دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا
دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا اسی کے سائے میں وہ ہم کو ڈھونڈھتا ہوگا کوئی تو ضد میں یہ آ کر کبھی کہے ہم سے یہ بات یوں نہیں ایسے تھی یوں ہوا ہوگا تمہارا گھر سر مہتاب جو بنا ڈالے تمہارا بیٹا نہیں وہ خدا رہا ہوگا وہ آنکھیں ابر کی مانند رو رہی ہوں گی وہ زینہ خواب میں مہتاب پر ٹکا ...