شاعری

محبت کا دیا ایسے بجھا تھا

محبت کا دیا ایسے بجھا تھا ہوا کے دوش پر رکھا ہوا تھا ستارہ ٹوٹ کر جب بھی گرا تھا عجب دھڑکا سا دل کو لگ گیا تھا عجب وحشت تھی تیرے آئنہ میں جہاں ہر عکس ہی ٹوٹا ہوا تھا لپٹ کر چاند سے رونے لگا تھا ستارہ ٹوٹ کر ڈر سا گیا تھا اسے تھی چاند تاروں کی طلب اور ہمارے پاس تو بس اک دیا ...

مزید پڑھیے

سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی

سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی جیون کی ہر شام ہمیں تب ایک کہانی لگتی تھی جس کا چاند سا چہرا تھا اور زلف سنہری بادل سی مست ہوا کا آنچل تھامے ایک دوانی لگتی تھی اپنے خواب نئے لگتے تھے اور پھر ان کے آگے سب دنیا اور زمانے کی ہر بات پرانی لگتی تھی پیار کے موسم کی خوشبو سے ...

مزید پڑھیے

زمانہ جھک گیا ہوتا اگر لہجہ بدل لیتے

زمانہ جھک گیا ہوتا اگر لہجہ بدل لیتے مگر منزل نہیں ملتی اگر رستہ بدل لیتے بہت تازہ ہوا آتی بہت سے پھول کھل جاتے مکان دل کا تم اپنے اگر نقشہ بدل لیتے خطا تم سے ہوئی آخر تمہارا کیا بگڑ جاتا یہ بازی بھی تمہاری تھی اگر مہرہ بدل لیتے ابھی تو آئنہ سے ہے مسلسل دوستی اپنی شناسائی کہاں ...

مزید پڑھیے

کوئی جب مل کے مسکرایا تھا

کوئی جب مل کے مسکرایا تھا عکس گل کا جبیں پہ سایہ تھا زخم دل کی جلن بھی کم تھی بہت گیت ایسا صبا نے گایا تھا شب کھلی تھی بہار کی صورت دن ستاروں سا جگمگایا تھا ایسے سرگوشیاں تھیں کانوں میں کوئی امرت کا جام لایا تھا خواب کونپل بھی تھی تر و تازہ آرزو نے بھی سر اٹھایا تھا جس نے ...

مزید پڑھیے

میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے

میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے سکوں سے کیسے گزرتا یہ راستہ مجھ سے غزل سنا کے کبھی نظم گنگنا کے مری وہ کہہ رہا تھا مرے دل کا ماجرا مجھ سے گزر کے وقت نے گونگا بنا دیا تھا جنہیں وہ لفظ مانگ رہے ہیں نئی صدا مجھ سے نہ گل کی کوئی خبر ہے نہ بات گلشن کی خفا سی لگتی ہے کچھ روز سے صبا ...

مزید پڑھیے

دو جھکی آنکھوں کا پہنچا جب مرے دل کو سلام

دو جھکی آنکھوں کا پہنچا جب مرے دل کو سلام یوں لگا ہے دوپہر میں جیسے در آئی ہو شام اس کے ہونٹوں کا کیا جب ذکر میرے شعر نے ہر سماعت کے لبوں سے جا لگا لبریز جام جیسے سجدے میں کوئی گر کر نہ اٹھے دیر تک یوں گری آنکھوں پہ پلکیں سن کے اک کافر کا نام دکھ کسی کا ہو اسے دھڑکن میں اپنی سینچ ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے

نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے کوئی جز آپ کے اپنا نہیں ہے ہر اک رستے کا پتھر پوچھتا ہے تجھے کیا کچھ بھی اب دکھتا نہیں ہے عجب ہے روشنی تاریکیوں سی کہ میں ہوں اور مرا سایا نہیں ہے پرستش کی ہے میری دھڑکنوں نے تجھے میں نے فقط چاہا نہیں ہے میں شاید تیرے دکھ میں مر گیا ہوں کہ اب سینے ...

مزید پڑھیے

خود اپنے زخم سینا آ گیا ہے

خود اپنے زخم سینا آ گیا ہے بالآخر مجھ کو جینا آ گیا ہے منافق ہو گئے ہیں ہونٹ میرے مرے دل کو بھی کینہ آ گیا ہے بہا کر لے گیا طوفاں جوانی لب ساحل سفینہ آ گیا ہے کسی دکھ پر بھی آنکھیں نم نہ پا کر مصائب کو پسینہ آ گیا ہے بڑی استاد ہے یہ زندگی بھی لو مجھ کو زہر پینا آ گیا ہے لگا کر ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے

نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے کوئی جز آپ کے اپنا نہیں ہے ہر اک رستے کا پتھر پوچھتا ہے تجھے کیا کچھ بھی اب دکھتا نہیں ہے عجب ہے روشنی تاریکیوں سی کہ میں ہوں اور مرا سایہ نہیں ہے پرستش کی ہے میری دھڑکنوں نے تجھے میں نے فقط چاہا نہیں ہے میں شاید تیرے دکھ میں مر گیا ہوں کہ اب سینے ...

مزید پڑھیے

نیا اک زخم کھانا چاہتا ہوں

نیا اک زخم کھانا چاہتا ہوں میں جینے کو بہانا چاہتا ہوں رلا دیتی ہے ہر سچی کہانی میں اک جھوٹا فسانہ چاہتا ہوں مہک سے جھوم اٹھے سارا جیون میں ایسا گل کھلانا چاہتا ہوں محبت میری بے حد خود غرض ہے تجھے سب سے چھپانا چاہتا ہوں یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے میں سچ مچ مسکرانا چاہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4225 سے 5858