شاعری

کہ در گفتن نمی آید

مری جاں گو تجھے دل سے بھلایا جا نہیں سکتا مگر یہ بات میں اپنی زباں پر لا نہیں سکتا تجھے اپنا بنانا موجب راحت سمجھ کر بھی تجھے اپنا بنا لوں یہ تصور لا نہیں سکتا ہوا ہے بارہا احساس مجھ کو اس حقیقت کا ترے نزدیک رہ کر بھی میں تجھ کو پا نہیں سکتا مرے دست ہوس کی دسترس ہے جسم تک ...

مزید پڑھیے

نظم

حقیر و ناتواں تنکا ہوا کے دوش پر پراں سمجھتا تھا کہ بحر و بر پہ میری حکمرانی ہے مگر جھونکا ہوا کا ایک البیلا تلون کیش بے پروا جب اس کے جی میں آئے رخ پلٹ جائے ہوا آخر ہوا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہے ہوا تو بے وفا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہے ہوا پلٹی بلندی کا فسوں ٹوٹا حقیر و ناتواں ...

مزید پڑھیے

طلوع شب

نہ فلک پر کوئی تارا نہ زمیں پر جگنو جو کرن نور کی ہے مات ہوئی جاتی ہے کارگر یورش ظلمات ہوئی ہے کتنی کیا ہمیشہ کے لیے رات ہوئی جاتی ہے

مزید پڑھیے

ایک حسن فروش لڑکی کے نام

مری جاں گو تجھے دل سے بھلایا جا نہیں سکتا مگر یہ بات میں اپنی زباں پر لا نہیں سکتا میں تجھ کو چاہتا ہوں والہانہ پیار کرتا ہوں میں گاتا رہتا ہوں پر یہ نغمہ گا نہیں سکتا تجھے اپنا بنانا موجب راحت سمجھ کر بھی تجھے اپنا بنا لوں یہ سمجھ میں آ نہیں سکتا بنا سکتا ہوں شب کو اپنے بستر کی ...

مزید پڑھیے

نظم

یہ سچ ہے ہم جسے مصلوب کرنے جا رہے ہیں وہ نہ رہزن ہے نہ زانی ہے مگر یہ جرم اس کا کم نہیں ہے وہ ہمارے بد دیانت شہر میں تلقین کرتا ہے دیانت کی تمہیں معلوم ہے ہم سب شریک جرم ہیں ہم سب کے چہروں پر سیاہی ہے گناہوں کی تو کیوں نہ سرخ رو ہو جائیں دھو کر اس کے خوں سے اپنے چہروں کی سیاہی کو

مزید پڑھیے

نظم

یوں اچانک ملاقات تجھ سے ہوئی جیسے رہ گیر کو بے طلب بے دعا راہ میں ایک انمول موتی ملے اور ہنگام رخصت یہ احساس ہے جیسے مرد جفا کش کا اندوختہ حاصل محنت زندگی راہزن چھین لے جیسے زاہد کو پیری میں احساس ہو عمر بھر کی ریاضت اکارت گئی

مزید پڑھیے

عشق میں کب یہ ضروری ہے کہ رویا جائے

عشق میں کب یہ ضروری ہے کہ رویا جائے یہ نہیں داغ ندامت جسے دھویا جائے دوپہر ہجر کی تپتی ہوئی سر پر ہے کھڑی وصل کی رات کو شکوؤں میں نہ کھویا جائے الجھے اب پنجۂ وحشت نہ گریبانوں سے آج اسے سینۂ اعدا میں گڑویا جائے ایک ہی گھونٹ سہی آج تو پی لے زاہد کچھ نہ کچھ زہد کی خشکی کو سمویا ...

مزید پڑھیے

پھر وہ نظر ہے اذن تماشا لئے ہوئے

پھر وہ نظر ہے اذن تماشا لئے ہوئے تجدید آرزو کا تقاضا لئے ہوئے چشم سیہ میں مستیاں شام وصال کی عارض فروغ صبح نظارا لئے ہوئے ہر ایک شخص ترک تمنا کا مدعی ہر ایک شخص تیری تمنا لئے ہوئے کل شب طلوع ماہ کا منظر عجیب تھا تم جیسے آ گئے رخ زیبا لئے ہوئے دل آج تک ہے لطف فراواں سے شرمسار لب ...

مزید پڑھیے

دل جلانے سے کہاں دور اندھیرا ہوگا

دل جلانے سے کہاں دور اندھیرا ہوگا رات یہ وہ ہے کہ مشکل سے سویرا ہوگا کیوں نہ اب وضع جنوں ترک کریں لوٹ چلیں اس سے آگے جو ہے جنگل وہ گھنیرا ہوگا یہ ضروری تو نہیں اتنا بھی خوش فہم نہ بن وہ زمانہ جو نہ میرا ہے نہ تیرا ہوگا اتنا بھی سنگ ملامت سے ڈرا مت ناصح سر سلامت ہے تو اس شہر کا ...

مزید پڑھیے

زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں

زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں کہ داستان محبت سنا رہا ہوں میں نہ پوچھ مجھ سے مری بے خودی کا افسانہ کسی کی مست نگاہی کا ماجرا ہوں میں کہاں کا ضبط محبت کہاں کی تاثیریں تسلیاں دل مضطر کو دے رہا ہوں میں پھر ایک شعلۂ پر پیچ و تاب بھڑکے گا کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4043 سے 5858