شاعری

جانے کیا ایسا اسے مجھ میں نظر آیا تھا

جانے کیا ایسا اسے مجھ میں نظر آیا تھا مجھ سے ملنے وہ بلندی سے اتر آیا تھا کوئی تو گرمئ احساس سے ملتا اس سے اتنے دن بعد تو وہ لوٹ کے گھر آیا تھا وہ مرے پاؤں کا چکر تھا کہ منزل تھی مری گھوم پھر کر وہی ہر بار کھنڈر آیا تھا وہ مرے ساتھ تھا صحرا ہو کہ دریا فرخؔ اس کے ہوتے ہوئے کیا لطف ...

مزید پڑھیے

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے آخر شب سوچتے ہیں کیا کریں گے وہ سنہری دھوپ اب چھت پر نہیں ہے ہم بھی آئینے کو اب اندھا کریں گے جسم کے اندر جو سورج تپ رہا ہے خون بن جائے تو پھر ٹھنڈا کریں گے گھر سے وہ نکلے تو بس اسٹینڈ تک ہی اس کا سایہ بن کے ہم پیچھا کریں گے آنکھ پتھرا جائے گی یہ ...

مزید پڑھیے

طاق پر رکھ کے مرے خواب سجانے والے

طاق پر رکھ کے مرے خواب سجانے والے تجھ کو اچھا نہیں سمجھیں گے زمانے والے گل فروشا بڑے دن بعد دی آواز ہمیں لے کے آئے ہو وہی گل وہ پرانے والے ہنستے جاتے ہو معافی کی طلب کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں بھلا یار منانے والے تم کہاں سے لیے آتے ہو ہمارا انداز کون ہیں لہجے یہاں بیچ کے کھانے ...

مزید پڑھیے

تیرے صدقے بھلا نا چیز یہ وارے کیا کیا

تیرے صدقے بھلا نا چیز یہ وارے کیا کیا تو نے دھرتی پہ اتارے ہیں ستارے کیا کیا اس شرافت کو لگے آگ سمجھ ہی نہ سکے ورنہ ملتے رہے ہم کو بھی اشارے کیا کیا تجھ سے وابستہ محبت کو قرار آنے لگا ہم نے دیکھے تری قربت میں خسارے کیا کیا ایک لمحے کو ہوا خود پہ حقیقت کا گماں تو نے مٹی پہ خدا نقش ...

مزید پڑھیے

حیرت ہی رہ گئی ہے جہان خراب میں

حیرت ہی رہ گئی ہے جہان خراب میں ہائے سدھر گئے ہیں وہ اپنے شباب میں دستک بھی جلد آ گئی کچھ وقت بھی تھا کم ہڈی کے ساتھ بال بھی آیا کباب میں گریہ شب فراق میں کر کے بنا دے نہر پھر ماہتاب دیکھنا اترے گا آب میں جی بھر کے نیکیاں کروں اور وہ بھی اس لیے ہر بار پھر میں آپ کو مانگوں ثواب ...

مزید پڑھیے

وہ خالی ہاتھ سفر آب پر روانہ ہوا

وہ خالی ہاتھ سفر آب پر روانہ ہوا خبر نہ تھی کہ سمندر تہی خزانہ ہوا بچھڑتے وقت تھا دل میں غبار اس سے مگر سخن ہی تلخ نہ لہجہ شکایتانہ ہوا ہوا بھی تیز نہ تھی معتدل تھا موسم بھی زمین پاؤں کے نیچے تھی اک زمانہ ہوا

مزید پڑھیے

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریں

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریں درمیاں کے فاصلے کا طے سفر کیسے کریں کوئی سنتا ہی نہیں عرض ہنر کیسے کریں خود کو ہم اپنی نظر میں معتبر کیسے کریں آخری پتھر سے بے سمت و نشاں جانا ہے اب ہم کھلی آنکھوں سے یہ اندھا سفر کیسے کریں جان کے جانے کا اندیشہ بہت ہے اب کی بار معرکہ بھی ...

مزید پڑھیے

تھا عبث خوف کہ آسیب گماں میں ہی تھا

تھا عبث خوف کہ آسیب گماں میں ہی تھا مجھ میں سایہ سا کوئی اور کہاں میں ہی تھا سب نے دیکھا تھا کچھ اٹھتا ہوا میرے گھر سے پھیلتا اور بکھرتا وہ دھواں میں ہی تھا سچ تھا وہ زہر گوارا ہی کسی کو نہ ہوا تلخی ذائقۂ کام و زیاں میں ہی تھا خود ہی پیاسا تھا بھلا پیاس بجھاتا کس کی سر پہ سورج کو ...

مزید پڑھیے

عبث ہی محو شب و روز وہ دعا میں تھا

عبث ہی محو شب و روز وہ دعا میں تھا علاج اس کا اگر درد لا دوا میں تھا یہ اور بات کہ وہ تشنۂ جواب رہا سوال اس کا مگر گونجتا فضا میں تھا ہمیں خبر تھی کہ اس کا جواب کیا ہوگا مگر وہ لطف جو اظہار مدعا میں تھا یقیں کریں کہ یہیں کوئی جیسے کہتا ہو کہ جو بھی دیکھا سنا تھا وہ سب ہوا میں ...

مزید پڑھیے

اس راز کے باطن تک پہنچا ہی نہیں کوئی

اس راز کے باطن تک پہنچا ہی نہیں کوئی کیوں لوٹ کے گھر اپنے آیا ہی نہیں کوئی اب شہر کی خاموشی ویرانے سے ملتی ہے آواز لگائی تو بولا ہی نہیں کوئی ہر روز دکھائی دیں سب لوگ وہیں لیکن جب ڈھونڈنے نکلیں تو ملتا ہی نہیں کوئی ہونے سے کہ جن کے تھا بستی کا بھرم قائم اطراف میں شہروں کے صحرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4207 سے 5858