شاعری

دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے

دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے یاد غم کے ہمیں کچھ اور بھی پہلو آئے ظلمت شب میں ہے روپوش نشان منزل اب مجھے راہ دکھانے کوئی جگنو آئے دل کا ہر زخم تری یاد کا اک پھول بنے میرے پیراہن جاں سے تری خوشبو آئے تشنہ کاموں کی کہیں پیاس بجھا کرتی ہے دشت کو چھوڑ کے اب کون لب جو آئے ایک ...

مزید پڑھیے

اے شہر ستم پیشہ بتا کس کو صدا دوں

اے شہر ستم پیشہ بتا کس کو صدا دوں اب کون رہا ہے جسے پیغام وفا دوں شامل مری سانسوں میں ہے صدیوں کی اذیت آ گردش دوراں میں تجھے بھی تو دعا دوں اشکوں کے گہر بھی تو نہیں پاس مرے اب میں سوچ رہی ہوں غم دوراں تجھے کیا دوں ڈرتی ہوں بکھر جائے گی خاکستر جاں بھی بجھتے ہوئے شعلوں میں تمہیں ...

مزید پڑھیے

نہ ساتھ دے گا کوئی راہ آشنا میرا

نہ ساتھ دے گا کوئی راہ آشنا میرا جدا ہے سارے زمانے سے راستہ میرا گزر کے آئی ہوں میں غم کے ریگزاروں سے نظر اداس ہے دل ہے دکھا ہوا میرا نہ جانے کس لیے قاتل کے اشک بھر آئے فراز دار پہ جب سامنا ہوا میرا دیار جاں میں فروزاں رہے گی شمع حیات سمجھ لیا تری آنکھوں نے مدعا میرا کیا ہے پیش ...

مزید پڑھیے

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا ہاتھ میں وہ ہاتھ لے کر عمر بھر چلتا رہا ایک آنسو یاد کا ٹپکا تو دریا بن گیا زندگی بھر مجھ میں ایک طوفان سا پلتا رہا جانتی ہوں اب اسے میں پا نہیں سکتی مگر ہر جگہ سائے کی صورت ساتھ کیوں چلتا رہا جو میری نظروں سے اوجھل ہو چکا مدت ہوئی وہ خیالوں ...

مزید پڑھیے

سمجھتے ہیں جو اپنے باپ کی جاگیر مٹی کو

سمجھتے ہیں جو اپنے باپ کی جاگیر مٹی کو بناؤں گا میں ان کے پاؤں کی زنجیر مٹی کو ہوا سطح زمیں پر اب خط گل زار کھینچے گی کہ خوش آتی نہیں ہے ابر کی تحریر مٹی کو سیہ پڑ جائے گی ذروں کی رنگت ایک ہی پل میں اگر قسمت سے مل جائے مری تقدیر مٹی کو جلالی آئنہ اک آسماں پر مہر تاباں ہے بنایا ہے ...

مزید پڑھیے

رجوع کرتے ہوئے اپنے مدعا سے میں

رجوع کرتے ہوئے اپنے مدعا سے میں ترے علاوہ بھی کچھ مانگ لوں خدا سے میں کوئی چراغ اگر ہو مرے تعاقب میں تھکن سمیٹتا جاؤں نقوش پا سے میں فقیر ہوں اسی کوچے میں خاک پھانکتا ہوں صدا لگا نہیں سکتا مگر حیا سے میں رکوں گا جا کے کسی خوب رو کی چوکھٹ پر گلی میں پھول کھلاتا ہوا دعا سے ...

مزید پڑھیے

ٹھہرنے کو ہے بستی کے در و دیوار پر پانی

ٹھہرنے کو ہے بستی کے در و دیوار پر پانی کہ اب پتھر میں ڈھلتی جا رہی ہے موج حیرانی خیال آتا ہے شہر آرزو کو چھوڑ دینے کا بہت دشوار ہو جاتی ہے جب بھی کوئی آسانی یقیں آیا کہ ارزاں ہے متاع لطف دنیا میں نتیجہ ہے عدو کی قدر کرنے کا پشیمانی مسلسل بڑھ رہا ہوں جادۂ اسلام پر اب تک مگر خوش ...

مزید پڑھیے

مری وراثت میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی دہر کے لیے ہے

مری وراثت میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی دہر کے لیے ہے یہ رنگ اک خواب کے لیے ہے یہ آگ اک شہر کے لیے ہے اگر اسی رات کی سیاہی کے ساتھ کھو جائیں گے ستارے تو پھر یہ میرے لہو کا روشن چراغ کس لہر کے لیے ہے طلوع امکان آرزو پر یقین رکھتی ہے ایک دنیا مگر یہ بے کار خواہشوں کی نمود اک زہر کے لیے ...

مزید پڑھیے

چراغ کی اوٹ میں ہے محراب پر ستارہ

چراغ کی اوٹ میں ہے محراب پر ستارہ رکا ہوا ہے ابھی گل خواب پر ستارہ یہ کس روانی میں ڈوبتی جا رہی ہیں آنکھیں چمک رہا ہے یہ کیوں رخ آب پر ستارہ رکی ہوئی ہے زمین پانی کے منطقے پر ٹھہر گیا ہے نگاہ بیتاب پر ستارہ کہیں مری دھوپ کی حکومت ہے آئنے پر جھکا ہوا ہے کہیں زر آب پر ستارہ محیط ...

مزید پڑھیے

بھرے پڑے ہوئے سب باغ و راغ تھے اس دن

بھرے پڑے ہوئے سب باغ و راغ تھے اس دن گلی میں پھول گھروں میں چراغ تھے اس دن یہ اور بات ترے سامنے نہیں آئے مرے جلو میں کئی بد دماغ تھے اس دن اڑا لیا تھا کسی نے خمار آنکھوں سے تہی صباحت گل سے ایاغ تھے اس دن شکستہ حال پڑا تھا میں اپنے بستر پر کھلے ہوئے سبھی رنگ فراغ تھے اس دن کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4082 سے 5858