شاعری

موج لہرائے بھنور گھومے ہوا گائے غزل

موج لہرائے بھنور گھومے ہوا گائے غزل ہر ادا میں اک نیا انداز دکھلائے غزل عارض و لب گیسو و قد تک کہاں محدود ہے زندگی کا معنی و مطلب بھی سمجھائے غزل تیرہ و تاریک راہوں میں کبھی رکھے چراغ اور کبھی رنگین آنچل بن کے لہرائے غزل زلف کی ٹھنڈی معطر چھاؤں میں بن جائے خواب چلچلاتی دھوپ ...

مزید پڑھیے

زندگی کے افسانے

صبح کا جواں سورج چہچہے پرندوں کے آنکھ کھولتی کلیاں ہنستے کھیلتے بچے زندگی کی رونق ہیں زندگی کے میلے میں ہر خوشی انہیں سے ہے ان کی مسکراہٹ سے چاندنی بکھرتی ہے دلہنوں سی یہ دھرتی اور بھی نکھرتی ہے بھر کے مانگ میں تارے رات بھر سے آتی ہے درد و غم کے ماروں کو گود میں سلاتی ہے شب کے ...

مزید پڑھیے

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو ...

مزید پڑھیے

اونچے مکان کھا گئے سب میرے گھر کی دھوپ

اونچے مکان کھا گئے سب میرے گھر کی دھوپ حصہ میں میرے رہ گئی بالشت بھر کی دھوپ کرتا رہوں نگاہ ملا کر میں گفتگو ہر چند چبھ رہی ہو ترے کر و فر کی دھوپ سایہ دریدہ پیرہنی پر خودی کا تھا ریشم سا لمس لائی تھی گو سیم و زر کی دھوپ زرخیزیٔ زمین سخن کے لئے مفید دل کی ہوا شعور کا پانی نظر کی ...

مزید پڑھیے

جیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے والا

جیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے والا ورنہ ہونے کو یہاں کیا نہیں ہونے والا مقتدر ہو تو غریبوں سے جو چاہو لے لو عزت نفس کا سودا نہیں ہونے والا دل یہ کہتا ہے کسی کو بھی نہ لا خاطر میں عقل کہتی ہے کہ اچھا نہیں ہونے والا امن پرچار تلک ٹھیک سہی لیکن امن تم کو لگتا ہے کہ ہوگا نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

حضور مل کے آپ سے میں آج مسکرا دیا

حضور مل کے آپ سے میں آج مسکرا دیا تبسم آپ کا جو اک ادھار تھا چکا دیا بجا کہ سرکشی غلط قبول انکسار بھی مگر یہ کیا کہ ہر کسی کے آگے سر جھکا دیا میں سختیوں میں جی گیا میں تلخیوں کو پی گیا مگر کسی نے پیار سے صدا جو دی رلا دیا نہ ڈر مرے خمیر میں نہ شر مرے ضمیر میں تمام ظالموں کے نام میں ...

مزید پڑھیے

دوستی کے نئے آداب لئے پھرتے ہیں

دوستی کے نئے آداب لئے پھرتے ہیں لوگ اب عطر میں تیزاب لئے پھرتے ہیں چاہتے ہیں کہ حقیقت میں ڈھلیں آپ ہی آپ جاگتی آنکھوں میں ہم خواب لئے پھرتے ہیں آنکھ اٹھتی نہیں باہر کے نظاروں کی طرف ہم طبیعت بڑی سیراب لئے پھرتے ہیں احتیاطاً کہ حریفوں کے نہ ہاتھ آ جائیں میرے پرزے مرے احباب لئے ...

مزید پڑھیے

جوں ہی لب کھولتا ہے وہ تو جادو باندھتا ہے

جوں ہی لب کھولتا ہے وہ تو جادو باندھتا ہے حسین الفاظ کے پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہے اندھیری شب کے دامن میں دمکتے ہیں ستارے خیال یار جب پلکوں پہ جگنو باندھتا ہے مری پرواز کو مشروط کر کے نیک صیاد قفس گر کھول دیتا ہے تو بازو باندھتا ہے سلگتا کھولتا ماحول اور خشکی غزل کی کہ دل اک ...

مزید پڑھیے

کبھی تو حرف دعا یوں زباں تلک آئے

کبھی تو حرف دعا یوں زباں تلک آئے اتر کے جس کی پذیرائی کو فلک آئے کم از کم اتنے تو آئینہ دار ہوں چہرے کہ دل کے حال کی چہرے پہ بھی جھلک آئے تو پھر یہ کون سا رشتہ ہے گر نہ انس کہوں جو اشک میرے تری آنکھ سے چھلک آئے سجا سجا کے جو رکھے تھے صدیوں صدیوں نے وہ خواب خواب مناظر پلک پلک ...

مزید پڑھیے

خیر سے ہوتی رہی راہ نمائی کیا کیا

خیر سے ہوتی رہی راہ نمائی کیا کیا ورنہ آ جاتی بشر میں کج ادائی کیا کیا معتبر کیسے کہیں تو نے اڑائی کیا کیا اے نظر تجھ کو یہ دنیا نظر آئی کیا کیا بے رخی تھی ولے برگشتگی ایسی تو نہ تھی کیا خبر کس نے وہاں جا کے لگائی کیا کیا دل نے تسلیم کیا کب کہ یقیں آ جاتا اس نے بن بن کے مگر بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4174 سے 5858