کہ در گفتن نمی آید
مری جاں گو تجھے دل سے بھلایا جا نہیں سکتا مگر یہ بات میں اپنی زباں پر لا نہیں سکتا تجھے اپنا بنانا موجب راحت سمجھ کر بھی تجھے اپنا بنا لوں یہ تصور لا نہیں سکتا ہوا ہے بارہا احساس مجھ کو اس حقیقت کا ترے نزدیک رہ کر بھی میں تجھ کو پا نہیں سکتا مرے دست ہوس کی دسترس ہے جسم تک ...