شاعری

ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا

ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا دیا اپنے مقدر کا نظر اب تک نہیں آیا تھیں جس بادل کے رستے پر ہوا کی منتظر آنکھیں وہ شہروں تک تو آیا تھا ادھر اب تک نہیں آیا نہ جانے جنگلوں میں ہم ملے کتنے درختوں سے گھنا جس کا لگے سایہ شجر اب تک نہیں آیا تذبذب کے اندھیروں میں بھٹکتا ہے وہ اک ...

مزید پڑھیے

آمر عقل سے شہزادؔ بغاوت کر لیں

آمر عقل سے شہزادؔ بغاوت کر لیں آؤ اس شخص سے اقرار محبت کر لیں کل نہ جانے کہ کسے وقت کہاں لے جائے آج پل بھر ہی سہی خواب حقیقت کر لیں اس کو تہمت سے بچانا ہے ہر اک قسمت پر ہنستے رہنا ہی چلو آج سے عادت کر لیں کون منزل کے لئے لطف سفر کو کھوئے چلتے رہنے سے ہی تجدید رفاقت کر لیں ہم نے سب ...

مزید پڑھیے

رنج کے ہاتھوں گیت خوشی کے لکھواؤ تو بات بنے

رنج کے ہاتھوں گیت خوشی کے لکھواؤ تو بات بنے توڑ کے اشکوں کی زنجیریں مسکاؤ تو بات بنے شور مچاتی آوازوں سے توڑ کے رشتہ پل دو پل خاموشی کی سرگوشی گر سن پاؤ تو بات بنے گلشن میں تو خوشبو ہر سو رہتی ہی ہے گل رت میں صحراؤں میں جاناں غنچے مہکاؤ تو بات بنے مجھ کو ہیر سیال سے مطلب اور نہ ...

مزید پڑھیے

شام کہتی ہے کوئی بات جدا سی لکھوں

شام کہتی ہے کوئی بات جدا سی لکھوں دل کا اصرار ہے پھر اس کی اداسی لکھوں آج زخموں کو محبت کی عطا کے بدلے تحفہ و تمغۂ احباب شناسی لکھوں ساتھ ہو تم بھی مرے ساتھ ہے تنہائی بھی کون سے دل سے کسے وجہ اداسی لکھوں جس نے دل مانگا نہیں چھین لیا ہے مجھ سے آپ میں آؤں تو وہ آنکھ حیا سی ...

مزید پڑھیے

صوت کیا شے ہے خامشی کیا ہے

صوت کیا شے ہے خامشی کیا ہے غم کسے کہتے ہیں خوشی کیا ہے آج ہوں کل یہاں نہیں ہوں گا مجھ سے جاناں یہ بے رخی کیا ہے دیس پردیس ہو گیا اب تو آشنا کون اجنبی کیا ہے زندگی تیرے وصل کی خواہش مل گیا تو تو زندگی کیا ہے اور گر تو بچھڑ گیا مجھ سے پھر مری جان موت بھی کیا ہے ایک پل بھی سکوں ...

مزید پڑھیے

جب تک چراغ شام تمنا جلے چلو

جب تک چراغ شام تمنا جلے چلو دو چار ہی قدم ہے یہ رستہ چلے چلو اس حد کے بعد کوئی نہیں درمیاں میں حد طے کر چکے ہو اور جو سب مرحلے چلو بے خواب ''خون آنکھ'' میں دفنا کے زخم خواب ملنے کو ہے سحر سے یہ شب بھی گلے چلو شاید وہ ڈھونڈھتا ہو تمہیں جس کی کھوج ہے چہرے پہ جذب دل کے اجالے ملے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک جانب ہے رقص کرتی عجیب سی چپ

ہر ایک جانب ہے رقص کرتی عجیب سی چپ یہ دل کے آنگن میں نوحہ لکھتی عجیب سی چپ رہ وفا میں جہاں پہ بھٹکا تھا اک مسافر وہیں کہیں پہ ہے ہاتھ ملتی عجیب سی چپ ہے کچھ صداؤں کا پیچھا کرتی مری سماعت اور اک خموشی سے مجھ کو تکتی عجیب سی چپ وہ میری پلکوں کے سائے سائے وفا کی بیلیں اور ان سے ...

مزید پڑھیے

وہ میرے بارے میں ایسے بھی سوچتا کب تھا

وہ میرے بارے میں ایسے بھی سوچتا کب تھا اگر میں عکس نہیں تھی وہ آئنہ کب تھا جو جوڑ دیتا تعلق کے سب روابط کو ہمارے بیچ کوئی ایسا سلسلہ کب تھا وہ زینہ زینہ مرے دل میں یوں اترتا گیا میں روک پاتی اسے مجھ میں حوصلہ کب تھا وہ خوش گمان بہت تھا کہ میں ہوں اس کی مگر یہ آرزو تھی فقط میرا ...

مزید پڑھیے

شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے

شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے مگر اس پر ستم کوئی وضاحت وہ نہیں کرتے رواں ہو کس طرح سے چاہتوں کا کارواں اپنا ہمیں رسوائی کا ڈر ہے بغاوت وہ نہیں کرتے ہمی جلوہ دکھاتے ہیں ہمی شوخی نگاہوں سے نہیں ہوتا اثر پھر بھی شرارت وہ نہیں کرتے نظر دو چار ہو جائے تو جھک جاتی ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے

ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے ذرا سا دل بہل جائے تو شاید نیند آ جائے ابھی تو کرب ہے بے چینیاں ہیں بے قراری ہے طبیعت کچھ سنبھل جائے تو شاید نیند آ جائے ہوا کے نرم جھونکوں نے جگایا تیری یادوں کو ہوا کا رخ بدل جائے تو شاید نیند آ جائے یہ طوفاں آنسوؤں کا جو امڈ آیا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4224 سے 5858