شاعری

دشت وحشت نے پھر پکارا ہے

دشت وحشت نے پھر پکارا ہے زندگی آج تو گوارا ہے ڈوبنے سے بچا کے مانجھی نے درد کے گھاٹ لا اتارا ہے لاکھ تو مجھ سے ہے مگر مجھ میں کب تری ہم سری کا یارا ہے بات اپنی انا کی ہے ورنہ یوں تو دو ہاتھ پر کنارا ہے دل کی گنجان رہ گزاروں میں کرب تنہائی کا سہارا ہے لوگ مرتے ہیں بند آنکھوں ...

مزید پڑھیے

حیات کو تری دشوار کس طرح کرتا

حیات کو تری دشوار کس طرح کرتا میں تجھ سے پیار کا اظہار کس طرح کرتا تھا میری صوت پہ پہرہ ''انا سپاہی'' کا میں اپنی ہار کا اقرار کس طرح کرتا اسے تھا پیار سے بڑھ کر خیال دنیا کا یہ جان کر بھی میں اصرار کس طرح کرتا ترا وجود گواہی ہے میرے ہونے کی میں اپنی ذات سے انکار کس طرح کرتا مجھے ...

مزید پڑھیے

ہم سے تنہائی کے مارے نہیں دیکھے جاتے

ہم سے تنہائی کے مارے نہیں دیکھے جاتے بن ترے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے ہارنا دن کا ہے منظور مگر جان عزیز ہم سے گیسو ترے ہارے نہیں دیکھے جاتے دل پھنسا بھی ہو بھنور میں تو کوئی بات نہیں رنج میں ڈوبتے پیارے نہیں دیکھے جاتے جن کے پیروں میں سمندر تھے جھکائے نظریں ان کی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک چیز ہے فانی فقط حیات نہیں

ہر ایک چیز ہے فانی فقط حیات نہیں بجز خدا کے کسی کو یہاں ثبات نہیں حیات نام ہی تبدیلیوں کا ہے جاناں بدل گئے ہو جو تم بھی تو کوئی بات نہیں کرم ہے یہ مرے دو ایک خاص یاروں کا تباہیوں میں مری دشمنوں کا ہاتھ نہیں کہ جیسے دل نہیں سینے میں دکھ دھڑکتا ہے جہاں بھی جاؤں الم سے کہیں نجات ...

مزید پڑھیے

آنکھ کو جکڑے تھے کل خواب عذابوں کے

آنکھ کو جکڑے تھے کل خواب عذابوں کے میں سیراب کھڑا تھا بیچ سرابوں کے تجھ کو کھو کر مجھ پر وہ بھی دن آئے چھپ نہ سکا دکھ پیچھے کئی نقابوں کے فکر کا تن کب ڈھانپ سکی مدہوشی تک چھوڑ دیے نشوں نے ہاتھ شرابوں کے عمر انہی کے ساتھ گزاری ہے جاناں زخم مجھے لگتے ہیں پھول گلابوں کے ایک سوال ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجائے رکھو

اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجائے رکھو لاکھ طوفان اٹھیں شمع جلائے رکھو رات پھر رات ہے اک روز گزر جائے گی صبح کی آس عزائم میں بسائے رکھو خواہش دل کی ہوا تیز بہت ہے یارو آگ پندار کی سینے میں جلائے رکھو جیتنا چاہو تو ہر مات سہو ہنس ہنس کر فکر مایوس خیالوں سے بچائے رکھو یوں ذرا دیر ...

مزید پڑھیے

یہ زمیں خواب ہے آسماں خواب ہے

یہ زمیں خواب ہے آسماں خواب ہے اک مکاں ہی نہیں لا مکاں خواب ہے جان لیوا سہی جستجو کی تھکن پر سہارا دیے اک جواں خواب ہے اس کی آنکھوں میں اپنائیت کی چمک میری آنکھوں کا اک بے اماں خواب ہے ٹوٹ جائے تو کچھ بھی نہیں کوئی بھی جس کے دم سے ہیں دونوں جہاں خواب ہے چلچلاتی ہوئی وقت کی دھوپ ...

مزید پڑھیے

وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے

وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے دل کا دروازہ کھلا ہے جو وہ آنا چاہے عین ممکن ہے اسے مجھ سے محبت ہی نہ ہو دل بہر طور اسے اپنا بنانا چاہے دن گزر جاتے ہیں قربت کے نئے رنگوں سے رات پر رات ہے وہ خواب پرانا چاہے اک نظر دیکھ مجھے!! میری عبادت کو دیکھ!! بھول پائے گا اگر مجھ کو بھلانا ...

مزید پڑھیے

میناروں پر جیسے جیسے شام بکھرتی جاتی ہے

میناروں پر جیسے جیسے شام بکھرتی جاتی ہے منظر اور دل دونوں میں ویرانی بھرتی ہے شہر کے بارہ دروازے ہیں جانے کہاں سے آئے وہ شہزادی یہ سوچ کے ہر در روشن کرتی جاتی ہے مسجد کے دالان سے لے کر گھنگھرو کی جھنکار تلک ایک گلی کئی صدیوں سے چپ چاپ گزرتی جاتی ہے راوی تو اب بھی زندہ ہے لیکن ...

مزید پڑھیے

اے زرد رو

میں جانتی نہیں تجھے تو کون تھی نہیں پتا مگر تری حیات کی دعا مری حیات ہے تو تندرست ہو کے کب دکھائے گی

مزید پڑھیے
صفحہ 4226 سے 5858