شاعری

کسی بہانے بھی دل سے الم نہیں جاتا

کسی بہانے بھی دل سے الم نہیں جاتا خوشی تو جانے کو آتی ہے غم نہیں جاتا کسی کو ملنا ہو اس سے تو خود ہی چل کر جائے کہ اپنے آپ کہیں وہ صنم نہیں جاتا نشانہ اس کا ہمیشہ نشاں پہ لگتا ہے گو دل کے پار وہ تیر ستم نہیں جاتا ہم اپنے دائرۂ کار ہی میں رہتے ہیں نکل کے اس سے یہ باہر قدم نہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی موسم ہو کچھ بھی ہو سفر کرنا ہی پڑتا ہے

کوئی موسم ہو کچھ بھی ہو سفر کرنا ہی پڑتا ہے ادھر سے بوجھ کاندھے کا ادھر کرنا ہی پڑتا ہے کہاں جاتے ہیں کیا کرتے ہیں کس کے ساتھ رہتے ہیں ہمیں اپنا تعاقب عمر بھر کرنا ہی پڑتا ہے وہ اپنے تن پہ سہہ کر ہو کہ اپنی جان پر پھر بھی ہمیں اک معرکہ ہر روز سر کرنا ہی پڑتا ہے کھلا رکھیں نہ ...

مزید پڑھیے

سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں

سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں یوں بھی لگتا ہے تری یاد بہت ہے لیکن زخم یہ دل کے تری یاد سے بھرتے کب ہیں لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ...

مزید پڑھیے

ہر ایک لفظ میں پوشیدہ اک الاؤ نہ رکھ

ہر ایک لفظ میں پوشیدہ اک الاؤ نہ رکھ ہے دوستی تو تکلف کا رکھ رکھاؤ نہ رکھ ہر ایک عکس روانی کی نذر ہوتا ہے ندی سے کون یہ جا کر کہے بہاؤ نہ رکھ یہ اور بات زمانے پہ آشکار نہ ہو مری نظر سے چھپا کر تو دل کا گھاؤ نہ رکھ حصار ذات سے کٹ کر تو جی نہیں سکتے بھنور کی زد سے یوں محفوظ اپنی ناؤ ...

مزید پڑھیے

جس رہ گزر سے گزرے وہی خار دار تھی

جس رہ گزر سے گزرے وہی خار دار تھی یہ زندگی سکون کا اک انتظار تھی ہیں اب جہاں عروج پہ نفرت کی آندھیاں اس شہر کی فضا بھی کبھی سازگار تھی گر میرے لوٹنے کا تجھے کچھ گلہ نہ تھا کیوں روکتی نگاہ تری بار بار تھی پلٹے ہیں جاں جو شہر وفا سے بچا کے ہم کچھ ساتھ اپنے رحمت پروردگار تھی کس ...

مزید پڑھیے

پھول خوشبو سبز منظر بولتے ہیں

پھول خوشبو سبز منظر بولتے ہیں ہو اگر احساس پتھر بولتے ہیں ریت سیپوں سے سمندر بولتے ہیں یہ صداؤں کے شناور بولتے ہیں خاک میں ہیں شان شوکت کے امیں اب اجڑے محلوں کے کبوتر بولتے ہیں بے حسی دنیا میں اتنی بڑھ گئی ہے درمیاں اپنوں کے خنجر بولتے ہیں موت کے سائے کا راہب خوف کیا ...

مزید پڑھیے

اسے سمجھا بجھا کے ہم تو ہارے

اسے سمجھا بجھا کے ہم تو ہارے نہ آیا دل یہ قابو میں ہمارے سن اے غافل جرس کیا کہہ رہا ہے پڑا رہ تو ہم اپنی رہ سدھارے کوئی آتا نہیں ہو جب مدد کو سوا اس کے کوئی کس کو پکارے حفاظت کرتے ہیں ہم شہر دل کی کہیں سوتے کوئی شب خوں نہ مارے سمندر کیوں ہوا تو اتنا کھاری کوئی رویا تھا کیا تیرے ...

مزید پڑھیے

گو اس سفر میں تھک کے بدن چور ہو گیا

گو اس سفر میں تھک کے بدن چور ہو گیا میں اس کی دسترس سے مگر دور ہو گیا اب اس کا نام لے کے پکاریں اسے کہاں صحرا بھی اب تو خلق سے معمور ہو گیا کیوں اس نے ہاتھ کھینچ لیا میرے قتل سے کیوں مجھ پہ رحم کھا کے وہ مغرور ہو گیا سب اپنے اپنے گھر میں نظر بند ہو گئے اب شہر پر سکون ہے مشہور ہو ...

مزید پڑھیے

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا جو بھی ہونا تھا ہوا جو ہوگا دیکھا جائے گا شہر کی سرحد تلک پہنچا کے سب رخصت ہوئے اب یہاں سے بس مرے ہمراہ صحرا جائے گا اب کوئی دیوار اس کے سامنے رکتی نہیں سیل گریہ اب مرے روکے نہ روکا جائے گا کیا مری آنکھوں سے دنیا خود کو دیکھے گی کبھی کیا ...

مزید پڑھیے

راہ گم کردہ سر منزل بھٹک کر آ گیا

راہ گم کردہ سر منزل بھٹک کر آ گیا صبح کا بھولا تھا لیکن شام کو گھر آ گیا جیسے اس کو روک سکنا اپنے بس میں ہی نہیں جب بھی چاہا بے اجازت گھر کے اندر آ گیا بھاگ کر جائیں کہاں اب تو ہی کچھ تدبیر کر سامنے اپنے سمندر سر پہ لشکر آ گیا اس نے کوشش تو بہت کی سر بچانے کی مگر جس طرف سے تھا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4208 سے 5858