ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا
ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا دیا اپنے مقدر کا نظر اب تک نہیں آیا تھیں جس بادل کے رستے پر ہوا کی منتظر آنکھیں وہ شہروں تک تو آیا تھا ادھر اب تک نہیں آیا نہ جانے جنگلوں میں ہم ملے کتنے درختوں سے گھنا جس کا لگے سایہ شجر اب تک نہیں آیا تذبذب کے اندھیروں میں بھٹکتا ہے وہ اک ...