑھیے

مرے لفظوں کو خیالوں سے جلا دیتا ہے

مرے لفظوں کو خیالوں سے جلا دیتا ہے کون ہے وہ جو مجھے مجھ سے ملا دیتا ہے جب بھی گزرے مرے آنگن سے وفا کا موسم تیری چاہت کا نیا پھول کھلا دیتا ہے اس سے خلوت میں ملاقات کا عالم کیا ہو جو نگاہوں سے سر بزم پلا دیتا ہے میں معافی تو اسے دے دوں مگر سچ یہ ہے جھوٹ ہر رشتے کی بنیاد ہلا دیتا ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں میں رسیاں ہیں

ہاتھوں میں رسیاں ہیں پیروں میں بیڑیاں ہیں آنکھوں میں ایک جنگل جنگل میں سیپیاں ہیں میں خواب کیا سناؤں ہونٹوں پہ کرچیاں ہیں شہزادیاں تھیں پہلے اب صرف لڑکیاں ہیں اک ایک کر کے بجھتی ہم موم بتیاں ہیں لکھ کر مٹا دی جائیں ہم وہ کہانیاں ہیں ہم پر بھی اک صحیفہ ہم حوا زادیاں ہیں

مزید پڑھیے

کھو دینے کا دل بھرنے کا تھک جانے کا خوف

کھو دینے کا دل بھرنے کا تھک جانے کا خوف ایک ترے ہونے سے چکھا کیسا کیسا خوف تم تھے لیکن دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے تم آنکھ کھلی تو بستر کی ہر سلوٹ میں تھا خوف ہم دونوں کے سامنے بہتا وقت آئینہ تھا مجھ کو اس نے خواب دکھائے تجھے دکھایا خوف اس رستے پر مجھ سے پہلے کوئی نہیں آیا ایک ...

مزید پڑھیے

عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے

عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے کمال ہونے لگا ہے کمال سے آگے وہ ایک لمحہ جو تتلی سا اپنے بیچ میں ہے اسے میں لے کے چلی ماہ و سال سے آگے کوئی جواز ہو ہمدم اب اس رفاقت کا تلاش کر مجھے میرے جمال سے آگے جواب خواب بھلا خواب کے سوا کیا ہے مگر وہ نکلا نہیں ہے سوال سے آگے پگھل رہا ہے مرا ...

مزید پڑھیے

تھکن سے چور ہیں اور گرد سے اٹے ہیں ہم

تھکن سے چور ہیں اور گرد سے اٹے ہیں ہم نظر اٹھا کہ تری سمت دیکھتے ہیں ہم وہی چراغ وہی میں وہی فسوں تیرا ہر ایک بار یوں ہی تجھ کو چاہتے ہیں ہم ترے خیال کی خوشبو اداس کرتی ہے ترے سراب کی وادی میں گونجتے ہیں ہم یہ اور بات ترے ساتھ دن گزرتا ہے یہ اور بات تری نیند میں رہے ہیں ہم کبھی ...

مزید پڑھیے

خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا

خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا موسم کا پرندہ ہے ٹھکانا نہیں کرتا وہ عشق میں شعلوں کا طلب گار ہے لیکن اس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا وہ پچھلی محبت میں مرے دل کا خسارہ اسباب دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا کرتا ہے ہر اک رنگ کی چڑیوں سے وہ باتیں پہنائی میں دل کی کبھی اترا ...

مزید پڑھیے

اس کی خاطر رونا ہنسنا اچھا لگتا ہے

اس کی خاطر رونا ہنسنا اچھا لگتا ہے جیسے دھوپ میں بارش ہونا اچھا لگتا ہے خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے سانجھ سویرے کھلتے ہیں جب تیتریوں کے پر اس منظر میں منظر ہونا اچھا لگتا ہے بارش آ کر برس رہے گی موسم آنے پر پھر بھی اپنا درد ...

مزید پڑھیے

کسی تیز جھونکے کے سنگ تھی مری اوڑھنی

کسی تیز جھونکے کے سنگ تھی مری اوڑھنی کبھی سر پہ تھی کبھی اڑ گئی مری اوڑھنی وہ جو زخم خوردہ سی وحشتیں تھی نگاہ میں انہیں اپنے پلو سے جوڑتی مری اوڑھنی کوئی سائباں جو دعا سا تھا مری راہ میں وہ نہیں رہا تو کہاں رہی مری اوڑھنی وہ سنبھل سنبھل کے اٹھا رہی ہے ہر اک قدم مری لاڈلی نے جو ...

مزید پڑھیے

جذبوں کی ہر ایک کلی اندھی نکلی

جذبوں کی ہر ایک کلی اندھی نکلی اور محبت اس سے بھی پگلی نکلی میں بھی توڑ نہیں پائی جھوٹی رسمیں میں بھی بس اک معمولی لڑکی نکلی تم مجھ سے نفرت کیسے کر پاؤ گے میں تو اپنے جھوٹ میں بھی سچی نکلی وہ گھر جو اجلا اجلا سا لگتا تھا جھاڑا پونچھا تو کتنی مٹی نکلی سوچا تھا اس سے ہر بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4229 سے 5858