دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے
دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے یاد غم کے ہمیں کچھ اور بھی پہلو آئے ظلمت شب میں ہے روپوش نشان منزل اب مجھے راہ دکھانے کوئی جگنو آئے دل کا ہر زخم تری یاد کا اک پھول بنے میرے پیراہن جاں سے تری خوشبو آئے تشنہ کاموں کی کہیں پیاس بجھا کرتی ہے دشت کو چھوڑ کے اب کون لب جو آئے ایک ...