شاعری

پورے قد سے میں کھڑا ہوں سامنے آئے گا کیا

پورے قد سے میں کھڑا ہوں سامنے آئے گا کیا میں ترا سایہ نہیں ہوں مجھ کو سمجھائے گا کیا آندھیوں پر اڑ رہا ہے جن پرندوں کا ہجوم آسماں کی وسعتوں سے لوٹ کر آئے گا کیا اک نئے منظر کا خاکہ آسماں پر کیوں نہیں چاند اپنی چاندنی پر یوں ہی اترائے گا کیا فصل گل کے بعد پت جھڑ یوں تو اک معمول ...

مزید پڑھیے

مشورہ دینے کی کوشش تو کرو

مشورہ دینے کی کوشش تو کرو میرے حق میں کوئی سازش تو کرو جب کسی محفل میں میرا ذکر ہو چپ رہو اتنی نوازش تو کرو میرا کہنا حرف آخر بھی نہیں میری مانو آزمائش تو کرو خود ستائی شیوۂ ابلیس ہے نذر حق حرف ستائش تو کرو چار سو ظلمت کے پہرے دار ہیں رحمتوں کی ہم پہ بارش تو کرو

مزید پڑھیے

اے مرکز خیال بکھرنے لگا ہوں میں

اے مرکز خیال بکھرنے لگا ہوں میں اپنے تصورات سے ڈرنے لگا ہوں میں اس دوپہر کی دھوپ میں سایہ بھی کھو گیا تنہائیوں کے دل میں اترنے لگا ہوں میں برداشت کر نہ پاؤں گا وحشت کی رات کو اسے شام انتظار بپھرنے لگا ہوں میں اس تیرگی میں کرمک شب تاب بھی نہیں تاریکیوں کو روح میں بھرنے لگا ہوں ...

مزید پڑھیے

جب بھی تم کو سوچا ہے

جب بھی تم کو سوچا ہے سارا منظر بدلا ہے جاتے جاتے یہ کس نے نام پون پر لکھا ہے انگاروں کے موسم میں جسموں کا سا میلہ ہے میری بستی میں آ کر پاگل دریا ٹھہرا ہے خوشیاں ہیں مہمان مری غم میرا ہم سایا ہے تم کیا جانو کشمیری دلی میں کیا ہوتا ہے

مزید پڑھیے

اپنی غزل کو خون کا سیلاب لے گیا

اپنی غزل کو خون کا سیلاب لے گیا آنکھیں رہیں کھلی کی کھلی خواب لے گیا شب زندہ دار لوگ اندھیروں سے ڈر گئے صبح ازل سے کون تب و تاب لے گیا عریاں ہے میری لاش حقیقت کی دھوپ میں وہ اپنے ساتھ یادوں کا برفاب لے گیا آیا مرے قریب گل سیم تن کی طرح سارا سکون صورت سیماب لے گیا مجھ کو سپرد ...

مزید پڑھیے

نئی باسی کوئی خبر دے دے

نئی باسی کوئی خبر دے دے سچی جھوٹی کہ معتبر دے دے سنگ برسا دے میرے آنگن میں رہرووں کو گل و ثمر دے دے ہے فلک تک فصیل نار جحیم اے خدا اب تو ابر تر دے دے کامیابی مرا مقدر کر زور کے ساتھ مجھ کو زر دے دے تابناکی عطا ہو فرقت کو کاسۂ چشم میں گہر دے دے اب فقیری میں کوئی بات نہیں حشمت و ...

مزید پڑھیے

حصار جسم سے آگے نکل گیا ہوتا

حصار جسم سے آگے نکل گیا ہوتا جنوں کی آگ میں دیوانہ جل گیا ہوتا حیات ایک سہی کائنات ایک سہی ہمارے عہد کا انساں بدل گیا ہوتا ہوا کے زور نے پتھر اڑا دئے ہوتے تمام شہر کو طوفاں نگل گیا ہوتا میں اپنی نیند کسی گھر میں کیسے بھول آتا وہ میرے خواب کے سانچے میں ڈھل گیا ہوتا نہ پوچھ کیسا ...

مزید پڑھیے

درد کی رات گزرتی ہے مگر آہستہ

درد کی رات گزرتی ہے مگر آہستہ وصل کی دھوپ نکھرتی ہے مگر آہستہ آسماں دور نہیں ابر ذرا نیچے ہے روشنی یوں بھی بکھرتی ہے مگر آہستہ تم نے مانگی ہے دعا ٹھیک ہے خاموش رہو بات پتھر میں اترتی ہے مگر آہستہ تیری زلفوں سے اسے کیسے جدا کرتا میں زندگی یوں بھی سنورتی ہے مگر آہستہ

مزید پڑھیے

پھر پہاڑوں سے اتر کر آئیں گے

پھر پہاڑوں سے اتر کر آئیں گے راہ بھٹکے نوجواں گھر آئیں گے جن کی خاطر ہیں گھروں کے در کھلے صبح کے بن کر پیمبر آئیں گے پھر تلاطم خیز ہے دریائے خوں ہم تری تقدیر بن کر آئیں گے دوستو مت سیکھئے سچ بولنا سر پہ ہر جانب سے پتھر آئیں گے ہاتھیوں کی مد پہ ہے کعبہ مرا کب ابابیلوں کے لشکر ...

مزید پڑھیے

یوں ہی کر لیتے ہیں اوقات بسر اپنا کیا

یوں ہی کر لیتے ہیں اوقات بسر اپنا کیا اپنے ہی شہر میں ہیں شہر بدر اپنا کیا رات لمبی ہے چلو غیبت یاراں کر لیں شب کسی طور تو ہو جائے بسر اپنا کیا دوریاں فاصلے دشوار گزر گاہیں ہیں ہے یہی شرط سفر رخت سفر اپنا کیا تجھ سے اب اذن تکلم بھی اگر مل جائے لب ہلیں یا نہ ہلیں آنکھ ہو تر اپنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4190 سے 5858