شاعری

ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتے

ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتے آپ ہیں اس لیے نہیں کہتے چاند ہوتا نہ آسماں پہ اگر ہم کسے آپ سا حسیں کہتے آپ کے پاؤں پھر کہاں پڑتے ہم زمیں کو اگر زمیں کہتے آپ نے اوروں سے کہا سب کچھ ہم سے بھی کچھ کبھی کہیں کہتے آپ کے بعد آپ ہی کہیے وقت کو کیسے ہم نشیں کہتے وہ بھی واحد ہے میں بھی واحد ...

مزید پڑھیے

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے قرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے اٹھائے پھرتے تھے احسان جسم کا جاں پر چلے جہاں سے تو یہ پیرہن اتار چلے نہ جانے کون سی مٹی وطن کی مٹی تھی نظر میں دھول جگر میں لیے غبار چلے سحر نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے تھی رات رات کی یہ زندگی گزار چلے ملی ہے شمع ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں اشک لیے خاک لیے دامن میں

آنکھ میں اشک لیے خاک لیے دامن میں ایک دیوانہ نظر آتا ہے کب سے بن میں میرے گھر کے بھی در و بام کبھی جاگیں گے دھوپ نکلے گی کبھی تو مرے بھی آنگن میں کہیے آئینۂ صد فصل بہاراں تجھ کو کتنے پھولوں کی مہک ہے ترے پیراہن میں شب تاریک مرا راستہ کیا روکے گی مرے آنچل میں ستارے ہیں سحر دامن ...

مزید پڑھیے

آنکھیں بادل بن جائیں گی

جانے کیا بات ہوئی تم نے اپنی راہیں بدلیں آنکھیں پھیریں اپنا رخ موڑ لیا تم کو ڈھونڈنے نکلوں گی جب آنکھیں بادل بن جائیں گی غم کے سائے بڑھ جائیں گے راہ میں پتھر آ جائیں گے راہ کے کانٹے چنتے چنتے پاؤں بھی چھلنی ہو جائیں گے زخم سراپا بن جاؤں گی غم کی شدت راہ اندھیری میں پاگل ہو جاؤں ...

مزید پڑھیے

یہ تم نے کیا کہا تھا

یہ تم نے کیا کہا تھا اس نیلے آکاش کو بڑھ کے چھونا ہے ہر لمحہ آگے بڑھتے رہنا ہے لیکن اے کاش ایسا ہوتا تم مجھ سے بچھڑ نہ پاتے میں راہ کی ہر اک دشواری کو ہنستے ہنستے سہہ لیتی درد کا جنگل رستے میں گر آ جاتا نہ میں ڈرتی نہ گھبراتی آکاش کو بڑھ کے چھو لیتی چاند ستارے توڑ کے میں لے آتی لیکن ...

مزید پڑھیے

مسکراتی ہوئی زندگی کیا ہوئی

رقص کرتی ہوئی گنگناتی ہوئی مسکراتی ہوئی زندگی کیا ہوئی جگمگاتے ہوئے شہر کو کیا ہوا روشنی کیا ہوئی پھول جیسے بدن رنگ و بو کے چمن پیار کے ساحلوں کی فضا پھول کی ڈالیوں سے لپٹتی ہوا چشم احساس کے سامنے دور تک آج کچھ بھی نہیں عہد و پیماں کے رشتوں کو کس کی نظر کھا گئی دوستی کیا ہوئی کتنے ...

مزید پڑھیے

شخصیت اس نے چمک دار بنا رکھی ہے

شخصیت اس نے چمک دار بنا رکھی ہے ذہنیت کیا کہیں بیمار بنا رکھی ہے اس قدر بھیڑ کہ دشوار ہے چلنا سب کا اور اک وہ ہے کہ رفتار بنا رکھی ہے ایک مشکل ہو تو آسان بنا لی جاے اس نے تو زندگی دشوار بنا رکھی ہے پاس آ جاتا ہے میں دور چلا جاؤں تو اس نے دوری بھی لگاتار بنا رکھی ہے ذہن اور دل میں ...

مزید پڑھیے

راہ الفت میں مقامات پرانے آئے

راہ الفت میں مقامات پرانے آئے تم نہ آئے تو مجھے یاد فسانے آئے وقت رخصت نہ دیا ساتھ زباں نے لیکن اشک بن کر مری آنکھوں میں ترانے آئے رات کے وقت ہر اک سمت تھے نقلی سورج سائے تھے اصل جو کردار نبھانے آئے وقت آتا ہی نہیں لوٹ کے یہ بات ہے جھوٹ میری آنکھوں میں کئی گزرے زمانے آئے زندگی ...

مزید پڑھیے

آنسو بھی وہی کرب کے سائے بھی وہی ہیں

آنسو بھی وہی کرب کے سائے بھی وہی ہیں ہم گردش دوراں کے ستائے بھی وہی ہیں کیا بات ہے کیوں شہر میں اب جی نہیں لگتا حالانکہ یہاں اپنے پرائے بھی وہی ہیں اوراق دل و جاں پہ جنہیں تم نے لکھا ہے نغمات الم ہم نے سنائے بھی وہی ہیں اے جوش جنوں درد کا عالم بھی وہی ہے اے وحشت جاں درد کے سائے ...

مزید پڑھیے

ہمارا نام پکارے ہمارے گھر آئے

ہمارا نام پکارے ہمارے گھر آئے یہ دل تلاش میں جس کی ہے وہ نظر آئے نہ جانے شہر نگاراں پہ کیا گزرتی ہے فضائے دشت الم کوئی تو خبر آئے نشان بھول گئی ہوں میں راہ منزل کا خدا کرے کہ مجھے یاد رہ گزر آئے میں آندھیوں میں بھی پھولوں کے رنگ پڑھ لوں گی ترے بدن کی مہک لوٹ کر اگر آئے غبار غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4081 سے 5858