معافی
فوم کے بستر پر اک دیوار اٹھا دی وقت نے اجنبی نا آشنا خاموش سے رہنے لگے ہاتھ سے کاڑھے ہوئے دونوں تکیوں کے غلاف بند ہیں آنکھوں میں باتیں قتل ہونٹوں کا ملاپ وقت تجھ کو دوں بھلا میں کون سے لفظوں میں شاپ جا تجھے سو خوں معاف
فوم کے بستر پر اک دیوار اٹھا دی وقت نے اجنبی نا آشنا خاموش سے رہنے لگے ہاتھ سے کاڑھے ہوئے دونوں تکیوں کے غلاف بند ہیں آنکھوں میں باتیں قتل ہونٹوں کا ملاپ وقت تجھ کو دوں بھلا میں کون سے لفظوں میں شاپ جا تجھے سو خوں معاف
جنگل کے گہرے سائے نزدیک آ رہے ہیں وحشی پرندے ہر سو سیٹی بجا رہے ہیں کس موڑ پر رکا ہوں اتنی خبر نہیں ہے کیا اور اس کے آگے اب رہگزر نہیں ہے کیوں خود کو اجنبی سا میں آج لگ رہا ہوں اک دھندلے آئنے سے پہچان مانگتا ہوں دنیا سے تھک گیا ہوں محسوس ہو رہا ہے ہر ایک شے سے جی اب مایوس ہو رہا ...
آؤ لان میں بیٹھیں شام کا سورج دیکھیں زرد خزاں کی سرگم سے جی کو بہلائیں جنگل کو اک گیت سنائیں سرخ سنہرے پیڑ سے گرتے درد کے پتے ہاتھ میں لے کر ان کی ریکھاؤں کو دیکھیں پتوں کو چٹکی میں گھمائیں اپنے اپنے ہاتھ کی دونوں پڑھیں لکیریں اک دوجے کی آنکھوں کی گہرائی میں اتریں پھول سجے ہیں جو ...
مری میزباں نے ہوائی سفر میں چمک اپنی آنکھوں میں لاتے ہوئے با زبان خموشی یہ مجھ سے کہا تھا ہوائی مسافر زمیں پر نہیں ہم خلا کا سفر ہے دریچے نہ کھولو
اثر انوکھا ہوا جب آستیں کا بٹن گر کے کھو گیا جاناں تمہاری یاد کا سینہ ہزار چاک ہوا وہ ایک نور کا دھاگہ دھیان میں آیا کسا ہوا سا کوئی تار ساز کا جیسے لگا کے پیچ کئی دل کو باندھنے کی ادا گلابی ہونٹوں سے ہو کر گزرنے والی ڈور تمہارے دانتوں سے کیا پٹ سے ٹوٹ جاتی تھی کشادہ آنکھوں کے ...
کیا غضب کی بارش ہے آنکھیں سوجنے آئیں کاش کوئی وائیپر چلتی کار سے لے کر میرے ان پپوٹوں پر جوڑ دے صفائی سے پتلیوں کے شیشوں کو دھند سے بچانا ہے
خدا کو کام کرنا ہے خدا کو کام کرنے دو یہ جو شیطان کی رسی کو اس نے ڈھیل دی ہے ایک منصوبہ ہے اس کا یقیناً آسماں میں اس نے اپنے ایپس کچھ ایسے بنائے ہیں جنہیں بر وقت ڈاؤن لوڈ ہونا ہے وہ صبح عنقریب آئے گی جب اس کا فرشتہ صور پھونکے گا ابھی جو مٹھیوں کو بھینچ کر تقریر کرتے ہیں فضا میں موٹے ...
یہ بے رحم چوٹوں خساروں کی دنیا یہ کاغذ کے جھوٹے سہاروں کی دنیا یہ روپیوں کے لالچ کے ماروں کی دنیا یہ روپیہ اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جیب چھلنی ہر اک آنکھ پیاسی ہر اک رخ پہ پھیلی ہوئی بد حواسی ہو منسوخ روپیوں کی کیسے نکاسی یہ روپیہ اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہمارا ہے پھر بھی ...
سبھی یوں روئیں گے تو میرا رونا کون دیکھے گا سنبھالو دوستو خود کو کرونا کون دیکھے گا ادھر قہر خداوندی ادھر اٹھکھیلیاں ان کی سیاسی لوگوں کا یہ جادو ٹونا کون دیکھے گا ہمیشہ ایک ہی منظر یہ ٹی وی بند کر ڈالو کروڑوں لوگوں کا یہ رونا دھونا کون دیکھے گا مقام خیریت وہ ہو جہاں آ کر کوئی ...
غم دنیا کے یاد جب آئیں اس کی یاد بھی آنے دو اک نشے میں اور اک نشہ اے یارو مل جانے دو آخر ہم کو اپنے حال پہ خود رونا خود ہنسنا ہے یارو اب کچھ دیر تو ٹھہرو تھوڑی تاب تو لانے دو مرجھانے سے پہلے دل کو ایک ہنسی کی حسرت کیوں بند کلی کو کچھ بھی نہیں تو ایک تبسم پانے دو کس انمول پشیمانی ...