شاعری

دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا

دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا اسی کے سائے میں وہ ہم کو ڈھونڈھتا ہوگا کوئی تو ضد میں یہ آ کر کبھی کہے ہم سے یہ بات یوں نہیں ایسے تھی یوں ہوا ہوگا تمہارا گھر سر مہتاب جو بنا ڈالے تمہارا بیٹا نہیں وہ خدا رہا ہوگا وہ آنکھیں ابر کی مانند رو رہی ہوں گی وہ زینہ خواب میں مہتاب پر ٹکا ...

مزید پڑھیے

بغیر نقشے کے سارے مکان لگتے ہیں

بغیر نقشے کے سارے مکان لگتے ہیں یہ جتنے گھر ہیں قضا کی دکان لگتے ہیں کبھی تو سچ کبھی بالکل گمان لگتے ہیں نفیس لوگ ہیں جادو بیان لگتے ہیں یہ ٹھیکیدار عمارت کے یہ زمیں والے گرے جو گھر تو بہت بے زبان لگتے ہیں میں ان میں آج بھی بچپن تلاش کرتا ہوں میں خوش نہیں ہوں جو بچے جوان لگتے ...

مزید پڑھیے

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے دوسری عورت پہلی جیسی کب ہوتی ہے کچھ مفہوم سمجھ کر آنکھیں بول اٹھیں سرگوشی تو یوں ہی زیر لب ہوتی ہے کوئی مسیحا شاید اس کو چھو گزرا دل کے اندر اتنی روشنی کب ہوتی ہے تارے ٹوٹ کے دامن میں گر جاتے ہیں جب مہمان یہاں اک دختر شب ہوتی ہے اک بے داغ دوپٹے ...

مزید پڑھیے

گھر کی مشکل کوئی حل چاہتی ہے

گھر کی مشکل کوئی حل چاہتی ہے مجھ سے وہ تاج محل چاہتی ہے کیسی نادان ہے دنیا کی طلب بیج بویا نہیں پھل چاہتی ہے انتظار آشنا آنکھوں کی جلن تیری آنکھوں کے کنول چاہتی ہے فکر ہے صبح کی دشمن کیسی رات کی رات غزل چاہتی ہے بیٹھ جا سامنے اک ناز کے ساتھ تو مصور کا عمل چاہتی ہے جس میں ہر ...

مزید پڑھیے

عمر بھر ایک سی الجھن تو نہیں بن سکتے

عمر بھر ایک سی الجھن تو نہیں بن سکتے دوست بن جائیں کہ دشمن تو نہیں بن سکتے ہم کو معلوم ہے تم کیا نہیں بن پاتے ہو دھوپ بن جاتے ہو ساون تو نہیں بن سکتے میں نے دیکھا ہے وہ انسان تمہارے اندر رام بن جاؤ گے راون تو نہیں بن سکتے نقد سانسوں کے لئے دل سے محبت کرنا ہم کبھی قرض کی دھڑکن تو ...

مزید پڑھیے

آئنے روپ چرا لیں گے ادھر مت دیکھو

آئنے روپ چرا لیں گے ادھر مت دیکھو تم کو باتوں میں پھنسا لیں گے ادھر مت دیکھو چین لٹ جائے گا گر تم نے ادھر دیکھ لیا لوگ خوابوں میں بسا لیں گے ادھر مت دیکھو ایک انگارہ ہو تم پھول کے پیراہن میں انگلیاں لوگ جلا لیں گے ادھر مت دیکھو چاندنی دھول کی مانند وہاں اڑتی ہے تم کو منظر وہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ اور نیند کے رشتے مجھے واپس کر دے

آنکھ اور نیند کے رشتے مجھے واپس کر دے میرے خوابوں کے جزیرے مجھے واپس کر دے تجھ کو منظور نہیں مجھ کو ہے اب بھی منظور میری قربت مرے بوسے مجھے واپس کر دے اپنے ماتھے کے چمکتے ہوئے سورج کی قسم میری آنکھوں کے سویرے مجھے واپس کر دے زندگی سایۂ گیسو سے نکل کر چپ ہے میری زنجیر کے حلقے ...

مزید پڑھیے

سمندر سر پٹک کر مر رہا تھا

سمندر سر پٹک کر مر رہا تھا تو میں جینے کی کوشش کر رہا تھا کسی سے بھی نہیں تھا خوف مجھ کو میں اپنے آپ ہی سے ڈر رہا تھا گزارش وقت سے میں نے نہ کی تھی کہ میرا زخم خود ہی بھر رہا تھا ہزاروں سال کی تھی آگ مجھ میں رگڑنے تک میں اک پتھر رہا تھا تجھے اس دن کی چوٹیں یاد ہوں گی مجھے پہچان، ...

مزید پڑھیے

اس کی ہر بات نے جادو سا کیا تھا پہلے

اس کی ہر بات نے جادو سا کیا تھا پہلے کتنا دلچسپ کہانی کا خدا تھا پہلے خواب لمحہ تری خوشبو میں بسا تھا پہلے بے خبر نیند میں اک پھول کھلا تھا پہلے کوئی تاثیر تھی جو غم کو بھلا دیتی تھی تیرے اندر کوئی فن کار چھپا تھا پہلے یہ بدن اب تجھے بے روح کھنڈر لگتا ہے اس حویلی میں اک انسان ...

مزید پڑھیے

کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے

کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے مرے دل میں اک تمنا کہیں سر ابھارتی ہے مری سوچ کا طریقہ مری آنکھ کا سلیقہ یہی شے ہے تیرے اندر جو تجھے سنوارتی ہے نئے شوق کی چمک ہے کسی میہماں نظر میں مری روح میں اتر کر مرے سر ابھارتی ہے مجھے کچھ دنوں سے اس سے بڑا پیار مل رہا ہے کبھی اپنے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4198 سے 5858