شاعری

ہم ایک شہر میں جب سانس لے رہے ہوں گے

ہم ایک شہر میں جب سانس لے رہے ہوں گے ہمارے بیچ زمانوں کے فاصلے ہوں گے وہ چاہتا تو یہ حالات ٹھیک ہو جاتے بچھڑنے والے سبھی ایسا سوچتے ہوں گے یہ بے بسی سے تری راہ دیکھنے والے گئے دنوں میں ترے خواب دیکھتے ہوں گے کہا بھی تھا کہ زیادہ قریب مت آؤ بتایا تھا کہ تمہیں مجھ سے مسئلے ہوں ...

مزید پڑھیے

ذات کی تیرگی کا نوحہ ہیں

ذات کی تیرگی کا نوحہ ہیں شعر کیا ہیں دروں کا گریہ ہیں میں سمندر کبھی نہیں تھی مگر میرے پیروں میں سارے دریا ہیں اب ترے بعد یہ مری آنکھیں رنج کا مستقل ٹھکانہ ہیں اے مرے خواب چھیننے والے یہ مرا آخری اثاثہ ہیں جو ترے سامنے بھی خالی رہا ہم تری دید کا وہ کاسہ ہیں کھیل یا توڑ اب تری ...

مزید پڑھیے

اے مری ذات کے سکوں آ جا

اے مری ذات کے سکوں آ جا تھم نہ جائے کہیں جنوں آ جا رات سے ایک سوچ میں گم ہوں کس بہانے تجھے کہوں آ جا ہاتھ جس موڑ پر چھڑایا تھا میں وہیں پر ہوں سر نگوں آ جا یاد ہے سرخ پھول کا تحفہ؟ ہو چلا وہ بھی نیلگوں آ جا چاند تاروں سے کب تلک آخر تیری باتیں کیا کروں آ جا اپنی وحشت سے خوف آتا ...

مزید پڑھیے

اسے بھی چھوڑوں اسے بھی چھوڑوں تمہیں سبھی سے ہی مسئلہ ہے؟

اسے بھی چھوڑوں اسے بھی چھوڑوں تمہیں سبھی سے ہی مسئلہ ہے؟ مری سمجھ سے تو بالاتر ہے یہ پیار ہے یا معاہدہ ہے ''جو تو نہیں تھی تو اور بھی تھے جو تو نہ ہوگی تو اور ہوں گے'' کسی کے دل کو جلا کے کہتے ہو میری جاں یہ محاورہ ہے ہم آج قوس قزح کے مانند ایک دوجے پہ کھل رہے ہیں مجھے تو پہلے سے لگ ...

مزید پڑھیے

کسی کا دیکھ کے دھیمے سے مسکرا دینا (ردیف .. ے)

کسی کا دیکھ کے دھیمے سے مسکرا دینا کسی کے واسطے کل کائنات ہوتی ہے کبھی وہ وقت بھی آئے گا تم بھی جانو گے تمہاری دید کسی کی حیات ہوتی ہے تو جب جہاں بھی میسر ہو بس اسی پل میں زمانے بھر کے دکھوں سے نجات ہوتی ہے

مزید پڑھیے

تمہیں پانے کی حیثیت نہیں ہے

تمہیں پانے کی حیثیت نہیں ہے مگر کھونے کی بھی ہمت نہیں ہے بہت سوچا بہت سوچا ہے میں نے جدائی کے سوا صورت نہیں ہے تمہیں روکا تو جا سکتا ہے لیکن مرے اعصاب میں قوت نہیں ہے مرے اشکو مرے بیکار اشکو!! تمہاری اب اسے حاجت نہیں ہے ابھی تم گھر سے باہر مت نکلنا تمہاری ہوش کی حالت نہیں ...

مزید پڑھیے

لاکھ دل نے پکارنا چاہا

لاکھ دل نے پکارنا چاہا میں نے پھر بھی تمہیں نہیں روکا تم مری وحشتوں کے ساتھی تھے کوئی آسان تھا تمہیں کھونا؟ تم مرا درد کیا سمجھ پاتے تم نے تو شعر تک نہیں سمجھا کیا کسی خواب کی تلافی ہے؟ آنکھ کی دھجیوں کا اڑ جانا اس سے راحت کشید کر!! دن رات درد نے مستقل نہیں رہنا آپ کے مشوروں ...

مزید پڑھیے

اب تو کیچڑ اٹھا اور فصیلوں پہ مل (ردیف .. ن)

اب تو کیچڑ اٹھا اور فصیلوں پہ مل اس سے بڑھ کے تری استطاعت نہیں جا کے پہلے ذرا شاعری کو سمجھ یہ عطا ہے مری جاں سیاست نہیں تم یہ رتبے یہ شہرت سبھی بانٹ لو جاؤ جاؤ مجھے ان کی حسرت نہیں آدمی میں کوئی گن ہوں پھر بات ہے نام رکھنے میں کوئی سعادت نہیں کیا اٹھائیں گے بار جہاں وہ ...

مزید پڑھیے

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوں

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوں یہ تم ہو کہ میں آئنا دیکھتی ہوں ہتھیلی سے ٹھنڈا دھواں اٹھ رہا ہے یہی خواب ہر مرتبہ دیکھتی ہوں بڑھے جا رہی ہے یہ روشن نگاہی خرافات ظلمت کدہ دیکھتی ہوں مرے ہجر کے فیصلے سے ڈرو تم! میں خود میں عجب حوصلہ دیکھتی ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 4228 سے 5858