ایک پری آکاش سے اتری
ایک پری آکاش سے اتری نیلی رات کے سناٹے میں صبح ہوئی جب سورج نکلا اس نے دیکھا ٹوٹے درپن اندھی بستی سے غائب تھے گونگی بستی کے آنگن میں سوکھے پیڑ کی اک ڈالی پر ایک پپیہا بول رہا تھا
ایک پری آکاش سے اتری نیلی رات کے سناٹے میں صبح ہوئی جب سورج نکلا اس نے دیکھا ٹوٹے درپن اندھی بستی سے غائب تھے گونگی بستی کے آنگن میں سوکھے پیڑ کی اک ڈالی پر ایک پپیہا بول رہا تھا
میرے ہاتھوں سے میری چتا بن گئی میرے کاندھوں پہ میرا جنازہ اٹھا نوک مژگان سے قرطاس ایام پر میرے خوں سے مرا نام لکھا گیا اور میں چپ رہا میرے بازار کوچے مرے بام و در میری ناداریوں سے سجائے گئے میرے افکار میری متاع ہنر میری محرومیوں سے بسائے گئے اور میں چپ رہا میری تقدیر کا جو بھی ...
رات خامشی لے کر جھولتی ہے پیڑوں پر دشت دشت ویراں ہیں روشنی کے ہنگامے تیرگی برستی ہے اونچے نیچے ٹیلوں پر نیند کیوں نہیں آتی میں اداس رہتا ہوں دن کے گرم میلے میں میں ملول رہتا ہوں شام کے جھمیلے میں میں شراب پی کر بھی ہوشیار رہتا ہوں جو بھی دل پہ لگ جائے میں وہ زخم سہتا ہوں سوچتا ہوں ...
میں اپنی بیوی سے بات کرتے نپے تلے لفظ بولتا ہوں میں اپنے دفتر میں ساتھیوں سے لکھی ہوئی بات بولتا ہوں میں اپنے لخت جگر سے اکثر نظر ملانے سے کانپتا ہوں یہ کیسی فصل بہار آئی صبا سے خوشبو ڈری ہوئی ہے یہ کیسی رت آ گئی جنوں کی نسیم گلچیں سے مل گئی ہے
زمین شعلے اگل رہی ہے فضا سے تیزاب گر رہا ہے زمین اگنی پہ لوٹتی ہے ہوائیں چہرہ بگاڑتی ہیں سنا تو تھا آج دیکھتے ہیں یہاں ہوائیں ہیں نار سیرت ازل سے لے کر ابد تلک بے قرار ہوں گی ہماری روحیں جنم جنم تک بھٹک بھٹک کر فنا فنا بے کراں تباہی کا نام لے کر نہ پیڑ ہوں گے نہ قمریوں کے سریلے ...
جب ہلکی پھلکی باتوں سے نغموں کی طنابیں بنتی تھیں جب چھوٹے چھوٹے لفظوں سے افکار کی شمعیں جلتی تھیں ہر چہرہ اپنا چہرہ تھا ہر درپن اپنا درپن تھا جو گھر تھا ہمارا ہی گھر تھا ہر آنگن اپنا آنگن تھا جو بات لبوں تک آتی تھی وہ دل سے نہیں کر آتی تھی کانوں میں امرت بھرتی تھی اور دل کو ...
نیبو پہاڑی کے دامن میں ایک گاؤں ہے 'مدرابن' جہاں میں پیدا ہوا تھا (میرا نام محمد فاروق ہے) میری ماں سیب کہ طرح سرخ اور میٹھی تھی گلاب کہ طرح کومل اور معطر وہ خوشبو کا آکار تھی لگی لپٹی چھل کپٹ، جھوٹ یہ لفظ اس نے سنے تو تھے آزمائے نہیں تھے دہرائے نہیں تھے ریڈیو سے نزار قبانی کا ...
عجیب لمحہ ہے موت کا بھی نہ خوف ساتھی نہ آس ہمدم عجیب شے ہے یہ آدمی بھی جو موت کے ڈر سے کانپتا ہے جو آس کی ڈور تھامتا ہے اسے خبر ہے کہ موت کیا ہے مگر وہ پھر بھی فصیل بیم و رجا کا قیدی خود اپنی کرنی سے بھاگتا ہے اسے خبر ہے کہ موت جینے کا آسرا ہے اسے خبر ہے عجیب لمحہ ہے موت کا بھی نہ آس ...
جب میں اور تو نڈھال ہو جاتے ہیں سانسیں پھولتی ہیں او رحم پہلے ڈھیلے اور پھر سرد پڑ جاتے ہیں اور ہمارے چہرے اپنی اصلی حالت پر آ جاتے ہیں تو بے اختیار سوچتا ہوں ہمارا کیا ہوگا اگر ساتھ چھوٹ گیا تمہارا کیا ہوگا میرے بغیر میرا کیا ہوگا تیرے بغیر میں تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ تو میرے ...
گھائل ہے تیری شہزادی شہزادے تو نے جو ہر بات بھلا دی شہزادے ہر جانب ہو ایک منادی شہزادے تیری ہو گئی یہ شہزادی شہزادے ہنستے ہنستے روتی ہوں پھر ہنستی ہوں عشق نے کیسی مجھ کو سزا دی شہزادے آج بھی عرش کو دیکھا تیرا نام لیا آج بھی میں نے تجھ کو دعا دی شہزادے شام ڈھلے تو درد بھی اپنی ...