شاعری

الفت کا درد غم کا پرستار کون ہے

الفت کا درد غم کا پرستار کون ہے دنیا میں آنسوؤں کا طلب گار کون ہے خوشیاں چلا ہوں بانٹنے آنسو سمیٹ کر الجھن ہے میرے سامنے حق دار کون ہے ضد پر اڑے ہوے ہیں یہ دل بھی دماغ بھی اب دیکھنا ہے ان میں اثر دار کون ہے پہلے تلاش کیجئے منزل کی رہ گزر پھر سوچیے کہ راہ میں دیوار کون ہے کانوں ...

مزید پڑھیے

شعر جب کھلتا ہے کھلتے ہیں معانی کیا کیا

شعر جب کھلتا ہے کھلتے ہیں معانی کیا کیا راستے دیتے ہیں اک مصرعۂ ثانی کیا کیا ختم ہوتی ہے سمندر پہ کبھی صحرا میں راستے چنتی ہے دریا کی روانی کیا کیا پہلے کردار گزرتا ہے نظر سے کوئی موڑ لیتی ہے پھر آنکھوں میں کہانی کیا کیا اشک آنکھوں میں کسک دل میں نظر میں امید عشق دیتا ہے محبت ...

مزید پڑھیے

درد جب جب جہاں سے گزرے گا

درد جب جب جہاں سے گزرے گا قافلہ ہو کے جاں سے گزرے گا فکر میں آئے گا سوال مرا اور جواب اس کا ہاں سے گزرے گا میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا کوئی شکوہ زباں سے گزرے گا سامنے آئے گا مرا کردار ذکر جب داستاں سے گزرے گا پھر مجھے یاد آئے گا بچپن اک زمانہ گماں سے گزرے گا رہ گزر ہے اداس میری ...

مزید پڑھیے

سنبھل کے رہیے گا غصہ میں چل رہی ہے ہوا

سنبھل کے رہیے گا غصہ میں چل رہی ہے ہوا مزاج گرم ہے موسم بدل رہی ہے ہوا وہ جام برف سے لبریز ہے مگر اس سے لپٹ لپٹ کے مسلسل پگھل رہی ہے ہوا ادھر تو دھوپ ہے بندش میں اور چھتوں پہ ادھر لباس برف کا پہنے ٹہل رہی ہے ہوا بجھا رہی ہے چراغوں کو وقت سے پہلے نہ جانے کس کے اشاروں پہ چل رہی ہے ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ہاتھ میں خنجر ہے اور سب چپ ہیں

ہوا کے ہاتھ میں خنجر ہے اور سب چپ ہیں لہو لہان مرا گھر ہے اور سب چپ ہیں صدائیں بکھری پڑی ہیں تمام آنگن میں نظر نظر میں یہ منظر ہے اور سب چپ ہیں نہ بولنے کی مناہی نہ کوئی دشواری زباں سبھی کو میسر ہے اور سب چپ ہیں قصوروار ہوں اتنا کہ چشم دید تھا میں اور اب گناہ مرے سر ہے اور سب چپ ...

مزید پڑھیے

دل میں یہ ایک ڈر ہے برابر بنا ہوا

دل میں یہ ایک ڈر ہے برابر بنا ہوا مٹی میں مل نہ جاے کہیں گھر بنا ہوا اک لفظ بے وفا کہا اس نے پھر اس کے بعد میں اس کو دیکھتا رہا پتھر بنا ہوا جب آنسوؤں میں بہہ گئے یادوں کے سارے نقش آنکھوں میں کیسے رہ گیا منظر بنا ہوا لہرو! بتاؤ تم نے اسے کیوں مٹا دیا خوابوں کا اک محل تھا یہاں پر ...

مزید پڑھیے

آپ جب چہرہ بدل کر آ گئے

آپ جب چہرہ بدل کر آ گئے سچ تو یہ ہے ہم بھی دھوکہ کھا گئے آپ اب آئے ہیں فصل گل کے بعد پھول جب امید کے مرجھا گئے اشک کیا چھلکے ہماری آنکھ سے لفظ بھی آواز میں بل کھا گئے ہم تمہارے آئنہ میں قید تھے تم تو بس بے کار میں گھبرا گئے توڑ لائے شیشۂ دل پھر کہیں تم اندھیرے میں کہاں ٹکرا ...

مزید پڑھیے

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی جیسے احساں اتارتا ہے کوئی دل میں کچھ یوں سنبھالتا ہوں غم جیسے زیور سنبھالتا ہے کوئی آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی پیڑ پر پک گیا ہے پھل شاید پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی دیر سے گونجتے ہیں سناٹے جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی

مزید پڑھیے

صبر ہر بار اختیار کیا

صبر ہر بار اختیار کیا ہم سے ہوتا نہیں ہزار کیا عادتاً تم نے کر دیئے وعدے عادتاً ہم نے اعتبار کیا ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں رک کر اپنا ہی انتظار کیا پھر نہ مانگیں گے زندگی یارب یہ گنہ ہم نے ایک بار کیا

مزید پڑھیے

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا قافلہ ساتھ اور سفر تنہا اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں عمر گزری ہے اس قدر تنہا رات بھر باتیں کرتے ہیں تارے رات کاٹے کوئی کدھر تنہا ڈوبنے والے پار جا اترے نقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا دن گزرتا نہیں ہے لوگوں میں رات ہوتی نہیں بسر تنہا ہم نے دروازے تک تو دیکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4080 سے 5858