شاعری

مستقبل کی سب دل خوش کن باتیں خوابوں تک محدود

مستقبل کی سب دل خوش کن باتیں خوابوں تک محدود انس محبت مہر و وفا گر ہیں تو کتابوں تک محدود شعر و ادب کو سرحد ورحد سے کیا لینا دینا ہے شعر و ادب کی دنیا کیوں ہے آج نصابوں تک محدود کاروبار دروغ شریفوں کے ایوانوں تک پہنچا سچ کی دولت ہو کر رہ گئی خانہ خرابوں تک محدود استغنا سے آب آتی ...

مزید پڑھیے

جو پہلے ذرا سی نوازش کرے ہے

جو پہلے ذرا سی نوازش کرے ہے وہی پھر شب و روز سازش کرے ہے وہ دھوکے پہ دھوکہ دیے جائے لیکن یہ دل پھر بھی اس کی سفارش کرے ہے کسی دن ملے وہ کھلونوں کی صورت مرا دل بھی بچوں سی خواہش کرے ہے یہ دل کا خلل جان لے کر رہے گا مسیحا تو بیکار کوشش کرے ہے میں اس کی رگوں میں لہو بن کے دوڑوں وہ ...

مزید پڑھیے

دور تک سونی پڑی ہے رہ گزر دیکھے گا کون

دور تک سونی پڑی ہے رہ گزر دیکھے گا کون اپنی منزل ہی نہیں تو راہبر دیکھے گا کون چاندنی کی بد دعا اپنا اثر دکھلا گئی کس قدر تاریکیاں ہیں چاند پر دیکھے گا کون جاگتی آنکھوں پہ آخر نیند غالب آ گئی اب تمہارا راستہ بھی رات بھر دیکھے گا کون اپنے گھر کا ساز و ساماں ہم نے گروی رکھ ...

مزید پڑھیے

لذت لمس مر نہ جائے کہیں

لذت لمس مر نہ جائے کہیں پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں تجھ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہا اب یہ ضدی نظر نہ جائے کہیں جنگ جاری ہے رشتے ناطوں میں سب اثاثہ بکھر نہ جائے کہیں خون میں تر بہ تر قبیلے ہیں کھیل حد سے گزر نہ جائے کہیں موت پر اعتبار ہے اپنا وہ بھی اب کہ مکر نہ جائے کہیں ہاتھ ...

مزید پڑھیے

دل کے ماروں سے دل لگی چاہے

دل کے ماروں سے دل لگی چاہے موت قسطوں میں زندگی چاہے میں تو چاہوں اسے قیامت تک وہ ملاقات سرسری چاہے شہر کا شہر میرے قدموں میں دل مگر یار کی گلی چاہے سب کی مرضی سے جی کے دیکھ لیا اب وہی کر جو تیرا جی چاہے میں سمندر کا کیا کروں فاروقؔ پیاس چڑھتی ہوئی ندی چاہے

مزید پڑھیے

کبھی تنہائی کا احساس نہیں رہتا ہے

کبھی تنہائی کا احساس نہیں رہتا ہے دور رہ کے بھی وہ اس دل کے قریں رہتا ہے میری پلکوں پہ لگا دینا نظر کا ٹیکہ میری آنکھوں میں کوئی پردہ نشیں رہتا ہے وقت مٹی میں ملا دیتا ہے شاہوں کو بھی حشر تک کون بھلا تخت نشیں رہتا ہے تیری نس نس میں لہو بن کے رواں رہتا ہوں راستہ جیسے کوئی زیر ...

مزید پڑھیے

میں اپنے دل کی طرح آئنہ بنا ہوا ہوں

میں اپنے دل کی طرح آئنہ بنا ہوا ہوں سو حیرتوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہوں پہنچ تو سکتا تھا منزل پہ میں مگر اے دوست میں دوسروں کے لیے راستہ بنا ہوا ہوں میں جب چلا تھا تو اپنے بھی مجھ کو چھوڑ گئے اور آج دیکھ لو میں قافلہ بنا ہوا ہوں ستم تو یہ ہے کہ ہے میری داستاں اور میں شریک متن نہیں ...

مزید پڑھیے

سر پہ حرف آتا ہے دستار پہ حرف آتا ہے

سر پہ حرف آتا ہے دستار پہ حرف آتا ہے تنگ ہوں لوگ تو سردار پہ حرف آتا ہے ویسے تو میں بھی بھلا سکتا ہوں تجھ کو لیکن عشق ہوں سو مرے کردار پہ حرف آتا ہے گھر کی جب بات نکل جاتی ہے گھر سے باہر در پہ حرف آتا ہے دیوار پہ حرف آتا ہے کتنا بے بس ہوں کہ خاموش مجھے رہنا ہے بولتا ہوں تو مرے یار ...

مزید پڑھیے

کیسۂ گل میں بند تھی خوشبو

کیسۂ گل میں بند تھی خوشبو کس قدر خود پسند تھی خوشبو سرنگوں تھا غرور غنچہ و گل سر بسر سر بلند تھی خوشبو اہل گلشن تھے محو رامش و رنگ ہاں مگر فکر مند تھی خوشبو اڑ گئی آمد خزاں سے قبل واقعی عقل مند تھی خوشبو آن واحد میں آ کے لوٹ گئی آہوؤں کی زقند تھی خوشبو دفتر گلستاں تھا ...

مزید پڑھیے

گندھ کے مٹی جو کبھی چاک پہ آ جاتی ہے

گندھ کے مٹی جو کبھی چاک پہ آ جاتی ہے بات بے مہریٔ افلاک پہ آ جاتی ہے آسمانوں پہ اڑو ذہن میں رکھو کہ جو چیز خاک سے اٹھتی ہے وہ خاک پہ آ جاتی ہے رنگ و خوشبو کا کہیں کوئی کرے ذکر تو بات گھوم پھر کر تری پوشاک پہ آ جاتی ہے بکھرا بکھرا سا ہے انداز تکلم ان کا اور تہمت مرے ادراک پہ آ جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4175 سے 5858